ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ، طبی غفلت سے سول جج کا انتقال، سینئر ڈاکٹر معطل

ڈیرہ غازی خان (ڈسٹرکٹ رپورٹر ) سول جج ساجدہ محبوب کیس کی انکوائری کمیٹی نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال کے سینئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر محمد ابراہیم کو مبینہ غفلت اور نااہلی کے الزامات پر معطل کر دیا ہے۔ اس حوالے سے محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس میں فوری طور پر معطلی کے احکامات نافذ کیے گئے ہیں۔جاری کردہ حکم نامے کے مطابق ڈاکٹر محمد ابراہیم، جو بی ایس-18 کے ریگولر سینئر میڈیکل آفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، کو پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ 2006 کے تحت معطل کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ان کے خلاف غفلت اور ناقص کارکردگی کے شواہد سامنے آنے پر یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔ مزید برآں انہیں فوری طور پر اپنے عہدے سے الگ کر کے محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق یہ کارروائی سول جج ساجدہ محبوب کے کیس میں سامنے آنے والی مبینہ طبی غفلت کے تناظر میں کی گئی ہے، جس پر عوامی اور عدالتی سطح پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ انکوائری کمیٹی نے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات پیش کیں، جن کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا گیا دوسری جانب ہسپتال انتظامیہ نے اس معاملے پر اپنا موقف بھی پیش کیا ہے۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) کا کہنا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ انکوائری کے عمل میں مکمل تعاون کر رہی ہے اور تمام تر کارروائی میرٹ پر کی جا رہی ہے۔ ایم ایس کے مطابق، “ہماری اولین ترجیح مریضوں کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا ہے، اور اگر کسی بھی سطح پر غفلت ثابت ہوتی ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر ابراہیم کی معطلی بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتال میں علاج معالجے کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں اور کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ایم ایس کا کہنا تھا کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد مزید ذمہ داران کے خلاف بھی کارروائی کا امکان موجود ہے اگر ان پر الزامات ثابت ہوتے ہیں۔واضح رہے کہ اس کیس نے مقامی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی ہے اور عوام کی جانب سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔یاد رہے کہ سرکاری سطح پر جاری کیے گئے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ دستاویز سسٹم سے تیار کی گئی ہے اور اس کی تصدیق کے لیے کیو آر کوڈ یا دیے گئے آن لائن لنک کے ذریعے بھی جانچ پڑتال کی جا سکتی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں