جنگوں اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، عالمی غذائی قیمتیں ساڑھے تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں-جنگوں اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، عالمی غذائی قیمتیں ساڑھے تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں-سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا تاریخی سہ فریقی دفاعی معاہدہ، ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا-سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا تاریخی سہ فریقی دفاعی معاہدہ، ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا-سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز اضافہ، فی تولہ 4 لاکھ 54 ہزار 336 روپے کا ہوگیا-سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز اضافہ، فی تولہ 4 لاکھ 54 ہزار 336 روپے کا ہوگیا-تحسین سکینہ کی دل کی مراد پوری ہوئی، عابدہ پروین صاحبہ نے باقاعدہ شاگردی میں لے لیا-تحسین سکینہ کی دل کی مراد پوری ہوئی، عابدہ پروین صاحبہ نے باقاعدہ شاگردی میں لے لیا-بہاول پور: صحافی پر بااثرافراد کا تشدد، انگلی توڑدی، صحافتی حلقوں کا شدید احتجاج-بہاول پور: صحافی پر بااثرافراد کا تشدد، انگلی توڑدی، صحافتی حلقوں کا شدید احتجاج

تازہ ترین

سینیئر وکلا اور ریٹائرڈ ججز کا 27ویں آئینی ترمیم پر سپریم کورٹ سے مطالبہ

اسلام آباد: ستائیسیویں آئینی ترمیم کے حوالے سے سینیئر وکلا اور ریٹائرڈ ججز نے چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھ دیا ہے۔
خط میں چیف جسٹس سے سپریم کورٹ کی فل کورٹ میٹنگ بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
خط پر جسٹس (ر) مشیر عالم، مخدوم علی خان، منیر اے ملک، عابد زبیری، جسٹس (ر) ندیم اختر، اکرم شیخ، انور منصور، علی احمد کرد، خواجہ احمد حسین اور صلاح الدین احمد کے دستخط شامل ہیں۔
سینیئر وکلا اور ریٹائرڈ ججز نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ ترمیم پر اپنا مؤقف پیش کرنے کا حق رکھتی ہے اور اس معاملے پر ردعمل دینا ضروری ہے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ غیر معمولی حالات میں لکھا گیا ہے، اور سپریم کورٹ اپنی تاریخ میں سب سے بڑے چیلنج کا سامنا کر رہی ہے۔ کسی بھی سول یا فوجی حکومت نے سپریم کورٹ کو اپنا ماتحت ادارہ بنانے میں کامیابی حاصل نہیں کی۔
خط میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر یہ پہلی کوشش ہے تو سپریم کورٹ کے لیے اس پر ردعمل دینا لازمی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں