جھنگ یونیورسٹی سنگین بحران کا شکار، اکیڈمک کونسل غیرفعال، ڈگریاں مشکوک

ملتان (سٹاف رپورٹر) جنوبی پنجاب میں ملتان کے قریب واقع شہر جھنگ کی ایک سرکاری یونیورسٹی سنگین انتظامی اور تعلیمی بحران کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ یونیورسٹی کے اساتذہ اور ملازمین نے اجتماعی طور پر مریم نواز شریف کو ایک بھرپور اور سخت ترین نوعیت کا خط لکھ کر فوری مداخلت کی اپیل کر دی ہے، جس میں ادارے کی موجودہ صورتحال کو “تباہی کے دہانے” سے تعبیر کیا گیا ہے۔ خط میں کیے گئے انکشافات کے مطابق، وائس چانسلر کی تقرری کے بعد سے یونیورسٹی ترقی کے بجائے مسلسل تنزلی کا شکار رہی ہے۔ اساتذہ کے مطابق، ہزاروں طلبہ قیادت کے منتظر ہیں مگر انتظامیہ کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے۔ الزام عائد کیا گیا ہے کہ پورے دورِ تعیناتی میں واحد نمایاں کام ایک کچن کا افتتاح رہا، جبکہ تعلیمی اور انتظامی معاملات مکمل جمود کا شکار رہے۔ سب سے تشویشناک پہلو یہ سامنے آیا کہ یونیورسٹی کا اکیڈمک کونسل، جو کسی بھی تعلیمی ادارے کا بنیادی ستون ہوتا ہے، ایک بار بھی طلب نہیں کیا گیا۔ اس کے باعث نصاب، تدریسی اصلاحات اور دیگر تعلیمی فیصلے مکمل طور پر معطل ہو چکے ہیں۔ اساتذہ کے بقول، “اکیڈمک کونسل کے بغیر یونیورسٹی صرف ایک عمارت رہ جاتی ہے، اور یہاں تو وہ عمارت بھی خطرناک حالت میں کھڑی ہے۔” خط میں عمارت کی خستہ حالی کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جہاں ستونوں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور دوسری منزل کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس حوالے سے تحریری طور پر آگاہ کرنے کے باوجود کوئی اقدام نہیں کیا گیا، جس سے روزانہ ہزاروں طلبہ کی جان خطرے میں ہے۔ انتظامی سطح پر بھی صورتحال نہایت سنگین بتائی گئی ہے۔ یونیورسٹی میں مستقل رجسٹرار، خزانچی اور کنٹرولر امتحانات جیسے اہم عہدے 2024 سے خالی پڑے ہیں، جس کے باعث طلبہ کو ڈگریوں کے اجرا میں شدید تاخیر کا سامنا ہے۔ والدین، جنہوں نے اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں، اب شدید بے یقینی کا شکار ہیں۔ مزید برآں، یونیورسٹی کی 2286 کنال اراضی پر قبضہ مافیا کے ناجائز تسلط کا انکشاف بھی کیا گیا ہے۔ متعلقہ حکام کی ہدایات کے باوجود اس زمین کو واگزار کروانے کے لیے کوئی مؤثر کارروائی نہ ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔تعلیمی معیار میں گراوٹ بھی ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ماضی میں منظور شدہ 18 شعبہ جات میں سے 4 اپنی منظوری کھو چکے ہیں، جبکہ کمپیوٹر سائنس اور مینجمنٹ جیسے اہم شعبے بھی متعلقہ اداروں کی منظوری سے محروم ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال میں زیرِ تعلیم طلبہ کی ڈگریوں کی حیثیت مشکوک ہو گئی ہے، جو مستقبل میں ایک بڑے تعلیمی سانحے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ خط میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کا ذکر بھی نہایت افسوسناک انداز میں کیا گیا ہے۔ طلبہ کو صاف پانی تک میسر نہیں، نکاسی آب کا نظام ناقص ہے، جبکہ الزام لگایا گیا ہے کہ انتظامیہ نے اپنے دفاتر کے لیے الگ سہولیات فراہم کر رکھی ہیں۔ اساتذہ اور ملازمین نے اس تمام صورتحال کو ادارے کے وقار، طلبہ کے مستقبل اور عوامی اعتماد کے لیے تباہ کن قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، جن میں وائس چانسلر کی معطلی، اعلیٰ سطحی انکوائری، عمارت کا ہنگامی معائنہ، زمین کی واگزاری، مستقل انتظامی تقرریاں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی شامل ہیں۔ یہ خط نہ صرف ایک ادارے کی بدحالی کی داستان بیان کرتا ہے بلکہ پورے تعلیمی نظام کے لیے ایک لمحہ فکریہ بھی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا حکام اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیتے ہیں یا یہ ادارہ واقعی خاموشی سے زوال کی طرف بڑھتا رہتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں