ادویات طبی آلات خریداری میں ڈیڑھ ارب کی کرپشن، آڈٹ رپورٹ سے تہلکہ

ملتان (وقائع نگار)پنجاب ہیلتھ سیکٹر میں ڈیڑھ ارب روپے کی کرپشن کا انکشاف،آڈٹ رپورٹ میں مریم نواز حکومت پر سنگین الزامات پنجاب کے سرکاری ہیلتھ سیکٹر میں ادویات اور طبی آلات کی خریداری میں اربوں روپے کی کرپشن کا بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ محکمہ صحت پنجاب کی اندرونی آڈٹ رپورٹ کے مطابق، صرف 2026 کے ابتدائی چند ماہ میں لاہور کے سرکاری ہسپتالوں اور بنیادی صحت مراکز (BHUs) میں ادویات کی خریداری میں ہی ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کا غبن کیا گیا۔ آڈٹ نے وزیر اعلیٰ مریم نواز کی نگرانی میں چلنے والے ہیلتھ سیکٹر کو “کرپشن کا پہاڑ” قرار دیا ہے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق سب سے بڑی دھاندلی “جعلی ڈیمانڈ” (Artificial Demand) کی صورت میں سامنے آئی۔ ہسپتالوں نے ادویات کی ضرورت کا تخمینہ حقیقی مریضوں کے ڈیٹا کی بجائے من گھڑت اعداد و شمار پر لگایا۔ نتیجتاً غیر ضروری ادویات کی بڑی مقدار خریدی گئی، جبکہ دل، کینسر اور جان بچانے والی اہم ادویات اکثر شارٹ رہتی رہیں۔ آڈٹ کا کہنا ہے کہ اس کا واحد مقصد مخصوص سپلائرز کو بڑے آرڈرز دینا تھا۔ٹینڈرنگ کے عمل کو بھی انتہائی مشکوک بنایا گیا۔ “کلوزڈ” ٹینڈرنگ کے ذریعے ٹیکنیکل شرائط کو اتنا پیچیدہ کر دیا گیا کہ صرف تین سے چار مخصوص کمپنیاں ہی اہل قرار پائیں۔ بڑی اور معیاری فارمیاسیوٹیکل کمپنیوں کو معمولی تکنیکی خامیوں کی بنیاد پر ٹینڈر سے باہر کر دیا گیا۔ادویات کی کوالٹی پر بھی سنگین سمجھوتہ کیا گیا۔ آڈٹ میں انکشاف ہوا کہ کئی بیچز کی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری (DTL) رپورٹ آنے سے پہلے ہی ادائیگیاں کر دی گئیں۔ بعد ازاں ان ادویات کو غیر معیاری (Substandard) قرار دیا گیا، لیکن اس وقت تک وہ مریضوں کو دے دی گئی تھیں۔لاہور کے دیہی علاقوں میں بنیادی صحت مراکز (BHUs) میں “کاغذی مرمت” کا کھیل بھی کھیلا گیا۔ آڈٹ ٹیم نے جب فزیکل ویریفکیشن کی تو پتہ چلا کہ پینٹ، بجلی کی وائرنگ اور ٹائلز کی مرمت کے بل پاس ہو چکے تھے، مگر حقیقت میں وہاں کوئی کام ہی نہیں ہوا تھا۔خریداری میں مارکیٹ ریٹ سے 300 سے 400 فیصد زیادہ قیمتوں کا انکشاف بھی ہوا۔ پنکھوں، ایئر کنڈیشنرز اور فرنیچر کی خریداری مارکیٹ ریٹ سے کئی گنا مہنگی کی گئی۔ ایک عام پنکھے کی مارکیٹ قیمت 5,000 روپے ہے، مگر سرکاری بل میں اسے 15,000 سے 18,000 روپے میں خریدا گیا۔سرجیکل آلات کی خریداری میں بھی کروڑوں روپے کا گھپلا سامنے آیا۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق، جرمنی اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کے معیار کے آلات کی قیمت ادا کر کے پاکستان میں بنے ناقص اور کھوٹے آلات خریدے گئے۔ ان آلات کے استعمال سے مریضوں میں انفیکشن کا خطرہ بھی بڑھ گیا۔ مزید برآں، کئی ہسپتالوں میں ایسے آلات بھیجے گئے جن کی وہاں کوئی ضرورت ہی نہیں تھی اور نہ ہی متعلقہ اسپیشلسٹ ڈاکٹر موجود تھے۔ نتیجتاً یہ آلات سالوں سے اسٹورز میں پڑے زنگ آلود ہو رہے ہیں۔یہ انکشافات پنجاب کے عوام کے لیے ایک بڑا دھچکا ہیں، کیونکہ صحت کے شعبے میں مریضوں کی جانوں سے کھیلنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں