جنگوں اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، عالمی غذائی قیمتیں ساڑھے تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں-جنگوں اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، عالمی غذائی قیمتیں ساڑھے تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں-سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا تاریخی سہ فریقی دفاعی معاہدہ، ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا-سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا تاریخی سہ فریقی دفاعی معاہدہ، ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا-سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز اضافہ، فی تولہ 4 لاکھ 54 ہزار 336 روپے کا ہوگیا-سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز اضافہ، فی تولہ 4 لاکھ 54 ہزار 336 روپے کا ہوگیا-تحسین سکینہ کی دل کی مراد پوری ہوئی، عابدہ پروین صاحبہ نے باقاعدہ شاگردی میں لے لیا-تحسین سکینہ کی دل کی مراد پوری ہوئی، عابدہ پروین صاحبہ نے باقاعدہ شاگردی میں لے لیا-بہاول پور: صحافی پر بااثرافراد کا تشدد، انگلی توڑدی، صحافتی حلقوں کا شدید احتجاج-بہاول پور: صحافی پر بااثرافراد کا تشدد، انگلی توڑدی، صحافتی حلقوں کا شدید احتجاج

تازہ ترین

ایک مائنس ہوا تو کوئی بھی باقی نہیں رہے گا، حالات آپ کے کنٹرول میں نہیں آئیں گے، بیرسٹر گوہر

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر گفتگو میں خبردار کیا ہے کہ اگر کسی ایک کو مائنس کرنے کی کوشش ہوئی تو اس کا سلسلہ رکے گا نہیں بلکہ سب کو لپیٹ میں لے لے گا، اور پھر معاملات کسی کے قابو میں نہیں رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کاروباری دنیا نہیں جہاں دو میں سے ایک کو نکال دیا جائے تو دوسرا بچ جائے، یہاں ایک مائنس ہوا تو کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ گوہر نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی بہنوں پر واٹر کینن کا استعمال قابلِ مذمت ہے، “Enough is enough”۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی، جو بھی ملنے آتا ہے اسے واٹر کینن کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر ملاقات دو گھنٹے طویل بھی ہو جاتی تو اس سے ملک و قوم کا کیا نقصان ہو جاتا؟
بیرسٹر گوہر نے سوال اٹھایا کہ اگر عمران خان کی ایک ٹویٹ کو ملاقات روکنے کی وجہ بتایا جا رہا ہے تو پھر بشریٰ بی بی کے اہلِ خانہ جو میڈیا میں آہستہ آہستہ سامنے آرہے ہیں، ان کی ملاقاتوں میں رکاوٹ کیوں نہیں ڈالی جاتی؟
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، لیکن صورتحال ایسی نہ بن جائے جو کسی کے کنٹرول میں نہ رہے۔ ہم سسٹم کا حصہ اسی لیے ہیں تاکہ جمہوریت قائم رہے، اور ہم اس وقت تین کروڑ عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ روز صوبائی اسمبلی میں ایک قرار داد منظور ہوئی ہے، اور موجودہ صورتحال میں وفاق کی اکائیوں کو آمنے سامنے کھڑا کیا جا رہا ہے۔ حکومت پی ٹی آئی پر کون سا بین لگانے جا رہی ہے؟ سرٹیفیکیٹ ابھی تک تسلیم نہیں کیا گیا۔ اگر یہی رویہ برقرار رہا تو آئندہ ایک ماہ میں بھی حالات قابو میں نہیں رہیں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں