بہاولپور (تحقیقاتی رپورٹ) سابقہ ڈائریکٹر ایف آئی اے ملتان زون خالد انیس کے دورِ تعیناتی میں پورے ملتان زون کے مختلف تھانوں میں تعینات ایس ایچ اوز اور تفتیشی افسران نے اپنے ہوم سٹیشن پر تعیناتی کے دوران سیاسی و سماجی رابطے اتنے مضبوط کر لیے ہیں کہ ڈی جی ایف آئی اے کے احکامات ملتان زون کی رینجوں تک پہنچتے پہنچتے ہی دم توڑ جاتے ہیں۔ذرائع کے مطابق ہوم اسٹیشن پر تعینات ایف آئی اے افسران نے مختلف رینجوں میں اپنی مضبوط اور مخصوص لابیاں قائم کر رکھی ہیں۔ ان لابیوں کی سہولت کاری ڈپٹی ڈائریکٹرز مخصوص حصہ لے کر کرتے ہیں، جبکہ جو ڈپٹی ڈائریکٹر اس سہولت کاری سے انکار کرے تو طاقتور تفتیشی افسران ان کے خلاف منفی ہتھکنڈے استعمال کر کے انہیں تبدیل کروانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس کی کئی مثالیں جنوبی پنجاب میں موجود ہیں جہاں کثیر تعداد میں افسران اپنے ہوم اسٹیشن پر تعینات ہیں اور ایف آئی اے تھانوں میں سیاہ و سفید کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔مزید انکشاف ہوا ہے کہ ان ایس ایچ اوز اور تفتیشی افسران نے اپنے مخصوص پرائیویٹ افراد بھی اپنے ساتھ شامل کر رکھے ہیں جو ان کے جائز و ناجائز کاموں میں ہر وقت مددگار رہتی ہے۔ یہی پرائیویٹ افراد بعض رومانی طبیعت کے افسران کے معاشقوں میں بھی ان کے رازدار ہیں اور ان کی ذاتی خواہشات بھی پوری کرتے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے ان پرائیویٹ افراد کا اثر و رسوخ مزید بڑھ جاتا ہے۔ یہی پرائیویٹ افراد ایف آئی اے کے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے مختلف محکموں میں اپنا تعارف ایف آئی اے اہلکاروں کے طور پر کراتے ہیں۔ذرائع کے مطابق یہ لابیاں سیاسی سرپرستی کے تحت شریف شہریوں پر بے بنیاد مقدمات درج کروا کر مخالفین کو دبانے کا بھی کام کرتی ہیں۔ بعد میں مقدمات خارج بھی ہو جائیں تو ان کے خلاف کارروائی ممکن نہیں ہوتی کیونکہ انہیں ملتان زون کی اعلیٰ سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔بڑے مالیاتی اسکینڈلز، ریڈز کے دوران بھاری رقوم، غیر ملکی کرنسی اور پرائز بانڈ کی خرد برد کے معاملات میں بھی ڈیلز کے ذریعے رقوم ہضم کرنے کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں مگر آج تک کسی ایس ایچ او یا تفتیشی افسر کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں ہو سکی۔یہ تمام تر تفصیلات دو سال سے بہاولپور کے مقامی ایف ائی اے کے ایس ایچ او کی سیاسی سفارش پر کی گئی انتقامی کاروائی کے خلاف ایف ائی اے افسران اور عدالتوں کے چکر کاٹ کر انصاف کے حصول کے لیے کوشاں ریٹائرڈ سرکاری ملازم محمد موسیٰ نے بتلائیں۔یہ مخصوص لابیاں پاسپورٹ آفس، واپڈا اور جنوبی پنجاب میں ہنڈی، انسانی اسمگلنگ اور جعلی ادویات کے کاروبار میں سہولت کاری کرتے ہیں جسکی وجہ سے ان کے لیے یہی پرائیویٹ افراد بہترین ذریعہ آمدن ثابت ہو رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ایماندار، بااصول اور میرٹ پسند ڈی جی ایف آئی اے چاہیں تو ملتان زون، ڈیرہ غازی خان، ملتان اور بہاولپور میں اپنے ہوم اسٹیشن پر تعینات تفتیشی افسران کے ریکارڈ کی چھان بین کر کے اصل حقائق سامنے لا سکتے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ ایماندار افسران کو مختلف مقامات پر تعینات کرنے کے احکامات جاری کر کے اس منظم نیٹ ورک کو توڑا جا سکتا ہے۔







