جنگوں اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، عالمی غذائی قیمتیں ساڑھے تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں-جنگوں اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، عالمی غذائی قیمتیں ساڑھے تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں-سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا تاریخی سہ فریقی دفاعی معاہدہ، ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا-سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا تاریخی سہ فریقی دفاعی معاہدہ، ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا-سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز اضافہ، فی تولہ 4 لاکھ 54 ہزار 336 روپے کا ہوگیا-سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز اضافہ، فی تولہ 4 لاکھ 54 ہزار 336 روپے کا ہوگیا-تحسین سکینہ کی دل کی مراد پوری ہوئی، عابدہ پروین صاحبہ نے باقاعدہ شاگردی میں لے لیا-تحسین سکینہ کی دل کی مراد پوری ہوئی، عابدہ پروین صاحبہ نے باقاعدہ شاگردی میں لے لیا-بہاول پور: صحافی پر بااثرافراد کا تشدد، انگلی توڑدی، صحافتی حلقوں کا شدید احتجاج-بہاول پور: صحافی پر بااثرافراد کا تشدد، انگلی توڑدی، صحافتی حلقوں کا شدید احتجاج

تازہ ترین

کوٹ ادو: ظالم تھانیدار کی سفاک تفتیشی بیٹی کا نجی ٹارچر سیل میں مانی پر غیرانسانی تشدد

کوٹ ادو (نامہ نگار) عمران مانی پولیس حراست ہلاکت کیس۔ تفتیشی سعیدہ خالق نے ایک نجی ٹارچر سیل میں لاکر عمران مانی کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا، الٹا لٹا کر لتر مارے، پاؤں کے تلووں پر ڈنڈے برسائے، پاخانے والی جگہ پر ڈنڈے پر سپرٹ لگا کر ڈالی گئی۔ سعیدہ خالق کا باپ ریٹائرڈ سب انسپکٹر خالق داد بھی ظالم تھانیدار تھا۔ بدعنوانی میں تعیناتی کے دوران کئی بار معطل ہوا۔ ملزموں پر تھرڈ ڈگری استعمال کرنے میں مشہور تھا، اب بیٹی بھی باپ کے نقشِ قدم پر گامزن ہے۔اس سلسلے میں تفصیل کے مطابق کوٹ ادو عمران مانی پولیس حراست ہلاکت کو پولیس اور ڈاکٹرز کی ملی بھگت سے پوسٹ مارٹم میں ہارٹ اٹیک کا رنگ دے کر کیس کلوز کرنے کی تمام کوششیں کی جا رہی ہیں۔ پہلے پولیس نے عمران مانی کی گرفتاری کے بعد سارا ملبہ انعم بشیر کے لواحقین پر ڈال دیا کہ پولیس پارٹی عمران مانی کو گرفتار کرکے تھانے لا رہی تھی، راستے میں گھات لگائے بیٹھے انعم بشیر کے لواحقین نے پولیس پارٹی پر حملہ کر دیا، ان کی حراست سے عمران مانی کو چھڑوا کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور ادھ موا چھوڑ کر فرار ہو گئے۔بعدازاں عمران مانی کو ہسپتال لے جانے کے بجائے سیدھے تھانے لے گئےجبکہ تھانے میں لگے کیمروں میں عمران مانی کی تھانے کے اندر آنے کی ویڈیو ہے، نہ جیل میں ہارٹ اٹیک ہونے کے بعد جیل سے ہسپتال لے جانے کی ویڈیو ہے۔ جب پولیس نے قتل اپنے گلے پڑتا دیکھا تو انعم بشیر کے لواحقین پر 302 کا پرچہ بنا دیا۔پولیس اپنے پیٹی بھائیوں کو بچانے کے لیے پوسٹ مارٹم کے لیے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال لے جایا گیا۔ میڈیکل رولز کے مطابق پولیس حراست میں قیدی کی ہلاکت کے پوسٹ مارٹم کے لیے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جاتا ہے جس میں سرجن، ایم ایس، ڈی ایچ کیو، فرانزک ایکسپرٹ ودیگر موجود ہوتے ہیں مگر عمران مانی کا پوسٹ مارٹم تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں کرایا گیا ایک میڈیکل آفیسر سے جو تفتیشی سعیدہ خالق کا سگا ماموں تھا۔اس نے دل، گردے، پھیپھڑے، تمام اعضاء کو میڈیکل رپورٹ میں تندرست قرار دیا اور کاز آف ڈیتھ ہارٹ اٹیک لکھی ہے۔ پوسٹ مارٹم کے دوران نہ ایم ایس موجود تھا نہ فرانزک ایکسپرٹ، صرف تفتیشی سعیدہ خالق کے ماموں نے پوسٹ مارٹم کیا۔پوری سٹوری میں پولیس اور ڈاکٹرز کے کردار مشکوک نظروں سے دیکھے جا رہے ہیں۔ عمران مانی ایک غریب دکاندار تھا، پیشہ نائی تھا، جس سے اپنے خاندان کی کفالت کرتا تھا۔ پولیس ٹاؤٹ ان کے ورثا سے تعزیت اور ہمدردی کے بہانے کیس کی پیروی نہ کرنے کی تاکید کر رہے ہیں مگر سوشل میڈیا اور وی لاگر اسے انصاف دلانے کے لیے پروگرام اور پوسٹیں کر رہے ہیں۔ عوام کی طرف سے پولیس اور ڈاکٹر کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور آئی جی پنجاب سے انصاف کی اپیلیں کی جا رہی ہیں کہ عمران مانی کے خاندان کو انصاف دیا جائے اور جوڈیشل انکوائری کی جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں