روزگار کے بحران پر پردہ نہیں ،حقیقت کا سامنا کیجیے


پاکستان بیوروِ شماریات کی تازہ محنت و روزگار رپورٹ نے جس بحث کو جنم دیا ہے، وہ محض اعداد و شمار کا اختلاف نہیں بلکہ ایک ایسے بحران کی طرف اشارہ ہے جو برسوں سے بڑھ رہا تھا اور اب کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ ۲۰۲۴۔۲۵ء کی یہ رپورٹ، جسے پالیسی سازی کا بنیادی ذریعہ قرار دیا جاتا ہے، اپنے اندر کئی ایسے تضادات اور خامیاں رکھتی ہے جو نہ صرف روزگار کی اصل صورتحال کو مسخ کرتی ہیں بلکہ حکومتی بیانیے کو بھی کمزور کرتی ہیں۔ سب سے بڑا تضاد بے روزگاری کی شرح ہے—لیبر فورس سروے اسے ۷ء۱ فیصد بتاتا ہے، جبکہ مردم شماری ۲۰۲۳ء کے مطابق یہ شرح ۲۲ء۵ فیصد ہے۔ یہ فرق محض تکنیکی غلطیوں یا نمونہ جاتی حدود کا نتیجہ نہیں ہو سکتا، بلکہ یہ ہماری معاشی منصوبہ بندی کی بنیادوں میں موجود خامیوں کا اظہار ہے۔ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ سروے میں گھر میں مرغیاں پالنے یا معمولی گھریلو کام کو “روزگار” کے زمرے میں کیوں رکھا گیا؟ کیا یہ اقدام بے روزگاری کی حقیقی صورتحال کو بہتر دکھانے کی کوشش ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہ ملک کے نوجوانوں، خواتین اور تعلیم یافتہ طبقات کے ساتھ ایک سنگین ناانصافی ہے، کیونکہ اوناّری کام یا گھریلو سرگرمی کو روزگار قرار دینا اس بحران کو چھپانے کی ناکام کوشش ہے جو پہلے ہی خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے۔اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ بے روزگاری گزشتہ چار برسوں میں ۶ء۳ فیصد سے بڑھ کر ۷ء۱ فیصد تک پہنچ گئی ہے، اور یہ ۲۱ برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔ اس عرصے میں بے روزگار افراد کی مجموعی تعداد میں ۳۱ فیصد اضافہ ہوا ہے اور اب ملک میں تقریباً ۵ء۹ ملین افراد باضابطہ طور پر بے روزگار ہیں۔ یہ صورتحال اس امر کا ثبوت ہے کہ ملکی معیشت ہر سال لیبر مارکیٹ میں شامل ہونے والے ۳ء۵ ملین نوجوانوں میں سے ایک بڑے حصے کو بھی جذب نہیں کر پا رہی۔ اوسط معاشی نمو دو فیصد سے بھی کم ہے، جس میں بڑھتے ہوئے خاندانوں، بڑھتے ہوئے شہروں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دباؤ کو شاید ہی کوئی جگہ ملتی ہو۔اس بحران کے سب سے زیادہ متاثر نوجوان اور خواتین ہیں۔ ۱۵ سے ۲۹ برس تک کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح کہیں زیادہ بلند ہے، جبکہ تقریباً دس لاکھ ڈگری ہولڈر نوجوان نوکری سے محروم ہیں۔ یہ ایک ایسا سماجی و معاشی بم ہے جس کا پھٹنا صرف وقت کا سوال ہے۔ تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان ہمیشہ ریاست سے مایوسی، عدم استحکام اور سیاسی بے چینی کی طرف مائل ہوتے ہیں، اور پاکستان پہلے ہی ایسی کیفیت کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔گزشتہ چند برسوں میں مہنگائی نے اجرتوں کے حقیقی مفہوم کو شدید متاثر کیا ہے۔ بظاہر تنخواہوں میں اضافہ ہوا ہے، لیکن حقیقی معنوں میں مزدور اور ملازم آج ۲۰۲۱ء کے مقابلے میں کہیں کم کما رہے ہیں۔ جب روزگار کم ہو، آمدنی گھٹے، مہنگائی بڑھے اور ضروریاتِ زندگی کا بوجھ دوگنا ہو جائے تو معاشرہ صرف غربت ہی نہیں، بلکہ محرومی اور بے چینی کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے۔ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ لوگ بڑے پیمانے پر زراعت چھوڑ کر شہروں کی طرف رخ کر رہے ہیں۔ زراعت میں روزگار ۳۷ء۴ فیصد سے کم ہو کر ۳۳ء۱ فیصد رہ گیا ہے۔ لوگ دیہات چھوڑ رہے ہیں، مگر شہروں میں انہیں کم اجرت کی غیر رسمی ملازمتوں، روزمرہ مزدوری اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ شہروں میں بےترتیب ہجرت نہ صرف بنیادی سہولیات پر دباؤ بڑھاتی ہے بلکہ سماجی بے چینی میں بھی اضافہ کرتی ہے۔علاقائی تفاوت بھی کہیں زیادہ نمایاں ہو چکا ہے۔ خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر صوبہ ہے جہاں بے روزگاری ۹ء۶ فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ پنجاب کی شرح ۷ء۱ فیصد، بلوچستان کی ۵ء۵ فیصد اور سندھ کی ۵ء۳ فیصد ہے۔ اس فرق سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ روزگار کے مواقع پورے ملک میں یکساں نہیں رہے اور بہت سے خطے پالیسی ترجیحات سے مسلسل محروم چلے آ رہے ہیں۔لیکن سب سے زیادہ چونکا دینے والا پہلو یہ ہے کہ ۱۷۹ء۶ ملین کام کرنے کی عمر کے افراد میں سے ۱۱۷ء۴ ملین افراد گھر کے اندر بلا معاوضہ کام کرتے ہیں۔ یعنی تین میں سے دو عورتیں نہ تعلیم حاصل کر سکتیں، نہ روزگار پا سکتیں، نہ معاشی آزادی کا کوئی امکان رکھتی ہیں۔ صنفی عدم مساوات نے روزگار کے بحران کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔یہ تمام حقائق اس بات کی شہادت ہیں کہ ملک میں صرف معاشی استحکام کا راگ الاپنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اصل مسئلہ معیشت کی وہ ساختی خامیاں ہیں جنہیں دہائیوں سے نظر انداز کیا جا رہا ہے: ناقص کاروباری ماحول، سرمایہ کاری کی کمی، صنعت کی زبوں حالی، زراعت میں تحقیق و ترقی کا فقدان، ہنرمندی کے مراکز کا معطل ہونا، خواتین کی شمولیت کے راستے میں رکاوٹیں، اور ریاستی پالیسیوں کا مسلسل انتشار۔اگر حکومت روزگار کے حقیقی بحران کو تسلیم کیے بغیر محض مصنوعی اعداد وشمار سے حالات بہتر دکھائے گی تو نہ غربت کم ہوگی، نہ معیشت کا پہیہ چلے گا اور نہ نوجوانوں کو مستقبل دکھائی دے گا۔ ملک کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک روزگار پیدا کرنے کے لیے سرمایہ کاری، صنعت، زراعت اور خدمات کے شعبوں میں بنیادی نوعیت کی اصلاحات نہ کی جائیں۔اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت روزگار کے بحران کو اولین قومی مسئلہ تسلیم کرے اور فوری طور پر ایسی پالیسی رائج کرے جو روزگار کے مواقع پیدا کرے، خواتین کی شمولیت بڑھائے، ہنر مندی کے مراکز کو مضبوط کرے، مقامی صنعت کو سہولت دے، اور نوجوانوں کے اعتماد کو بحال کرے۔ معاشی استحکام کا حقیقی معیار اسی وقت قائم ہوگا جب ہر گھر سے بے روزگاری کا سایہ کم ہو اور ہر فرد کو باعزت روزگار میسر آئے۔یہ بحران محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں، یہ کروڑوں افراد کی زندگیاں، خواب اور مستقبل کا سوال ہے۔ حکومت اگر آج حقیقت کا سامنا نہیں کرے گی تو کل یہ بحران اس کے قابو سے باہر ہو جائے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں