ملتان (وقائع نگار) سرکاری ملازمین کی چھانٹی، آئی ایم ایف کی ڈیمانڈ پر حکومت کا بڑا فیصلہ، پاکستان کی وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری پروگرام کے تحت اخراجات میں کمی اور سرکاری ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم اور متنازع فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے فالتو اور سرپلس سرکاری ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک (رضاکارانہ ریٹائرمنٹ پیکیج) کی پیشکش کرتے ہوئے گھر بھیجنے کا پلان تیار کیا ہے، جبکہ خالی اسامیوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔یہ فیصلہ آئی ایم ایف کے ساتھ جاری بات چیت کے دوران سامنے آیا، جہاں عالمی ادارے نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ غیر ضروری ملازمین اور خالی پوسٹوں کو ختم کر کے سالانہ اربوں روپے بچائے۔ ذرائع کے مطابق، حکومت نے آئی ایم ایف کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ گریڈ 1 سے 22 تک کی ہزاروں خالی پوسٹوں کو ختم کرے گی، جس سے سالانہ تقریباً 12 ارب روپے سے زائد کی بچت متوقع ہے۔ان میں گریڈ 17 سے 22 کی تقریباً 700 پوسٹوں کو ختم کرنے سے 2.5 ارب روپے، جبکہ لوئر گریڈز کی بڑی تعداد کی آسامیوں سے 10 ارب روپے کی بچت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔حکومت نے آئی ایم ایف کو یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ سول سروسز ایکٹ 1973 میں ترمیم کی جائے گی تاکہ سرپلس ملازمین کو ریٹرینچمنٹ (چھانٹی) کا راستہ ہموار ہو سکے۔ اس کے علاوہ کچھ ملازمین کو صوبائی حکومتوں میں ٹرانسفر کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔یہ اقدامات آئی ایم ایف کے رائٹ سائزنگ (حکومتی سائز کم کرنے) کا حصہ ہیں۔ گزشتہ برس مارچ 2025 میں آئی ایم ایف کو دی گئی بریفنگ میں حکومت نے 10 سے زائد غیر ضروری اداروں کو بند، ضم یا ٹرانسفر کرنے کا بھی اعلان کیا تھا، جن میں جموں و کشمیر ریفیوجیز ری ہیبلیٹیشن آرگنائزیشن اور دیگر شامل ہیں، جس سے مزید 5 ارب روپے کی بچت ہوئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ حکومت کے لیے مشکل لیکن ضروری ہے، کیونکہ پاکستان کا سرکاری سیکٹر طویل عرصے سے اوور سٹافڈ اور غیر موثر سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، سرکاری ملازمین یونینز اور ایسوسی ایشنز کی جانب سے شدید احتجاج کا امکان ہے، کیونکہ یہ قدم ہزاروں خاندانوں کی روزگار کو متاثر کر سکتا ہے۔حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدامات معاشی استحکام، قرضوں کی ادائیگی اور نئے قرض پروگرام کو جاری رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ آئی ایم ایف نے وفاقی سطح پر غیر ضروری وزارتوں اور صوبائی امور سے متعلق ڈھانچے پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔







