1999 کی ایک بھیانک یاد آج بھی عبرت بن کر میرے دل و دماغ میں تازہ ہے۔ اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور آج کے وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف نے مقبرہ جہانگیر کے لیے ایک علیحدہ راستہ بنانے کا حکم صادر فرمایا۔ ایک شاہی حکم، جو کئی گھرانوں کی زندگیاں اجیرن کر گیا۔ ریلوے لائن کے آر پار موجود چند گھروں کو راستے کی رکاوٹ سمجھا، بلڈوزر آئے، دیواریں گرائیں، چھتیں اڑائیںاور کئی خواب ملبے تلے دب گئے۔ جب وہ گھر گرائے جا رہے تھے، ایک غریب عورت نے بے بسی سے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر فریاد کی: یا اللّہ! جس نے ہمیں گھروں سے نکالا ہے، تُو اسے بھی اس کے گھر سے نکال دے اور چشم فلک نے فیصلہ سنادیا تو چند ہفتوں بعد ہی 12 اکتوبر 1999 کو وہی حکمران اپنے اقتدار سے محروم، اپنے گھروں سے بے گھر اور قید خانوں کی چھت تلے پائے گئے۔ کیا یہ محض اتفاق تھا؟ یا مظلوم کی آہ عرش ہلا چکی تھی؟
شیخ سعدی کی دانائی اور حکمت کی باتیں، حکایات کہ جنہیں ہم نے بھلا دیا۔ انہوں نے کہا تھا:
اگر بادشاہ رعایا کے باغ سے ایک سیب توڑ لے گا تو اس کی سپاہ پورا باغ جڑوں سے اکھاڑ کر لے جائے گی۔ کیا آج یہی کچھ نہیں ہو رہا۔ اقتدار کے تکبر کے اسیر حکمرانوں اور افسر شاہی کے رویے بتا رہے ہیں کہ ہم نے شیخ سعدی کی نصیحت کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ ہمارے ہاں ظلم اب رواج بلکہ ایک فیشن بن چکا ہے۔ طاقت کے مظاہرے کے لیے کمزوروں پر چڑھائی معمول کی بات ہو چکی ہے۔
داتا دربار کے قریب آپریشن تلخ سچائی میں انسانیت کا جنازہ ہے اور یہ جنازہ حال ہی میں داتا دربار کے قریب پرندوں کی مارکیٹ پر راتوں رات آپریشن کے ذریعے اٹھایا گیا کہ ہزاروں پرندے اور جانور مار دیئے گئے ان کو آزاد بھی تو کیا جا سکتا تھا، کچھ کو محفوظ جگہ منتقل بھی کیا جا سکتا تھا مگر افسوس ایسا نہ ہو سکا۔
کیا یہ ظلم نہیں کہ ایک طرف وہ لوگ جو چند ٹکوں کے عوض ان جانوروں کو قید میں رکھتے تھےاور دوسری طرف وہ اہلکار جنہوں نے انہیں’’آزاد‘‘کرنے کے نام پر موت کے گھاٹ اتار کی زندگی کی ڈور ہی سے آزاد کر دیا؟
آپریشن کے دوران نہ تو دکانداروں کو مہلت دی گئی، نہ ہی پرندوں کو زندگی۔ ویسے بھی جس معاشرے میں انسانوں کے حقوق کی کوئی وقعت نہیں، وہاں بے زبان مخلوق کے حقوق کی کون پرواہ کرے گا؟
بدقسمتی سے ہمارا معیار ہمیشہ سے ہی دوہرا رہا۔ سندھ میں ایک جاگیردار نے محض اپنی زمین میں داخل ہونے پر ایک اونٹ کی ٹانگ کاٹی تھی تو پورا ملک چیخ اٹھا تھا۔ مگر داتا دربار کے قریب ہزاروں پرندے، کبوتروں اور جنگلی جانوروں کا قتلِ عام ہوا تو کسی ادارے نے آواز نہیں اٹھائی۔
کیا یہ ظلم کم سنگین تھا؟ کیا یہ پرندے جنہیں قرآن میں بھی اللہ کی نشانی قرار دیا گیا، کسی احساس کے قابل نہ تھے؟
یہاں تو وہ کبوتر بھی مار دیے گئے جو جنگلی یا ’’لٹھے‘‘ کہلاتے ہیں، جی وہی جنہیں خانہ کعبہ بھی پناہ دیتا ہے۔ کیا ہمارے ہاں انسانیت خود ہی مر چکی ہے۔ کیا اداروں کی خاموشی جرم کی تائید نہیں۔ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کہاں ہے؟ جانوروں کے حقوق کے علمبردار کہاں ہیں؟ این جی اوز اور سوشل میڈیا کے’’انسان دوست‘‘ کارکنان کیوں خاموش ہیں؟
کیا ظلم صرف تب ظلم ہوتا ہے جب کیمرہ آن ہو؟
ربِ کائنات کی عدالت جہاں کوئی سفارش نہیں چلتی اور جس کے کھربوں کیمرے ہر وقت اور ہر پل کی ریکارڈنگ کرتے رہتے ہیں، وہاں اس کیس کی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہوگی؟
دنیا کی عدالتوں میں فائل دب سکتی ہےمگر عرشِ الٰہی کی عدالت میں نہیں۔ ان بے زبانوں کی فریاد یقیناً آسمان تک پہنچ چکی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مظلوم کی آہ تاخیر سے ہی سہی مگر اثر ضرور دکھاتی ہے۔ جنہوں نے یہ ظلم کیا، وہ اگر سمجھ رہے ہیں کہ معاملہ ختم ہو گیا تو نہیں حضور، قدرت کے ہاں ہر ظلم کا حساب محفوظ ہے۔ جنوبی پنجاب کا وہ واقعہ مجھے آج بھی یاد ہے جب ایک شخص نے دشمنی میں مخالف کی بھینسیں مار دی تھیں اور چند دن بعد خود ایسی اذیت ناک موت مرا کہ لوگ لرز اٹھے۔ کہا جاتا ہے کہ قومیں تب زوال کا شکار ہوتی ہیں جب ان کے دلوں سے اجتماعی رحم ختم ہو جائے۔
ہم نے ظلم کو معمول، بے حسی کو رویہ اور ناانصافی کو نظام بنا اور اپنا لیا ہے۔
اگر ہم نے اب بھی سبق نہ سیکھا تو تاریخ ہمیں ایک بار پھر اسی انجام سے دوچار کرے گی۔ جی وہی جو 1999 میں ہوا تھا، وہی جو ہر ظالم کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔
ظلم کے دن گنے جاتے ہیں مگر
مظلوم کی آہ کبھی خالی نہیں جاتی۔







