وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت: کیش لیس معیشت کے تمام اہداف مقررہ وقت میں حاصل کیے جائیں

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کیش لیس معیشت کے تمام اہداف مقررہ مدت میں حاصل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
کیش لیس معیشت کے موجودہ اقدامات کا جائزہ اجلاس وزیراعظم کی زیر صدارت ہوا، جس میں وفاقی وزرا احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، شیزہ فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں وزیراعظم کو کیش لیس معیشت کے تحت حکومتی اقدامات پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ بجلی اور گیس کے بلز کی ادائیگی کے لیے راست QR کوڈز کا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس سے اربوں روپے کے بل اب ڈیجیٹل طور پر ادا کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ایک کروڑ ڈیجیٹل والٹس کے قیام پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا، جو رواں ماہ کے اختتام تک مکمل طور پر فعال ہو جائیں گے اور مستحقین کو آئندہ قسط انہی کے ذریعے منتقل کی جائے گی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ اسلام آباد میں سرکاری خدمات کے لیے موبائل ایپلی کیشن کو راست کے نظام سے منسلک کر دیا گیا ہے اور ادائیگیاں اسی پلیٹ فارم کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔ نئے کاروبار کے لائسنس کے اجرا کو ڈیجیٹل ادائیگیوں سے مشروط کر دیا گیا ہے اور شہر بھر کی دکانوں پر راست QR کوڈز کے ذریعے ادائیگی کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ملک میں ڈیجیٹل بینکنگ کے قیام کے لیے لائسنس جاری کیے جا رہے ہیں۔
بریفنگ میں مزید کہا گیا کہ ان اقدامات سے ملک کی 68 فیصد آبادی مالی شمولیت (فنانشل انکلوژن) کا حصہ بن چکی ہے، جبکہ آئندہ برس اس شرح میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مالی شمولیت کے دائرہ کار کو مزید بڑھایا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ کیش لیس معیشت کے اقدامات ملکی معیشت کی پائیدار ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی جانب بڑھ رہی ہے اور پاکستان کو بھی دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ روزِ اول سے پاکستان کو ڈیجیٹل نیشن بنانے کے اقدامات ترجیح دی گئی ہیں، اور اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
وزیراعظم نے اجلاس میں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزارت خزانہ، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی، ایف بی آر، اسٹیٹ بینک اور دیگر اداروں کی کاوشوں کو سراہا اور انہیں قابل تحسین قرار دیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں