یونیورسٹی پروفیسرز، سابق افسر 9 تعلیمی بورڈز کے سربراہ مقرر، سلیکشن پر تحفظات

ملتان (سہیل چوہدری سے) پنجاب کے نو تعلیمی بورڈز میں طویل عرصے بعد مستقل چیئرمینوں کی تقرری کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے، تاہم اس تقرری کے لیے حکومت کی جانب سے منتخب کیے گئے افراد کا تعلق سکول اور کالج ایجوکیشن کے بجائے یونیورسٹیوں اور انٹیلی جنس بیورو سے ہے، جس نے تعلیمی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ گزشتہ ساڑھے تین سال سے یہ بورڈز مستقل سربراہوں سے محروم تھے اور انتظامی امور متعلقہ کمشنرز چلا رہے تھے، مگر اب جب مستقل چیئرمین مقرر ہوئے ہیں تو ان کی علمی و پیشہ ورانہ شناخت نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے ذرائع کے مطابق، راولپنڈی تعلیمی بورڈ کے لیے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے پروفیسر طاہر محمود کو منتخب کیا گیا ہے، جبکہ لاہور بورڈ کی کمان ڈاکٹر بدرالاسلام کو سونپی گئی ہے۔ فیصل آباد بورڈ میں ڈاکٹر اقصیٰ شبیر، ملتان بورڈ میں ڈاکٹر رانا بنیامین، سرگودھا بورڈ میں اقبال محمود، گوجرانوالہ بورڈ میں اشتیاق احمد، ساہیوال بورڈ میں ڈاکٹر احمد منیب، بہاولپور بورڈ میں ڈاکٹر نسیم اور ڈیرہ غازی خان بورڈ میں عباس حیدر کو چیئرمین تعینات کیا گیا ہے ۔اس فہرست میں سب سے اہم اور چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ ان تمام نامزد افراد کا تعلق یا تو یونیورسٹی کی تعلیمی کیڈر سے ہے یا پھر وہ انٹیلی جنس بیورو جیسے سیکورٹی ادارے سے وابستہ رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف یہ بات خوش آئند ہے کہ بورڈز کو مستقل سربراہ مل گئے، وہیں دوسری طرف ماہرین تعلیم اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ ان افراد کو اسکولوں اور کالجوں کے امتحانی نظام کے بارے میں کوئی عملی تجربہ حاصل نہیں ہے ۔خود کار طریقے سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ جب انٹیلی جنس ادارے کا کوئی افسر یا یونیورسٹی کا پروفیسر، جس کا تدریسی اور انتظامی تجربہ اعلیٰ تعلیم تک محدود ہے، ثانوی اور اعلیٰ ثانوی سطح کے امتحانات کے انعقاد اور نتائج کی شفافیت کو یقینی بنانے میں کتنا کامیاب ہو سکتا ہے؟ امتحانی بورڈز کا اصل چیلنج لاکھوں طلباء کے امتحانات کو منصفانہ طریقے سے منعقد کروانا اور ڈیٹا کی بے شمار پیچیدگیاں سنبھالنا ہے، جس کا تعلق سکول ایجوکیشن کے مخصوص مسائل اور طلباء کی نفسیات سے ہے۔ یونیورسٹی کا ماحول اور وہاں کے امتحانی نظام کا ڈھانچہ اس سے یکسر مختلف ہے۔اس ضمن میں یہ بات بھی اہم ہے کہ حکومت نے اس اہم فیصلے کے لیے تعلیمی بورڈز کی موجودہ سفارشات یا ان کی ضروریات کو کس حد تک مدنظر رکھا، یہ واضح نہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ محض اس لیے کہ یہ عہدے خالی پڑے تھے، انہیں کسی بھی طرح بھر دیا گیا، چاہے اس کے لیے باہر کے شعبوں سے لوگ لائے گئے ہوں۔ اس طرزِ عمل سے تعلیمی بورڈز کے وقار اور ان کے تکنیکی تقاضوں کو نظرانداز کرنے کا شدید خطرہ ہے۔اگرچہ ان تقرریوں کا مقصد بورڈز میں نئے خیالات اور سخت نظم و ضبط لانا ہو سکتا ہے، لیکن کسی بھی تعلیمی ادارے کی کامیابی کا انحصار اس کی قیادت کی مہارت اور متعلقہ شعبے کی گہری سمجھ پر ہوتا ہے۔ انٹیلی جنس بیورو کا افسر چاہے اپنے شعبے میں کتنا ہی کامیاب کیوں نہ ہو، اسے امتحانی بورڈ کی پیچیدہ مشینری چلانے کا جوہر حاصل نہیں ہے، اور یونیورسٹی کا پروفیسر بھی ان گریڈز کے طلباء کے مسائل اور امتحانی پرچوں کی معیاری ترتیب سے واقفیت نہیں رکھتا۔مزید برآں، نتائج کی شفافیت کے لیے ایک موثر مانیٹرنگ سسٹم، پائیدار ٹیکنالوجی اور ایک تجربہ کار ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے، جسے کوئی نیا آنے والا شخص یک دم حاصل نہیں کر سکتا۔ اس طرح کی تقرریاں ایک طرف تو تعلیمی بورڈز کے تسلسل کو توڑتی ہیں، تو دوسری طرف ان اداروں کے اندر بیٹھے ہوئے تجربہ کار افسران کو ویسے ہی نظرانداز کر دیا گیا ہے، جو شاید ان عہدوں کے زیادہ اہل تھے۔ اس فیصلے کو تعلیمی اصلاحات کی بجائے ایک انتظامی ایڈہاک ازم قرار دیا جا سکتا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ نئے چیئرمین اس چیلنج سے کیسے نمٹتے ہیں اور کیا وہ اپنے تجربے کی اس خلا کو پر کر پاتے ہیں یا پھر آنے والے مہینوں میں امتحانی نظام میں بگاڑ کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں، جس کے اثرات لاکھوں طلباء کی مستقبل کی زندگیوں پر مرتب ہوں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں