مظفرگڑھ ( بیورو رپورٹ)ضلع مظفرگڑھ کے سابق ڈپٹی کمشنر میاں عثمان علی کے دورِ تعیناتی (2023-2024) کی آڈٹ رپورٹ میں سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے روزنامہ قوم کی سابق ڈپٹی کمشنر میاں عثمان علی کے دور میں شائع شدہ کرپشن کے حوالے سے تمام خبریں درست ثابت ہوئیں۔ یاد رہے کہ روزنامہ قوم میں ان کی کرپشن کی تفصیلات شائع ہونے کے چند ہفتوں بعد ہی ان کا تبادلہ ہو گیا تھا اور ان دنوں وہ لاہور میں محکمہ سپورٹس اور امور نوجوانان میں ایڈیشنل سیکرٹری کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال14 اگست کے حوالے سے منعقدہ ایونٹ میں ناچ گانے، غیر ضروری تزئین و آرائش اور ذاتی تشہیری اخراجات پر پانچ ملین روپے سے زائد رقم خرچ کی گئی جو کہ قانونی ضابطوں کے خلاف اور قومی خزانے پر ناجائز بوجھ تھی۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر نے مزید غیر مجاز سرگرمیوں پر اضافی رقم خرچ کروائی جس سے کل پانچ ملین سے زائد روپے کی غیر قانونی ادائیگیاں بھی سامنے آئی ہیں۔ یہ تمام معاملات ڈسٹرکٹ ناظر کی نگرانی میں سر انجام پاتے رہےجس سے کرپشن کی ساری کارروائی واضح اور غیر ذمہ دارانہ انداز میں انجام پائی۔یہ معاملہ روزنامہ’’قوم‘‘نے اپنی پندرہ اگست 2024 کی اشاعت میں بے نقاب کیا تھا۔ آج سوا سال بعد آڈٹ رپورٹ نے روزنامہ قوم کی مذکورہ خبر کو سو فیصد درست ثابت کر دیا ہے۔مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر نے اختیارات کاناجائز استعمال کرتے ہوئے ضابطہ اور قواعد کو نظر انداز کیا۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام پیڈا ایکٹ کے تحت قابلِ گرفت ہے اور اس پر سخت محکمانہ کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ سابق ڈپٹی کمشنر میاں عثمان علی نے خبر شائع ہونے کے بعد روزنامہ قوم کے نمائندے کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا اور ان کے گھر پولیس کے چھاپے مروائے گئے۔ سابق ڈپٹی کمشنر میاں عثمان علی کا حکم تھا کہ کسی بھی صورت میں روزنامہ قوم کے نمائندے کو گرفتار کر کے لایا جائے تاکہ ان کے خلاف مذہبی منافرت پھیلانے کا جھوٹا مقدمہ درج کیا جائے جس پر پولیس نے دو دن میں چھ مرتبہ مظفرگڑھ کے مختلف علاقوں میں روزنامہ قوم کے نمائندے کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے۔ بالاآخر روزنامہ قوم کی جدوجہد درست ثابت ہوئی اور میاں عثمان علی کے تبادلہ ہونے کے بعد اس آڈٹ رپورٹ نے ان کی کرپشن کو بے نقاب کر دیا۔ مظفرگڑھ میں گزشتہ کئی سال سے تعینات ڈسٹرکٹ ناظر راشد شیروانی ماضی میں ہر ڈپٹی کمشنر کی آنکھ کا تارا رہے اور ہر طرح کی کرپشن میں شامل رہے تاہم موجودہ ڈپٹی کمشنر نے ان سے کچھ فاصلہ رکھا ہوا ہے۔








