ملتان ( عوامی رپورٹر) پولیس سروس آف پاکستان (PSP) کے گریڈ 20 کے افسربابر بخت کی مبینہ طور پر تنزلی کے بعدطاقتورحلقوں سے وابستگی پر بیوروکریسی، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انتظامی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق بابر بخت کے خلاف جاری محکمانہ کارروائی اور طویل انکوائری کے بعد ان کے سروس کیریئر میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہےجسے متعدد حلقے سرکاری افسران کے لیے ایک اہم مثال قرار دے رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق بابر بخت کو 2018 میںوفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) میں تعینات کیا گیا جہاں وہ مبینہ بے نامی اکاؤنٹس کی تحقیقات کے لیے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (JIT) کا حصہ رہے۔ بعد ازاں انہیں ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ میں ڈائریکٹر آپریشنز کی ذمہ داریاں بھی سونپی گئیںجہاں انہوں نے متعدد حساس معاملات میں کردار ادا کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے بعض انتظامی فیصلوں اور حساس نوعیت کے معاملات پر بعد ازاں سوالات اٹھائے گئےجس کے بعد محکمانہ سطح پر انکوائری کا آغاز کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق تقریباً تین برس تک جاری رہنے والی انکوائری کے بعد ان کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر ان کی تنزلی کی گئی۔ وزیر اعظم ہاؤس نے اپنے والے کی بھی بات رکھی اور سروسز پاکستان کے افسران کا بھی خیال کیا ۔انتظامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ سرکاری افسران کو اپنی ذمہ داریاں قانون، قواعد و ضوابط اور پیشہ ورانہ غیر جانبداری کے مطابق انجام دینی چاہئیں۔ ماہرین کے مطابق ریاستی اداروں میں کام کرنے والے افسران کے لیے کسی بھی سیاسی یا انتظامی دباؤ سے بالاتر ہو کر قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہی ان کے پیشہ ورانہ وقار کی ضمانت ہے۔دوسری جانب بعض سروسز ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی افسر کے خلاف کارروائی کی گئی ہے تو اسے مکمل قانونی تقاضوں، محکمانہ قواعد اور شفاف طریقہ کار کے مطابق انجام دیا جانا چاہیےجبکہ متعلقہ افسر کو اپیل اور قانونی چارہ جوئی کے تمام حقوق بھی حاصل ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بعد ازاں کسی فورم پر کارروائی غلط ثابت ہوتی ہے تو متاثرہ افسر قانون کے مطابق اپنے حقوق اور سروس فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ادھر سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر متعلقہ افسر کے لیے قانونی اور محکمانہ فورمز اب بھی دستیاب ہیںجبکہ سروس قوانین کے مطابق وہ فیصلے کے خلاف اپیل یا دیگر قانونی راستے اختیار کر سکتے ہیں۔







