بہاولپور: طالبہ زیادتی کیس، ڈی پی او کا نوٹس، انکوائری شروع، نمبردار اور پولیس کو وختہ

بہاولپور (کرائم سیل) روزنامہ قوم کی خبر پر پانچویں جماعت کی طالبہ13 سالہ علیشبہ زیادتی کیس میں ڈی پی او بہاولپور کا سخت نوٹس،ایس پی انویسٹیگیشن جمشید علی شاہ کو انکوائری افسر مقرر کر دیا۔ ترجمان بہاولپور پولیس کے مطابق انکوائری کے بعد قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جبکہ پولیس اور شرعی نکاح کروانے میں ملوث نمبردار رمضان اب معاملے کو’’مینج‘‘ کرنے کے لیے مدعیوں پر دباؤ اور دھمکیوں کے بعد منت سماجت میں مصروف ہے۔ بہاولپور کےکئی سیاست دانوں سمیت متعدد ایس ایچ اوز کا لاڈلا اور آنکھ کا تارا سمجھے جانے والے رمضان نمبردار کے کرتوت شائع ہونے پر کئی متاثرین نے روزنامہ قوم سے رابطہ کر کے تفصیلات سے آگاہ کرکے ثبوت فراہم کر دیئے۔دستیاب ریکارڈ سے صاف پتہ چلتا ہے کہ رمضان نمبردار پولیس کی مدد سے پہلے بھی اس قسم کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز روزنامہ قوم نےخبرشائع کی تھی کہ ڈیرہ عزت کی بستی لاڑ کی 13 سالہ پانچویں جماعت کی طالبہ علیشبہ بی بی جس کے ساتھ 45 سالہ شہزاد ڈرا دھمکا کر کئی ماہ تک زیادتی کرتا رہا ۔والدین کو بچی کے چھ سات ماہ کے حاملہ ہونے پر پتا چلا جس کے بعد تھانہ کینٹ میں مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کیا ۔پرچہ کروانے میں رمضان نمبردار کا کردار بہت اہم تھا جس نے بعد میں ایس ایچ او کے ساتھ ملی بھگت کرتے ہوئے مظلوم خاندان کو اس وجہ سے ڈرایا دھمکایا کہ تمہارے اوپر بھی مقدمہ ہو جائے گا ۔تم نے سات آٹھ ماہ اس بات کو چھپایا کیوں ہے؟ اس کے بعد گرفتار ملزم شہزاد کا زیادتی کا شکار علیشبہ بی بی کے ساتھ شرعی نکاح کر دیا اور وٹے میں متاثرہ کے بھائی کو رشتہ دے کر معاملہ دبانے کی کوشش کی گئی۔ روزنامہ قوم کے گزشتہ روز اس ظلم کی داستان کو اجاگر کرنے پر ڈی پی او بہاولپور نے ایس پی انویسٹیگیشن جمشید شاہ کو انکوائری افسر مقرر کر دیا ۔ترجمان بہاولپور پولیس کے مطابق ملوث تمام کرداروں کے خلاف انکوائری کے بعد کارروائی ہوگی اور جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ 13 سالہ چھ ماہ کی حاملہ بچی کا نہ قانونی اور نہ شرعی طریقے سے نکاح ہو سکتا ہے جو کہ ایک تعزیراتی جرم ہے اس پر کارروائی کیوں نہیں کی گئی تو ان کا جواب تھا کہ انکوائری کے بعد کارروائی ہوگی۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز خبر لگنے کے بعد مدعیہ نے روزنامہ قوم کو بتایا کہ تھانہ کینٹ کی پولیس نے مجھے اپنے خاوند کے ہمراہ متاثرہ بچی کو گھر چھوڑ کر تھانے بلایا ہے جس کے بعد تھانہ کینٹ کے اندرونی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ متاثرہ خاندان کو ڈرا دھمکا اور ورغلا کر میڈیا سے بات کرنے سے منع کرتے ہوئے تمام تر معاملات کو مینج کرنے کی کوششوں میں پولیس اور نمبردار اپنے حواریوں کے ساتھ مصروف ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق 13 سالہ بچی کے نکاح میں ملوث افراد کے علاوہ نکاح خواں، گواہوں پر مقدمہ درج کیا جانا بنتا ہے مگر ڈی پی او بہاولپور انکوائری کے بعد کارروائی کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ رمضان نمبردار پہلے بھی کئی مرتبہ مختلف نوعیت کے مقدمات مختلف تھانوں میں کروا کر بھاری پیسے لے کر صلح کرنے کی شہرت رکھتا ہے جبکہ گزشتہ روز موقف میں بھی اس نے پہلے سے بچی کے شرعی نکاح کا دعویٰ کیا تھا جو کہ روزنامہ قوم کو متاثرہ علیشبہ بی بی اور اس کی والدہ نے اپنے ویڈیو بیانات میں جھوٹا ثابت کر دیا تھا۔بہاولپور کے عوامی سماجی سیاسی و انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت صحافیوں اور وکلا کی بڑی تعدادنے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے 13 سالہ بچی کے ساتھ ہونے والے اس ظلم پر فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ بچی اس کے والدین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔ اس کیس کی انکوائری میں چائلڈ پروٹیکشن بیورو سمیت خواتین اور بچوں کے حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں کو شامل کر کے تمام تر حالات کا جائزہ لیا جائے کیونکہ بعض حلقے اتنی چھوٹی بچی کے ساتھ زیادتی کرنے اور تخفیف جرم کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کا پرزور مطالبہ کر رہے ہیں ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں