ملتان (سٹاف رپورٹر) پنجاب کی تعلیمی اور تدریسی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی جانب سے آپس میں اتحاد، فورم اور مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیے جانے کا اقدام اعلیٰ تعلیمی نظام کے لیے ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ آئینی و قانونی ماہرین کے مطابق یونیورسٹیاں خودمختار ادارے ضرور ہیں مگر یہ خودمختاری ہرگز یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ اپنے اپنے ایکٹس اور سٹیچوز سے ہٹ کر کسی غیر مجاز اتحاد یا الحاق کی شکل اختیار کریں۔ قانون کے مطابق ہر وائس چانسلر کو گورنر پنجاب بطور چانسلر اور حکومتِ پنجاب ایک مخصوص یونیورسٹی کے انتظامی سربراہ کے طور پر تعینات کرتی ہے، نہ کہ کسی مشترکہ پلیٹ فارم یا غیر اعلانیہ یونین کے نمائندے کے طور پر۔ وائس چانسلرز کا یہ دعویٰ کہ وہ تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے متحد ہو رہے ہیں، اس وقت مشکوک ہو جاتا ہے جب اس پورے عمل میں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب، پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن اور ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ یہی وائس چانسلرز ایک طرف تو اپنی جامعات میں اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشنز کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں، انہیں تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں اور یونین سازی کو قانون شکنی کہتے ہیں مگر خود کھلے عام ایک یونین سازی کے پہلے مرحلے کے طور پر فورم کی آڑ میں ایک ایسا اتحاد قائم کر لیتے ہیں جس کی نہ کوئی قانونی حیثیت ہے، نہ کوئی واضح آئینی جواز بلکہ یونیورسٹی اساتذہ اسے ایک پریشر گروپ کا نام دے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس مبینہ اتحاد میں ایسے متنازع افراد کی شمولیت بھی سامنے آئی ہے جن پر جعلی تجربات، جعلی تاریخِ پیدائش، حکومت کو گمراہ کر کے ملازمت حاصل کرنے اور دیگر سنگین الزامات عائد ہیں۔ ایسے افراد کا اعلیٰ تعلیمی پالیسی سازی کے نام پر ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہونا پورے نظام کی ساکھ پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے کہ اگر واقعی یہ فورم صرف اور صرف تعلیمی معیار، ریسرچ اور اعلیٰ تعلیم کی بہتری کے لیے قائم کیا گیا ہے تو پھر سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ قانونی و انتظامی نگران اداروں کو اس عمل سے باہر کیوں رکھا گیا؟ کیا جان بوجھ کر ان اداروں کو نظرانداز کیا گیا تاکہ کسی قسم کی جوابدہی، کنٹرول یا قانونی نگرانی سے بچنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جا سکے؟ قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ وائس چانسلرز کا اس طرح متحد ہو کر فیصلے کرنا نہ صرف اختیارات سے تجاوز کے زمرے میں آتا ہے بلکہ یہ حکومتِ پنجاب، گورنر پنجاب اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی گرفت کو بھی کمزور کرنے کی کوشش کے مترادف ہے۔ اب یہ سوال اپنی جگہ پوری شدت کے ساتھ موجود ہے کہ اس غیر معمولی اور متنازع اتحاد کا جواب وائس چانسلرز خود دیں گے یا پھر حکومتِ پنجاب، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور گورنر پنجاب بطور چانسلر اس سنگین معاملے پر یونیورسٹیوں کے اساتذہ کرام، فپواسا( فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹی اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن) اور اپوبٹا ( آل پاکستان یونیورسٹیز بی پی ایس ٹیچرز ایسوسی ایشن) کو اعتماد میں لائیں گے؟ ورنہ خاموشی کی صورت میں یہ تاثر مزید گہرا ہو گا کہ اعلیٰ تعلیم کے نام پر کچھ اور ہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔






