حکومتی معاملات شفافیت سے چلانے کی ضرورت ہے

پاکستان میں سابق حکومت کے دور میں ایک ‘سپشل انویسٹمنٹ فیسلی ٹیشن کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا اور اس کی ایک اپیکس کمیٹی بنائی گئی جس میں مسلح افواج پاکستان کے سربراہ جنرل عاصم منیر کو بھی بطور رکن نامزد کیا گیا- سابق وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف ہوں، موجودہ نگران وزیراعظم ہوں یا وفاقی فنانس ڈویژن کے ٹاپ بیوروکریٹس ہوں جن میں موجودہ نگران وفاقی وزیر برائے نجکاری فواد حسن بھی شامل ہیں نے پاکستان میں عرب ممالک کی طرف سے 20 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری مختلف شعبوں میں کیے جانے کا دعوا بھی کیا گیا تھا- 5 اکتوبر کو اسی خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے اجلاس کی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں نگران وفاقی وزیر تجارت گوہر اعجاز نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا تھا کہ 14 سال بعد پاکستان اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان آزادانہ تجارت کا معاہدہ ہوگیا ہے اور پاکستان پہلا ملک ہے جس سے خلیج تعاون کونسل مين شامل ممالک سے آزادانہ تجارت کا معاہدہ ہوا ہے۔ لیکن آج جب یہ ادارتی سطور لکھی جارہی ہیں تو میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان مجوزہ آزادانہ تجارت کے معاہدے – ایف ٹی اے پر نہ تو کوئی دستخط ہوئے اور نہ ہی اس پر کوئی پیش رفت ہوئی ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ مخص باہمی یادداشت پر دستخط ہوئے اور اس کے مطابق اگر ایف ٹی اے معاہدے کی شکل اختیار بھی کرلے گا تو یہ پاکستان اور عرب مالک کے درمیان چند ائٹم کی آزاد تجارت کا معاہدہ ہی رہے گا-
میڈیا رپورٹس کے مطابق حلیج تعاون کونسل میں شامل عرب ممالک میں سے سعودی عرب، کویت، یو اے ای اور قطر ایف ٹی اے سے کہین ویادہ ‘معاہدہ برائے دو طرفہ سرمایہ کاری – بی ٹی اے کو جلد حتمی شکل دینے کی مانگ کررہے ہیں جس میں ان ممالک نے پاکستان سے جن شعبوں میں عرب ممالک سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں ان میں وہ ‘غیرمعمولی مراعات فراہم کیے جانے کی مانگ کررہے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عرب ممالک پہلے سے زیر غور بی آئی ٹی کے مسودے ميں بڑی غیرمعمولی تبدیلیوں کو کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں اور انھوں نے ‘غیرمعمولی مراعات ‘ پر مشتمل بی ٹی اے کی منظوری سے ہی اپنی سرمایہ کاری کو مشروط کیا ہے۔ اس ساری تفصیل سے پاکستان کے اندر خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل” ادارے کی افادیت پر سوال اٹھانے والے سیکشن کی تنقید کو باوون بنادیا ہے۔ اور کئی پاکستانی اب یہ سوال بھی اٹھارہے ہیں کہ کیا ایک غیرمنتخب نگران سیٹ اپ کو یہ اختیار دیا جاسکتا ہے کہ وہ ‘دو طرفہ سرمایہ کاری معاہدے – بی آئی ٹی ‘ کے پہلے سے موجود مسودے میں بڑی تبدیلیاں لاکر عرب ممالک کو ‘غیر معمولی مراعات ‘ کے ساتھ سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کرے؟ یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ وہ غیر معمولی مراعات آحر ہیں کیا جس کی مانگ عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کار مانگ رہے ہیں؟
پاکستان کا عام آدمی پہلے ہی پاکستان کے قدرتی وسائل دریا، زیرزمین پانی، معدنیات، زرعی رقبوں، باغات، جنگلات پر قبضوں اور ایکولوجی کی تباہی پر مبنی سرمایہ کاری کے ماڈل پر سوال اٹھارہا ہے۔ اس کے ذہن میں سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ پڑوسی ملک بھارت ، بنگلہ دیش نے کیا اپنے قودرتی وسائل پر قبضہ اور ایکولوجی کی تباہی اجازت غیرملکی سرمایہ کاری کو دے رکھی ہے؟ ایک سوال اور بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ لائیو سٹاک، معدنیات، زراعت ، فارسٹری ان جیسے ديگر شعبوں میں جس سرمایہ کاری کے ڈھول بجائے جارہے ہیں کہیں ان کی آڑ میں جنوبی پنجاب ، اندرون سندھ، ، خیبر پختون خوا، بلوچستان میں کسانوں، مزارعین، ماہی گیروں وغیرہ کو تو زبردستی بے دخل نہیں کردیا جائے گا؟ لوگ کارپوریٹ فارمنگ کے تحت لاکھوں ایکٹر زمین لیے جانے اور اس کے منصوبے کو بھی شک کی نظروں سے دیکھ رہے ہیں- یہ کہا جارہا ہے کہ زرعی اجناس کی فصلوں کے سیکٹر میں خلیج تعاون کونسل سے تعلق رکھنے والے ممالک کی غیرمعمولی مراعات میں اس کارپوریٹ فارمنگ کے تحت ساری غذائی اجناس کو باہر لیجانے کا منصوبہ شامل ہے۔ اس سے پاکستان میں بہت بڑے غذائی بحران کا آغاز ہوسکتا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ایک طرف تو نگران حکومت کو ساری توجہ انتخابات پر دینے کی ضرورت ہے اور یہ بی ٹی اے جیسے معاہدوں میں ترمیم یا منظوری کا کام نئی انے والی منتخب حکومت پر چھوڑ دے۔ دوسرا اسے بی ٹی اے یا ایف ٹی اے ان کے مجوزہ ڈرافٹ پبلک کیے جانے چاہیں تاکہ عوام جان سکیں کہ سرمایہ کاری لانے کے نام پر کیا ہورہا ہے؟ اس سے افواہوں اور اندیشہ ہائے دور دراز کا خاتمہ ہوگا-

اکنامک اپ ڈیٹ رپورٹ:معیشت کساد بازاری کا شکارہے

وفاقی وزرات خزانہ کی آفیشل ویب سائٹ پر اکتوبر 2023-24 کی اکنامک اپ ڈیٹ رپورٹ اپ لوڈ کی گئی ہے – وفاقی فنانس ڈویژن کی اس رپورٹ میں حسب معمول منفی اور پریشان کن اشاریوں پر بات نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی ان کی وجوہات پر کوئی روشنی ڈالی گئی ہے۔ سب سے بڑھ کر اس رپورٹ میں پاکستان کی معشیت کے انتہائی کساد بازاری میں چلے جانے کی بات کھل کر نہیں کی گئی ہے جس کا سراغ مانیٹری سیکٹر میں ایم ٹو گروتھ اور پرائمری بیلنس کے بلند سطح پر منفی اشاروں سے صاف مل رہا ہے۔
رپورٹ میں معاشی اشاریوں میں جو خارجی معاشی اشاریے ہیں ان پر نظر ڈالنے سے پتا چلتا ہے کہ روآن مالیاتی سال کی پہلی ششماہی میں بیرونی ترسیلات زر میں پونے دو ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے۔ گزشتہ ششماہی سے یہ کم وبیش 20 فیصد کم بنتی ہے۔ ایسے ہی زر مبادلہ کے ذخائر میں 12ء59 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
بیرون ملک ترسیلات زر 6 ارب 30 کروڑ ڈالر (جولائی تا ستمبر 2023-24) جو کہ گزشتہ سال اسی دورانیہ میں 7 ارب 90 کروڑ ڈالر تھیں- یعنی 19ء8 فیصد کمی آئی ہے۔ برآمدات کا حجم 7 ارب ڈالر رہا جوگزشتہ سال کی اسی ششماہی میں 7 ارب 40 کروڑ ڈالر تھا یعنی براژدات میں پاکستان کو 5 فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ درآمدات 12 ارب 50 کروڑ الر کی ہوئیں جبکہ گزشتہ مالی سال یہ 16 ارب 40 کروڑ ڈالر پر تھیں- اس میں 23ء8 فیصد کمی آئی ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ حسارہ 2 ارب 30 کروڑ ڈالر سے کم ہوکر 90 کروڑ دالر رہ گیا ہے۔ اس میں 58 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری اس سال کی ششماہی مین 4 کھرب 2 ارب 30 کروڑ ڈالر ہوگئی ہے۔ جبکہ یہ گزشتہ سال 3 کھرب 49 ار8ب 80 کروڑ ڈالر تھی- اس میں 58 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایسے ہی پورٹ فولیو سرمایہ کاری کا حجم منفی سے مثبت 15 فیصد اضافے سے منفی 30 ارب 10 کروڑ سے 90 ارب 70 کروڑ ہوگیا ہے۔ کل غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے جو کزشتہ سال کی پہلی ششماہی میں 3 کھرب 19 ارب 70 کروڑ تھی اور اس سال کی ششماہی میں 4کھرب 12 ارب ڈالر ہوگئی ہے۔ لیکن پاکستان کے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں پونے دو ارب ڈالر کی کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ اس وقت پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 7 ارب 50 کروڑ 8 لاکھ ڈالر ہیں جبکہ گزشتہ سال 2022-23 کی 27 اکتوبر کو یہ 14 ارب 7 کروڑ 82 لاکھ روپے تھے۔ اس میں سٹیٹ بینک پاکستان کےپاس 5 ارب 90 لاکھ جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس 5 ارب 75 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ہیں- گزشتہ سال 27 اکتوبر کو دالر کی روپوں میں قیمت 221 روپے 50 پیسے اور اس سال 27 اکتوبر کو 280 روپے 57 پجیسے تھی- جبکہ 4 نومبر 2023ء کو یہ 284 روپے 7 پیسے ہوچکی ہے۔ یعنی محض 8 دنوں میں امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 4 اوپے 7 پیسہ مہنگا ہوگیا ہے۔ اس سے لامحالہ پاکستان کے بیرون ملک قرضوں کا حجم بھی بڑھے گا۔
پاکستانی معیشت کا جو مالیاتی سیکٹر ہے اس کے اشاریے ظاہر کرتے ہیں کہ اس میں گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی کے مقابلے میں اس ششماہی میں کافی بہتری دیکھنے کو ملی ہے۔ ایف بی آر نے کزشتہ سال کی پہلی ششماہی کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ ریونیو اکٹھا گیا ہے جو 20 کھرب 42 ارب روپے ہے۔ جبکہ نان ٹیکس فیڈرل ریونیو 2 کھرب 11 ارب روپے کی نسبت 4 کھرب 53 ارب روپے (114 فیصد اضافہ) اکٹھا ہوا ہے۔ جبکہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام فنڈ جس مين صوبوں یو دی جانے والی گرانٹس بھی شامل ہیں پہلی ششمائی مين 53 ارب روپے جاری جبکہ گزشتہ سال کی پہلی ششماہی مين یہ 75 ارب روپے تھے – پی ایس ڈی پی فنڈ میں 29 فیصد کمی کی گئی ہے۔
لیکن دوسری طرف حکومت کا مالیاتی خسارہ 17ء6 فیصد اضافے سے کزشتہ سال کے 8 کھرب 19 ارب روپے کے مقابلے میں 9 کھرب 63 ارب روپے ہوگیا ہے۔ اور اس طرح سے حکومت کا پرائمری بیلنس 1کھرب 35 ارب روپے سے بڑھ کر 4 کھرب 17 ارب روپے ہوچکا ہے۔ جو 208ء9 فیصد زیادہ ہے۔(پرائمری بیلنس سے مراد حکومت جو کما رہی ہوتی ہے اور جو خرچ کررہی ہوتی ہے کے درمیان فرق ہوتا ہے لیکن اس میں قرضوں پر ادا کیا جانے والا سود شامل نہیں ہوتا)
اکتوبر اکنامک اپ ڈیٹ میں اگر مانیٹری سیکٹر کے معاشی اشاریے دیکھیں دیکھیں تو گزشتہ مالیاتی سال کی پہلی ششماہی میں زرعی شعبے کو فراہم کیے گئے 3 کھرب 83 ارب 70 کروڑ روپے کے قرضوں کے مقابلے میں اس سال جولائی تا ستمبر 4 کھرب 99 ارب 30 کروڑ روپے فراہم کیے گئے اور 30ء 1 فیصد اضافہ بنتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف نجی کاروباری شعبے کو قرض کی فراہمی کا باب مسلسل تنزلی کا شکار ہے- گزشتہ مالی سال میں یہ منفی 94ء3 تھا تو اب یہ بڑھ کر منفی 291ء 1 ہوچکا ہے۔
اکتوبر اکنامک اپ ڈیٹ 2023-24 کے مطابق ایم ٹو کی گروتھ جو کزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں صفر تھی اب وہ منفی صفر اعشارہ آٹھ (0ء08) ہوگئی ہے جس کا صاف مطلب ہے کہ پاکستان کی معشیت بڑی تیوی سے کساد بازاری اور سست رفتاری کا شکار ہے۔ جبکہ گزشتہ مالی سال جولائی تا 22 اکتوبر تک پالیسی ریٹ 15 فیصد رہا تھا اور اس سال 2023-24 میں 23 سمتبر 2023ء تک اسے 22 فیصد کی شرح پر رکھا گيا ہے۔ اس کا سیدھا سادا مطلب پاکستان کی معشیت کا مزید سست رفتار ہونا ، بے روزگاری میں اضافہ ہونا ہے۔
کنزیومر پرائس انڈیکس /سی پی آئی گزشتہ مالیاتی سال 2022-23 میں 23 فیصد تھا جو اس سال کے ستمبر کے مہینے میں بڑھ کر 31ء4 فیصد ہوچکا ہے۔ اس طرح سے افراط زر میں 35ء4 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا ہے جبکہ اس سال کی ششماہی میں افراط زر 29 فیصد نوٹ کیا گیا جبکہ کزشتہ سال کی پہلی ششماہی میں یہ 25ء1 فیصد تھا- یہ 15ء53 فیصد زائد ہے۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں عام آدمی کو کم از کم مجموعی طور پر مہنگائی کی بلند ترین شرح سے سکون پانے کا کوئی موقعہ میسر نہیں آرہا-
بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ – ایل ایس ایم اب منفی شرح سے نکل کر مثبت شرح کی طرف آیا ہے جو اجھی بات تو ہے لیکن یہ مثبت رجحان صرف صرف صفر اعشاریہ پانچ فیصد ہے یعنی ایک فیصد بھی بڑھوتری نہیں ہوئی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں