ترنڈہ محمد پناہ(نمائندہ خصوصی،نامہ نگار،خبرنگار) کراچی ایئرپورٹ پر امیگریشن اہلکاروں کی جانب سے مبینہ طور پر ناروا سلوک اور من مانی کے باعث عمرہ زائرین اور بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والے درجنوں مسافروں کو ایک بار پھر سفر سے روک دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق رحیم یار خان، خانپور، صادق آباد، لیاقت پور، احمد پور، بہاولنگر، حاصل پور، راجن پور، ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ، بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے مسافر ورک ویزہ، وزٹ ویزہ، فیملی وزٹ ویزہ اور کنفرم ریٹرن ایئر ٹکٹس کے ہمراہ دبئی، سعودی عرب اور قطر روانہ ہونے آئے تھے، تاہم گزشتہ روز بھی کراچی امیگریشن عملے نے انہیں یہ کہہ کر آف لوڈ کردیا کہ وہ پنجاب کے ایئرپورٹس سے سفر کریں۔ متاثرہ مسافروں کا کہنا ہے کہ ان کے تمام کاغذات مکمل تھے لیکن امیگریشن عملہ غیر ضروری سوالات، کاغذات میں بے جا نقص اور ہوٹل بکنگ و شومنی کے غیر متعلقہ تقاضے کرکے انہیں پریشان کرتا رہا۔ فیملی وزٹ ویزے پر اپنے اہل خانہ کے پاس جانے والی فیملیز سے بھی امیگریشن نے ہوٹل بکنگ طلب کی جبکہ ان کے پاس متعلقہ خاندان کی جانب سے جاری وزٹ ویزے موجود تھے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ اہلکاروں کے ہتک آمیز رویے، سخت لہجے اور بے بنیاد اعتراضات نے نہ صرف انہیں ذہنی اذیت میں مبتلا کیا بلکہ ان کے لاکھوں روپے کے نقصان کا سبب بھی بنے، کئی مسافروں کی ایئر ٹکٹس اور ہوٹل بکنگ ضائع ہو گئی۔ شہریوں نے شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امیگریشن کا یہ طرزِ عمل نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ قومی وقار کے منافی بھی ہے۔ متاثرہ مسافروں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وزیرداخلہ اور وفاقی حکومت سے فوری نوٹس لینے، انکوائری کرانے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں معزز پاکستانی شہریوں کو ایسے رویوں اور مالی نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔






