کتنی بیٹیاں اور…؟
یہ سوال اب چیخ بن کر اس ملک کی فضا میں گونج رہا ہے۔ ہر چند ماہ بعد کسی ماں، بہن یا بیٹی کی لاش پنکھے سے لٹکی ہوئی ملتی ہے، اور ہر بار ایک ہی کہانی لکھی جاتی ہے—’’خودکشی‘‘۔ ہر بار ایک ہی ڈرامہ رچایا جاتا ہے—’’گھر والوں نے کچھ نہیں کیا‘‘۔ اور ہر بار ایک ہی باپ بین کرتے ہوئے کہتا ہے—’’میری بیٹی نے خود کو نہیں مارا، اسے مارا گیا ہے‘‘۔ثانیہ زہرا بھی انہی بیٹیوں میں سے تھی۔صرف بیس برس کی، دو معصوم بچوں کی ماں، اور تیسرے بچے کی امید لیے ہوئے۔جو ایک دن موت کے حوالے کر دی گئی۔اور اسے بھی خودکشی کہا گیا۔مگر اب عدالت نے فیصلہ دے دیا ہے—ثانیہ کا قاتل اس کا اپنا شوہر تھا۔اسے پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔اس کے بھائی اور ماں کو عمر قید ہوئی ہے۔یہ فیصلہ ایک عدالتی دستاویز نہیں، یہ ایک غم زدہ باپ کے آنسوؤں کا جواب ہے۔ ایک ماں کی نوحہ گری کی بازگشت ہے۔ یہ یقین دلانے کی ایک ہلکی سی کوشش ہے کہ شاید کبھی انصاف مل سکتا ہے—اگرچہ بہت دیر سے، بہت ٹوٹے ہوئے دلوں کے ساتھ۔مگر سوال یہ ہے کہ یہ سلسلہ کب رکے گا؟حوا کی بیٹیاں کب تک یوں قتل ہوتی رہیں گی؟کتنی ثانیائیں، کتنی زینبیں، کتنی نوریں، کتنی سعدیاں…؟کب تک قاتلوں کو “خودکشی” کا غلاف اوڑھا کر دکھایا جاتا رہے گا؟کب تک قتل کو رسّی کی گرہ کے پیچھے چھپایا جائے گا؟کب تک معاشرہ ان قاتلوں کو ’’گھر کی بات‘‘ کہہ کر معاف کرتا رہے گا؟ثانیہ کا قتل کوئی انوکھی کہانی نہیں۔ہمارے ملک میں عورت کا قتل سب سے آسان جرم ہے۔اسے مارو، پنکھے سے لٹکا دو، پولیس کو بلاؤ، کہہ دو ’’خودکشی‘‘—اور بس۔کوئی سوال نہیں، کوئی تفتیش نہیں، کوئی شک نہیں۔ایک عورت کی زندگی، اس کی مرضی، اس کی سانسیں—سب فالتو۔اُسے جینے کا حق کبھی مکمل نہیں ملا—اور مرنے کے بعد بھی اس کی موت کو اس کا اپنا فیصلہ کہہ کر تقدس دے دیا جاتا ہے۔ثانیہ کے کیس میں یہ ڈرامہ فوراً پکڑا گیا۔پھانسی کی رسی جو ’’مضبوط‘‘ تھی، چھونے پر کھل گئی۔جسم پر تشدد کے نشانات تھے۔ڈاکٹر نے فوراً بتا دیا کہ وقتِ موت کچھ اور ہے، اور کہانی کچھ اور۔باپ نے آواز اٹھائی، پولیس نے ایف آئی آر کاٹی، عدالت نے فیصلہ سنایا۔لیکن ملک کی کتنی بیٹیاں ایسی ہیں جن کے باپ کے پاس آواز نہیں، وسائل نہیں، کوئی وکیل نہیں؟کتنی لڑکیاں ایسی قبروں میں دفن ہیں جن کی موت کو ’’ناراضگی‘‘ کا انجام کہہ کر دبا دیا گیا؟کتنی لڑکیاں ایسی ہیں جن کی چیخیں گھر کی چار دیواری سے باہر نہیں نکل پاتیں؟کتنے قاتل گھروں میں بیٹھے ہیں، عزت دار شہریوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں؟ثانیہ کے کیس میں سزا ہوئی ہے—لیکن یہ سزا ثانیہ کو تو واپس نہیں لا سکتی،اور نہ ہی اُس سے جڑی ہر سانس، ہر امید، ہر ہنسی واپس لا سکتی ہے۔ہم یہ کڑوا سچ کب مانیں گے کہ اس معاشرے میں عورت اپنے قاتل کے ساتھ ہی رہتی ہے؟کہ اس کے قاتل اس کے اہلِ خانہ ہی ہوتے ہیں؟کہ اس کے قاتل کا پہلا دفاع یہی ہوتا ہے کہ ’’اس نے خود کو مارا ہے‘‘؟اور معاشرہ—جو خود بھی قاتلانہ خاموشی میں شریک ہوتا ہے—فوراً مان لیتا ہے۔یہ عدالتی فیصلہ ایک مثال ہے—لیکن قانون صرف مثالوں سے نہیں، نظام سے چلتا ہے۔اور ہمارا نظام عورتوں کے خلاف ہے۔اس میں ہر دروازہ مردوں کے لیے کھلتا ہے اور عورتوں کے لیے بند ہو جاتا ہے۔ہر شک عورت پر جاتا ہے اور ہر شک سے بچ نکلنے کا راستہ مرد کے پاس ہوتا ہے۔اگر اس ملک میں عورتوں کے قتل رکنے ہیں،تو انصاف کو صرف سزا دینے سے نہیں، سوچ بدلنے سے شروع کرنا ہوگا:گھریلو تشدد جرم ہے—گھر کی بات نہیں۔عورت کی موت تفتیش کا بیانیہ ہے—غیرت کا نہیں۔شادی عورت کی جائیداد نہیں بناتی—اسے انسان رکھتی ہے۔عورت کا جسم، اس کی رضا، اس کی زندگی—سب اس کی اپنی ملکیت ہیں۔ہمیں یہ سچ ماننا ہوگا کہ جب تک معاشرہ مرد کو مطلق اختیار دے گا،عورت کی موت کو ’’حادثہ‘‘ اور ’’خودکشی‘‘ کہہ کر دبا دیا جائے گا۔ثانیہ کی قبر پر روتا ہوا باپ صرف اپنی بیٹی کا ماتم نہیں کر رہا—وہ پورے معاشرے کی وحشت کا نوحہ پڑھ رہا ہے۔وہ ہر عورت کی بے بسی کی گواہی دے رہا ہے۔وہ یہ بتا رہا ہے کہ ہمارے گھروں کی دیواریں عورتوں کے خون سے رنگی ہوئی ہیں—بس ہم دیکھنا نہیں چاہتے۔آج عدالت نے سچ بول دیا۔مگر یہ سچ ہر بیٹی کے لیے کب بولے گا؟یہ انصاف ہر گھر تک کب پہنچے گا؟یہ خوف ہر قاتل کے دل میں کب اترے گا؟ہم کب کہیں گے:’’بس اب بہت ہو چکا، ہماری بیٹیاں اب مزید نہیں مریں گی۔‘‘ثانیہ زہرا… تم جیت گئیں۔تمہارے باپ کی آواز جیت گئی۔مگر تمہارے قاتل کی سزا اس ملک کی اجتماعی سزا ہے—یہ بتانے کے لیے کہ ہم سب تمہارے قاتلوں کے شریک جرم تھے۔کاش کسی دن اس ملک میںایک بھی بیٹی قتل نہ ہو،اور کسی باپ کو یہ نہ کہنا پڑے:’’میری بیٹی نے خودکشی نہیں کی—اسے مارا گیا ہے۔‘‘






