ڈیرہ: عدالتوں کی ناک تلے شہریوں کی جیب پر ڈاکہ، 300 والا سٹامپ 500 روپے میں فروخت

ڈیرہ غازی خان (بیورورپورٹ )سٹامپ فروشوں کی کرپشن کے چرچے، شہریوں کا سخت ردِعمل ۔ڈیرہ غازی خان کے سٹامپ فروشوں نے بدعنوانی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تقریباً تین سو کے قریب سٹامپ فروش ایسے ہیں جو غیر قانونی طور پر شہریوں سے بھاری رقوم وصول کر رہے ہیں رپورٹس کے مطابق جن سٹامپ کی سرکاری قیمت محض تین سو روپے مقرر ہے، وہی سٹامپ اب پانچ سو روپے تک میں فروخت کیے جا رہے ہیں۔ اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث بعض سٹامپ فروشوں نے مبینہ طور پر ہر ماہ بیس سے تیس ہزار روپے تک رشوت لینے کا سلسلہ معمول بنا لیا ہےاور اس کے باوجود متعلقہ انتظامیہ نے تاحال کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔شہریوں نے الزام لگایا ہے کہ سٹامپ فروش بغیر لائسنس کے کام کر رہے ہیں اور بعض اہلکاروں کی پشت پناہی سے یہ دھندہ جاری ہے۔ عدالتوں اور سرکاری دفاتر کے اطراف میں یہ سٹامپ فروشی نہ صرف شہریوں کی جیبوں پر ڈاکا ہے بلکہ انتظامی غفلت کی ایک بڑی مثال بھی بن چکی ہے۔ایڈووکیٹ خرم شہزاد غوری، شاہد خان اور وسیم ایڈووکیٹ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ڈیرہ غازی خان ڈسٹرکٹ کورٹس اور تحصیل کمپلیکس کے اطراف بدعنوانی کی یہ صورتِ حال انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام سے ناجائز پیسے بٹورنے والے ان عناصر کے خلاف فوری کارروائی ہونی چاہیے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ضلعی انتظامیہ نے بروقت نوٹس نہ لیا تو وکلاء برادری احتجاجی لائحہ عمل طے کرے گی۔ایڈووکیٹ خرم شہزاد غوری نے کہا کہ یہ عمل نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ عدالتی احاطے کے تقدس کے بھی خلاف ہے۔ “جو لوگ شہریوں کو لوٹ رہے ہیں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے اور ان کے تمام لائسنس منسوخ کیے جائیں، انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا۔شاہد خان ایڈووکیٹ نے ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ایک تحقیقات کمیٹی تشکیل دیں جو سٹامپ فروشوں کی فہرست تیار کرے اور معلوم کرے کہ کون لوگ اس کاروبار کے پیچھے ہیں وسیم ایڈووکیٹ نے کہا کہ اگر ضلعی حکومت نے غفلت برتی تو یہ بدعنوانی مزید بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹامپ فروشوں کے خلاف مؤثر کارروائی کے بغیر شہریوں کو انصاف نہیں مل سکتا۔شہریوں نے بھی ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں، تاکہ عدالتوں کے اطراف میں جاری کرپشن کا سلسلہ بند ہو سکے اور عوام کو ریلیف مل سکے۔مقامی ذرائع کے مطابقاس معاملے پر جلد ہی ایک انکوائری رپورٹ تیار کی جا رہی ہے جو اعلیٰ حکام کو پیش کی جائے گی، تاکہ ان بدعنوان عناصر کے خلاف سخت کارروائی ممکن ہو۔

شیئر کریں

:مزید خبریں