گندم خریداری سیزن، بینک منیجرز اور فلور ملرز کا گٹھ جوڑ، 5 فیصد کمیشن طے

رحیم یارخان(بیورو رپورٹ)گندم خریداری سیزن،نجی بنکوں کے منیجروں کے فلور ملرز سے خفیہ رابطے،5 فیصد کمیشن طے،کروڑوں کا رننگ فنانس جاری کرنے کیلئے مالیتی قوانین کو پاؤں تلے روندھ ڈالا،بنک ہسٹری،کاروباری ملکیت اور گودام،شیڈ گروی رکھوانے پر کروڑوں روپے رننگ فنانس جاری کئے جانے کا انکشاف،مالیتی قوانین کے مطابق کسی بھی کاروباری شخصیت کو رننگ فنانس جاری کرنے سے قبل کے وائے سی(Know Your Customer)مکمل ہونا لازم ہے،رحیم یارخان میں تقریباً25 سے زائد فلور ملرز نے بجی بنکوں سے اربوں روپے قرض گودام،شیڈ اور قیمتی پلاٹس گروی رکھ کر لے رکھاہے۔تفصیل کے مطابق گندم خریداری سیزن فلور ملرز کے ساتھ ساتھ نجی بنکوں کے منیجروں کیلئے بھی کمائی کا ذریعہ ثابت ہونا شروع ہوگیا ہے،باخبر کاروباری ذرائع کے مطابق ضلع رحیم یارخان میں ہر سال گندم کی خریداری کے نام پر نجی بنکوں سے فلور ملوں کے گودام،قیمتی پراپرٹیز،شیڈ،فلور ملیں گروی رکھ کر کروڑوں روپے کا رننگ فنانس حاصل کیا جاتا ہے جس سے فلور ملرز گارڈ فادرز ضلع رحیم یارخان سمیت پورے پنجاب سے گندم کی اونے پونے داموں خریداری کرتے ہیں،ذرائع کاکہنا ہے کہ بعض اوقات فلور ملرز کی اچھی کریڈٹ ہسٹری ہونے پر منیجر اپنی ذاتی گارنٹی پر گندم کی خریداری کیلئے کروڑوں روپے کا رننگ فنانس جاری کرتے ہیں جس پر شرط یہ لاگو ہوتی ہے کہ خریدی گئی گندم نجی بنک کی ملکیت ہوگی اور اس گندم کے آخری دانے کے فروخت تک فلور ملرز اپنا منافع اٹھا کر بقایا رقم بنک کو جمع کروانے کا پابند ہوتا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ امسال فلور ملرز گارڈ فادرزنے حکومت کی جانب سے گندم کا سرکاری سطح پر ریٹ 3500 روپے مقرر ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بنکوں سے کروڑوں روپے کا رننگ فنانس حاصل کرنے کا طریقہ کار بدل لیا ہے اور امسال نجی بنکوں کے منیجروں سے 5 فیصد کمیشن طے کرکے رننگ فنانس حاصل کیا جارہا ہے اگر کوئی فلور ملرز 10 کروڑ رننگ فنانس اپلائی کرتا ہے تو اس کا 5 فیصد بنک منیجر کو دیا جاتا ہے تاکہ رننگ فنانس بروقت وصول کیاجاسکے۔جس کیلئے نجی بنکوں کے منیجروں نے مالیتی قوانین کو پاؤں تلے روندھ ڈالاہے اور (Know Your Customer)کے وائے سی کا مکمل ہونا لازم ہوتا جس کیلئے شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی،این ٹی این نمبر،ایکٹو ٹیکس پیر لسٹ،پاسپورٹ سائز تصویر،رہائش کا ثبوت،بزنس رجسٹریشن سرٹیفکیٹ،پارٹنر شپ ڈیڈ،ٹریڈ لائسنس،ایگریمنٹ یا ملکیت کے کاغذات،1 سے 3 سال کی فنانشل سٹیمنٹ،انکم ٹیکس ریٹرن،سیلز ٹیکس ریٹرن،کا روبار کا ٹرن اوور ،پراپرٹی دستاویزات،انشورنس ڈاکومنٹس کا ہونا لازم ہوتا ہے،مگر رحیم یارخان میں 5 فیصد کمیشن کے بھوکے منیجروں نے مالیتی قوانین کا مذاق اڑاتے ہوئے فلور ملرز گارڈز فادرز کو نوازنے کیلئے صرف فلور ملز،قیمتی پراپرٹی اور گودام کی ملکیت کے دستاویزات پر رننگ فنانس جاری کرنا شروع کررکھا ہے اور رننگ فنانس جاری کرنے کے قبل موقع پر وزٹ قوانین میں درج ہے مگر بنک منیجر صاحبان موقع وزٹ کرنے کے بجائے بڑے ہوٹلوں میں بیٹھ کر ڈیل کرکے سب اچھا ہے کی رپورٹ بنا کر رننگ فنانس جاری کررہے ہیں اورمقدم کمپنیاں جوبنکوں کے جاری رننگ فنانس کی حفاظت کرتی ہیں انہیں بھی ماموں بنایا جاتا ہے،فلور ملرز 5 فیصد بنک منیجروں اور 1 فیصد مقدم کمپنیوں کے اہلکاروں کو دیکر کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کرنے میں مصروف ہیں۔اس حوالے سے مختلف بنکوں کے منیجروں سے رابطے کئے گئے تاکہ صورتحال سے متعلق مکمل اور جامع معلومات حاصل کی جاسکے تو انہوں نے بتایا کہ آگے نکلنے کے دوڑ میں کون قوانین کو فالو کرتا ہے،تمام بنکس اپنے بنائے ہوئے رولز کو فالو کرتے ہوئے رننگ فنانس جاری کرتے ہیں،ایک سوال کے جواب میں مختلف بنکوں کے منیجروں کا کہنا تھا کہ ہمارا کام پالیسی کے مطابق رننگ فنانس جاری کرنا ہے وصول کرنا اور دیکھ بھال کرنا مقدم کمپنیوں کا کام ہوتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں