لاہور(بیورورپورٹ)حکومت پنجاب کی جانب سے پاکستان ایگریکلچرل سٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن یعنی پاسکو سے 8 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدنے کے معاملے پر پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن نے تحریکِ التوا جمع کرا دی۔اپوزیشن رکن اعجاز شفیع کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک التوا کے متن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت پنجاب نے پاسکو سے 8 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدنے کے لیے باضابطہ خط لکھا ہے۔ اس سے قبل حکومت کے وزرا اور ترجمان مسلسل یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ پنجاب کے پاس اپنی ضرورت سے زائد گندم کے ذخائر موجود ہیں۔تحریک میں کہا گیا ہے کہ حکومتی وزرا یہ بھی کہتے رہے کہ رواں سال گندم کی بمپر فصل ہوئی ہے اور خریداری کے تمام اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں۔سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر صورتحال یہی تھی تو پھر جولائی میں اچانک ایسا کیا مسئلہ پیدا ہوا کہ وفاق سے اتنی بڑی مقدار میں پرانی گندم خریدنے کی ضرورت پیش آ گئی۔اعجاز شفیع نے اپنی تحریک میں مزید کہا ہے کہ ایسی اطلاعات بھی زیر گردش ہیں کہ وفاقی حکومت بیرونِ ملک سے بھی تقریباً 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے جا رہی ہے جس پر اربوں روپے خرچ ہوں گے۔تحریک کے متن کے مطابق اگر گندم کی دستیابی کی صورتحال یہی ہے تو پھر پنجاب کے کسانوں کا استحصال کیوں کیا گیا اور انہیں ان کی فصل کا مناسب معاوضہ کیوں نہیں ملا۔اعجاز شفیع نے مؤقف اختیار کیا کہ اس معاملے پر صوبہ بھر کے کسانوں اور گندم کے کاشتکاروں میں شدید تشویش پائی جاتی ہےجو حکومت سے فوری تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔تحریکِ التوا میں سپیکر پنجاب اسمبلی سے استدعا کی گئی ہے کہ معاملے کو عوامی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے تحریک کو باقاعدہ منظور کیا جائے اور اس پر ایوان میں بحث کرائی جائے۔







