ججز کی کمی، پنجاب میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 16 لاکھ سے متجاوز، انصاف متاثر-ججز کی کمی، پنجاب میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 16 لاکھ سے متجاوز، انصاف متاثر-بی زیڈ یو: وفاقی نوٹیفکیشن کا سہارا، رجسٹرار کے بھائی سمیت کئی افسران کی غیر قانونی ترقی-بی زیڈ یو: وفاقی نوٹیفکیشن کا سہارا، رجسٹرار کے بھائی سمیت کئی افسران کی غیر قانونی ترقی-تلمبہ زیادتی کیس: مریم نواز کا نوٹس، حنا پرویز بٹ نگرانی پر مامور، ڈیل پر ڈھیل ناکام-تلمبہ زیادتی کیس: مریم نواز کا نوٹس، حنا پرویز بٹ نگرانی پر مامور، ڈیل پر ڈھیل ناکام-رجسٹری برانچ ملتان: کرپشن، وسیقہ نویس واجد رضا اور بھائی کا ریمانڈ، اہم انکشافات متوقع-رجسٹری برانچ ملتان: کرپشن، وسیقہ نویس واجد رضا اور بھائی کا ریمانڈ، اہم انکشافات متوقع-ویمن یونیورسٹی ملتان: کمشنر کی سخت وارننگ، وائس چانسلر کو سینڈیکیٹ اجلاس سے روک دیا-ویمن یونیورسٹی ملتان: کمشنر کی سخت وارننگ، وائس چانسلر کو سینڈیکیٹ اجلاس سے روک دیا

تازہ ترین

بڑھاپے میں دائمی امراض سے بچنا چاہتے ہیں؟ بس یہ سادہ غذائی عادت اپنائیں

ہارورڈ ٹی ایچ چان اسکول آف پبلک ہیلتھ کی ایک طویل المدت تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ درمیانی عمر میں صحت بخش غذائی عادات اپنانے سے بڑھاپے میں مختلف دائمی امراض کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ تحقیق میں ایک لاکھ سے زائد افراد کی غذائی عادات اور صحت کا 30 سال تک جائزہ لیا گیا۔ اس تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ سبزیوں، پھلوں، مچھلی اور دودھ سے بنی اشیاء کا معتدل استعمال اور الٹرا پراسیسڈ فوڈز سے پرہیز کرنے والے افراد 70 سال کی عمر تک کسی بڑے دائمی مرض سے محفوظ رہنے کے زیادہ امکانات رکھتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق اچھی غذائی عادات اپنانے والے افراد میں امراض قلب، بلڈ پریشر، ذیابیطس، کینسر اور فالج جیسے امراض لاحق ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس زیادہ چکنائی والے گوشت، میٹھے مشروبات اور فروٹ جوسز کا استعمال کرنے والے افراد میں بڑھاپے میں بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پھل، سبزیاں، سالم اناج، گری دار میوے اور دالیں جسمانی اور ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اچھی غذائی عادات اپنانے سے نہ صرف لمبی زندگی ممکن ہے بلکہ بڑھاپے میں بھی صحت مند رہنا آسان ہو جاتا ہے۔ یہ تحقیق جرنل نیچر میڈیسن میں شائع ہوئی ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس موضوع پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا بچپن یا نوجوانی میں ناقص خوراک کے اثرات کو درمیانی عمر میں صحت بخش خوراک سے ریورس کیا جا سکتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں