لاہور ہائیکورٹ کا نورین نیازی کو ریلیف، این سی سی آئی اے کیس میں ایک ہفتے کی حفاظتی ضمانت منظور-لاہور ہائیکورٹ کا نورین نیازی کو ریلیف، این سی سی آئی اے کیس میں ایک ہفتے کی حفاظتی ضمانت منظور-سعودی وزیرِ دفاع کی ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات، محمد بن سلمان کا خصوصی پیغام پہنچا دیا-سعودی وزیرِ دفاع کی ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات، محمد بن سلمان کا خصوصی پیغام پہنچا دیا-گزشتہ مالی سال بجلی کے بلوں پر عوام سے 476 ارب روپے ٹیکس وصول، ایف بی آر کا انکشاف-گزشتہ مالی سال بجلی کے بلوں پر عوام سے 476 ارب روپے ٹیکس وصول، ایف بی آر کا انکشاف-مومنہ اقبال اور طوبیٰ انور کے بعد عروبہ مرزا بھی سامنے آگئیں، ثاقب چدھڑ پر نئے الزامات-مومنہ اقبال اور طوبیٰ انور کے بعد عروبہ مرزا بھی سامنے آگئیں، ثاقب چدھڑ پر نئے الزامات-اٹارنی جنرل منصور اعوان کے گھر پولیس چھاپہ، ایس پی کینٹ عہدے سے ہٹا دیا گیا، انکوائری شروع-اٹارنی جنرل منصور اعوان کے گھر پولیس چھاپہ، ایس پی کینٹ عہدے سے ہٹا دیا گیا، انکوائری شروع

تازہ ترین

گزشتہ مالی سال بجلی کے بلوں پر عوام سے 476 ارب روپے ٹیکس وصول، ایف بی آر کا انکشاف

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران بجلی کے بلوں کے ذریعے عوام سے ٹیکس کی مد میں 476 ارب روپے سے زائد وصول کیے گئے۔
اجلاس میں ایف بی آر حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مجموعی وصولیوں میں 351 ارب روپے سیلز ٹیکس جبکہ 124 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں جمع کیے گئے۔
حکام کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں بجلی کے بلوں پر ٹیکس وصولیوں کا حجم مسلسل بلند رہا۔ مالی سال 2024-25 میں 562 ارب روپے، مالی سال 2023-24 میں 515 ارب روپے جبکہ مالی سال 2022-23 میں 313 ارب روپے کی وصولیاں کی گئیں۔
ایف بی آر نے مزید بتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران ودہولڈنگ انکم ٹیکس کی مد میں صنعتی صارفین سے 66 ارب روپے، کمرشل صارفین سے 52 ارب روپے، گھریلو نان فائلرز سے 4 ارب 82 کروڑ روپے اور سیکشن 235 اے کے تحت گھریلو صارفین سے 1 ارب 37 کروڑ روپے وصول کیے گئے۔
سیلز ٹیکس کی مد میں جمع ہونے والے 351 ارب روپے میں 269 ارب روپے نارمل سیلز ٹیکس، 55 ارب روپے اضافی ٹیکس، تقریباً 10 ارب روپے مزید ٹیکس اور 16.5 ارب روپے ریٹیلرز سے بجلی کے بلوں کے ذریعے وصول کیے گئے۔
اجلاس کے دوران بینکوں میں خواتین کے لیے عبایا لازمی قرار دینے کے معاملے پر بھی بحث ہوئی۔ سینیٹر زرقا نے مؤقف اختیار کیا کہ بعض بینک خواتین کو عبایا پہننے پر مجبور کر رہے ہیں۔
اس پر گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے واضح کیا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے تمام بینکوں کو ہدایات جاری کی جا چکی ہیں کہ کسی بھی خاتون کو عبایا پہننے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ قائمہ کمیٹی نے اس حوالے سے بینکوں کو باقاعدہ سرکلر جاری کرنے اور اس کی رپورٹ کمیٹی کو پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں