ہوسٹن (نمائندہ خصوصی) پاکستانی کمیونٹی کے مختلف افراد سے ملاقات کے دوران بیرونِ ملک پاکستانیوں کے کردار، پاکستان کے تشخص و وقار، امیگریشن قوانین، مبینہ جرائم اور پاکستانی شناختی دستاویزات خصوصاً NICOP کے حوالے سے اہم تحفظات اور سوالات سامنے آئے۔ملاقات کے دوران اس امر پر زور دیا گیا کہ دنیا بھر میں لاکھوں پاکستانی محنت، دیانت اور قانون پسندی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور اپنے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں، تاہم چند افراد کے مبینہ غیرقانونی یا غیرذمہ دارانہ اقدامات سے پوری پاکستانی کمیونٹی اور پاکستان کے تشخص کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ہوسٹن میں پاکستانی کمیونٹی کے بعض افراد سے گفتگو کے دوران کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کے حوالے سے بھی مختلف شکایات سامنے آئیں۔ پاکستانی کمیونٹی کے بعض افراد نے امریکہ کے U.S. Immigration and Customs Enforcement (ICE) کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی شخص کے خلاف سنگین قانونی یا امیگریشن معاملات کا مستند ریکارڈ موجود ہو، خصوصاً اگر اسے criminal grounds پر deport کیا گیا ہو، تو متعلقہ امریکی اداروں کو قانون کے مطابق اس کے ریکارڈ کا جائزہ لینا چاہیے۔کمیونٹی میں بعض لوگ ICE کو غیر رسمی طور پر دیسی برف بھی کہتے ہیں، تاہم ادارے کا سرکاری نام Immigration and Customs Enforcement (ICE) ہے۔کمیونٹی کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ کسی بھی شخص کے خلاف کارروائی افواہوں یا ذاتی شکایات کی بنیاد پر نہیں بلکہ پولیس ریکارڈ، عدالتی فیصلوں، امیگریشن ریکارڈ اور دیگر قابلِ اعتماد شواہد کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ اگر کسی فرد کے خلاف جرم ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے تاکہ قانون کی پابندی کرنے والی پاکستانی کمیونٹی کا اعتماد برقرار رہے۔پاکستانی کمیونٹی کے بعض افراد نے مطالبہ کیا کہ جن افراد کے NICOP پہلے سے بنے ہوئے ہیں، ان کے بارے میں بھی جہاں قابلِ اعتماد قانونی وجوہات یا شواہد موجود ہوں، مناسب جانچ پڑتال کی جائے، جبکہ نئے NICOP کے اجرا کے وقت درخواست گزار کی شناخت، فراہم کردہ معلومات اور متعلقہ ریکارڈ کی مکمل verification یقینی بنائی جائے۔کمیونٹی کے مطابق اگر کسی فرد کے بارے میں بیرونِ ملک سنگین جرم کا قابلِ اعتماد سرکاری ریکارڈ موجود ہو تو پاکستانی متعلقہ اداروں کو قانون کے مطابق اس معاملے کا جائزہ لینا چاہیے۔







