اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے نیپرا کی جانب سے سولر انرجی سے متعلق جاری کیے گئے نئے ضوابط کا سخت نوٹس لیتے ہوئے پاور ڈویژن کو فوری کارروائی کی ہدایت کر دی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ وہ نیپرا کے سامنے نظرثانی کی درخواست دائر کرے، بالخصوص اُن صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لیے جو پہلے ہی سولر سسٹم کے تحت کنٹریکٹس کر چکے ہیں، تاکہ موجودہ معاہدوں کو ہر صورت محفوظ بنایا جا سکے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سولر توانائی استعمال کرنے والے تقریباً 4 لاکھ 66 ہزار صارفین کا اضافی مالی بوجھ 3 کروڑ 76 لاکھ سے زائد اُن صارفین پر منتقل نہیں ہونا چاہیے جو مکمل طور پر نیشنل گرڈ سے بجلی حاصل کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے پاور ڈویژن کو ایک متوازن اور جامع حکمت عملی تیار کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
اس معاملے پر وزیراعظم کی زیر صدارت اسلام آباد میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت وفاقی وزرا احد خان چیمہ، عطااللہ تارڑ، علی پرویز ملک، سردار اویس خان لغاری، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، مشیر نجکاری محمد علی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں سولر پالیسی اور نئے ریگولیٹری فریم ورک کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔






