کے پی حکومت معطل، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی گرفتار، ایمرجنسی، گورنر راج نافذ

اسلام آباد،پشاور(بیورورپورٹ،نیوزایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کردیاگیا، گورنرفیصل کریم کنڈی نے ایڈمنسٹریٹر ذمہ داریاں سنبھال لیں۔پی ٹی آئی نے دعویٰ کیاہےکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو صوبائی صدرجنیداکبرخان سمیت گرفتار کرلیا گیا ہے۔صوبےمیں فوج تعینات کردی گئی،وفاقی حکومت نے معاملات چلانے کیلئے 11 رکنی مشاورتی کونسل کا اعلان کردیا،وزیراعظم شہبازشریف نےکہاہےکہ پانی سرسےگزرگیا۔پی ٹی آئی اورجےیوآئی نےشدیداحتجاج کرتےہوئےوفاقی حکومت کافیصلہ مسترد کردیا۔تفصیل کےمطابق وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کردیا گیا، صدر مملکت آصف علی زرداری نے سمری پر دستخط کردیے ہیں۔صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں سلامتی کی صورتحال کے حوالے سے وزیراعظم کی ایڈوائس پر آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت دستخط کیے۔ حکومت نے آرٹیکل 232 کے تحت صدر کی طرف سے ایمرجنسی نافذ کرنے کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا صدارتی فرمان فوری طور پر نافذ العمل ہوگیا۔صدارتی اعلان میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اور امن و امان کی سنگین صورتحال کے پیش نظر ایمرجنسی عوام کی جان و مال کو سنگین خطرات لاحق ہیں، سرکاری تنصیبات، بنیادی ڈھانچے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے، صوبائی حکومت دہشت گردی اور لاقانونیت کے مؤثر تدارک کے لیے مطلوبہ عزم اور اقدامات کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی۔صدارتی اعلان میں کہا گیا کہ صوبائی حکومت موجودہ حالات میں آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی، وفاقی حکومت گورنر خیبر پختونخوا کو صوبائی حکومت کے تمام یا بعض امور اپنے اختیار میں لینے کی ہدایت دے سکے گی، گورنر خیبر پختونخوا وفاقی حکومت کی جانب سے تفویض کردہ صوبائی حکومتی امور انجام دے سکیں گے۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ صوبائی اسمبلی کے علاوہ صوبے کے دیگر اداروں اور حکام کے تمام یا بعض اختیارات وفاقی حکومت کی ہدایت پر گورنر استعمال کر سکیں گے، خیبر پختونخوا اسمبلی کے اختیارات پارلیمان یا اس کے اختیار کے تحت استعمال کیے جائیں گے۔اعلامیہ کے مطابق وزیر اعلیٰ، صوبائی وزراء، مشیران، معاونینِ خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل اپنے عہدے فوری طور پر چھوڑ دیں گے، صدارتی اعلان فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔قبل ازیں خیبرپختونخوا کی صورتحال کے حوالے سے وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر دفاع خواجہ آصف، رانا ثناء اللہ، سالک حسین اور عطاء تارڑ سمیت دیگر ارکان شریک ہوئے۔وفاقی کابینہ کو خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور دہشتگردی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بریفنگ دی گئی، کابینہ نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور دہشتگردی کے خلاف جنگ سے صوبائی حکومت کی دانستہ لاتعلقی کے پیش نظر حالات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ کابینہ نے وزیرِ اعظم کو تجویز دی کہ وہ صدر مملکت کو مشورہ دیں کہ حالات کی سنگینی کے پیش نظر صدر مملکت آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے صوبہ خیبر پختونخوا میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ کریں، اس ضمن میں وزیرِ اعظم ہاؤس سے ایڈوائس ایوان صدر بھجوا دی گئی جس پر صدر مملکت نے دستخط کردیے۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے سے قبل پختونخوا حکومت کو مولانا ففضل الرحمان کے ذریعے ایک آخری موقع بھی دیا تاہم مذاکرات یہ آخری کوشش ناکام ہوگئی۔قبل ازیں اجلاس میں تجویز دی گئی تھی کہ خیبر پختونخوا کے حوالے سے کسی بھی حتمی فیصلے سے پہلے مولانا فضل الرحمٰن کے ذریعے آخری کوشش کی جائے، اجلاس کے دوران ہی نائب وزیرِ اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کرکے مشاورت کی۔وفاقی کابینہ نے خیبر پختنوخوا میں دہشتگردی کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا، کابینہ ارکان نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے خاتمے کی بجائے دہشتگردی کے خلاف جنگ سے دانستہ لاتعلقی تشویشناک ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے دہشتگردی کے واقعات میں عام شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن خیبر پختونخوا حکومت دہشتگردوں کے خلاف ایک لفظ نہیں بولتی، پانی سر سے اوپر جا چکا، اب فیصلے کا وقت ہے۔وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا دو سال سے دہشتگردی میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، دن رات افواج پاکستان دہشتگردوں کے پیچھے جا رہی ہیں اور انہیں جہنم واصل کر رہی ہیں لیکن کے پی حکومت دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔دوسری جانب وزیراعظم ہاؤس کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ شاہراہِ دستور پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔ سیکیورٹی انتظامات کے لیے بکتر بند گاڑیاں بھی پہنچا دی گئی ہیں۔ادھرخیبرپختونخوا کی حکومت صوبائی کی معطلی کے بعد خیبرپختونخوا کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دیدی گئی۔وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، عطا اللہ تارڑ، محسن نقوی اور ثمر ہارون بلور نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نئے صوبائی سیٹ اَپ کے بارے میں تفصیلات بتائیں۔وفاقی حکومت کی جانب سے جاری حکمنامہ کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت کے امورانجام دیں گے، گورنر اپنے فرائض کی انجام دہی میں مشاورتی کونسل کی معاونت حاصل کریں گے۔طارق محمود پاشا، ڈاکٹر عامرعبداللہ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر ارکان ہوں گے، ثمر بلور، ڈاکٹر سرفراز علی،عامر جاوید،ڈاکٹر ایم ارشاد مشاورتی کونسل میں شامل ہیں۔ کفایت اللہ، طیب قریشی،عثمان سیف اللہ خان،آصف رفیق بھی ارکان مقرر ہوگئے۔ ثنا اللہ ایڈووکیٹ خیبرپختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل ہوں گے۔وفاقی وزیراطلاعات عطاتارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کا طالبان کے ساتھ ناپاک اتحادہے، کےپی میں توکچھ تھانے بھی طالبان کے حوالےکردیئے گئے، کابینہ ارکان کی رائےتھی پی ٹی آئی حکومت کادہشتگردوں سےاتحادہے۔ دہشتگردوں اورپی ٹی آئی حکومت کے درمیان پاورشیئرنگ فارمولہ بنتاجارہاتھا۔عطا تارڑ نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں بتایا گیا خیبرپختونخوا دہشتگردی سے کتنا متاثر ہے، پی ٹی آئی حکومتوں نے چند اضلاع کو آؤٹ سورس کررکھا تھا، یہ لوگ صوبے کو تباہی کی طرف دھکیل رہے تھے، دھماکے کے زخمیوں نے کہا یہ پتا نہیں کیوں دہشتگردوں کو فری ہینڈ دیئےہوئے ہیں۔ جورپورٹس پیش کی گئیں ان میں خوفناک صورتحال ہے۔وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ صورتحال اور حالات کا تقاضا تھا کہ خیبرپختونخوا میں گورنرراج اور ایمرجنسی کو ایکسرسائز کیا گیا۔ گورنر کو وفاق نے اختیارات تفویض کئے ہیں، 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دی گئی ہے۔ادھرذرائع کے مطابق مردان میں لانگ مارچ سے خطاب کے بعد سہیل آفریدی واپس وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور آگئے تھے ۔ذرائع کے مطابق جنید اکبر اور وزیراعلیٰ کو دن میں گرفتار کیا گیا جس کی تصدیق رہنما پی ٹی آئی شاہد خٹک نے بھی کی، وزیراعلیٰ ہاؤس کی بجلی اور ٹیلیفون کے کنکشن کاٹےگئے اور وہیں سے انہیں گرفتار کیا گیا۔دوسری جانب پشاور میں ریڈ زون سیل کردیاگیا، داخلی اور خارجی راستےکنٹینر لگا کر بند کردیےگئے، پولیس اضافی نفری تعینات کردی گئی۔قبل ازیںگورنر ہاؤس پشاور میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی سربراہی میں 11 رکنی ایڈوائزری کونسل کا پہلا اجلاس ہوا۔اجلاس سے خطاب میں گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ امید ہے آپ لوگ اپنے متعلقہ اداروں میں محنت،لگن اور دلجوئی سے کام کریں گے،کرپشن سے متعلق زیرو ٹالرنس ہے، خیبر پختونخوا کا امن و امان پہلی ترجیح ہے، صوبے کی ترقی و خوشحالی کےلیے مل کر کام کرنا ہوگا۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے صوبے کے جمہوری مینڈیٹ اور خودمختاری پر حملہ قرار دیا۔ پارٹی نے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی اور صوبائی صدر جنید اکبر خان کی مبینہ گرفتاریوں کی بھی مذمت کی۔پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے فیصلے کو ’’سنگین سیاسی غلطی‘‘ اور غیر جمہوری اقدام قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ صوبے کے عوام اپنے آئینی حقوق کی خلاف ورزی قبول نہیں کریں گے۔ایک بیان میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو اپنے انتخابی مینڈیٹ کے تحفظ کا آئینی اور قانونی حق حاصل ہے۔ ان کے مطابق صوبائی خودمختاری کو نقصان پہنچا کر یا وفاق اور صوبے کے درمیان محاذ آرائی بڑھا کر امن و استحکام قائم نہیں کیا جاسکتا۔قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے بھی خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے اسے صوبے کے آئینی حقوق کی ناقابل قبول خلاف ورزی قرار دیا۔پی ٹی آئی نے اپنے مرکزی میڈیا ڈپارٹمنٹ کے ذریعے جاری ایک الگ بیان میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کے وفاقی حکومت کے فیصلے کی سخت مذمت کی۔ پارٹی نے اسے عوام کے جمہوری مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور آئینی وفاقی نظام پر سنگین حملہ قرار دیا۔پارٹی ترجمان شیخ وقاص اکرم نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور جنید اکبر کی مبینہ گرفتاریوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔قبل ازیںسہیل آفریدی نے ایک بیان میں کہا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج کے اعلان کے بعد لوگ ترکی کی مثال دینا بھول جائیں گے۔ادھراسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے اُن سے بعض امور پر اتفاق کیا لیکن بعد میں حکومت پیچھے ہٹ گئی، یہ جمہوریت پر شب خون ہے، ہم عوام سے رابطہ کریں گے، ہم پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپنا کردار ادا کریں گے، وزیراعظم نے فون کیا، رات کےکھانےکی دعوت دی، ہم نے جانےکا فیصلہ کیا اور گئے بھی،حکومت کا مطالبہ تھا کہ پہلے لانگ مارچ ختم کیا جائے، پی ٹی آئی کا مطالبہ تھا کہ پہلے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے، یہ معاملات ان دونوں کے درمیان تھے۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جب ہم ثالث کا کردار ادا کر رہےہیں تو کچھ چیزیں ثالث کے حوالے کردی جاتی ہیں، میں نے وزیراعظم سےکہا کہ میں پہلے پی ٹی آئی سے بات کرلوں، حکومت کی رائے یہ تھی کہ پہلے لانگ مارچ کے خاتمےکا اعلان کیا جائے،تحریک انصاف کا مطالبہ تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملنے دیا جائے، سہیل آفریدی، بیرسٹرگوہر، شہرام ترکئی اور اسد قیصر سے بات کی، انہوں نےکہا ہمارے مطالبات تسلیم ہوتے ہیں تو لانگ مارچ ختم کرنےکے لیے تیار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میں آج صبح 6 بجے وزیراعظم کے پاس گیا ، انہوں نے اسحاق ڈار کو بھی بلایا، میں نے وزیراعظم کو کہا کہ اگر آپ اصولی طور پر تیار ہیں کہ لانگ مارچ ختم کردیا جائے تو ان کا مطالبہ تسلیم کرلیا جائے ، وزیراعظم نےکہا کہ یہ ہم پر چھوڑا جائے آج کابینہ کا اجلاس ہے، یہ تجویز بھی آئی کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم کابینہ کا اجلاس صبح کے بجائے شام کرلیں، ساڑھے 10 بجے اسحاق ڈار کا فون آیا اور کہا کہ کابینہ کی سوچ یہ بن رہی ہےکہ گورنر راج لگایا جائے اور ایمرجنسی نافذکی جائے ، میں نے ان سے پوچھا کہ وجہ بتائی جائے ، میں نے پوچھا کہ کیا بلوچستان حکومت ناکام نہیں ہے، بلوچستان کی حکومت آپ کی ہاں میں ہاں ملارہی ہے اور کے پی کا بیانیہ آپ کے ساتھ نہیں۔

سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی کے 8 اہم رہنما پولیس کی حفاظتی تحویل میں ہیں: خیبرپختونخوا پولیس

پولیس حکام کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکرکےپی اسمبلی بابرسلیم سواتی،  پی ٹی آئی کےصوبائی صدر جنید اکبر اور دیگر بھی حراست میں ہیں۔ 

شیئر کریں

:مزید خبریں