کہروڑ پکا سب رجسٹرار آفس میں اینٹی کرپشن نہ پیڈا ایکٹ کا ڈر، سرکار کو روز لاکھوں کا نقصان

لودھراں(بیورو رپورٹ)کہروڑپکا سب رجسٹرار آفس میں اینٹی کرپشن کا ڈر نہ پیڈا ایکٹ کا خوف، سرکار کو روزانہ لاکھوں کا نقصان، ڈسٹرکٹ کلیکٹر لودھراں کے سخت ترین احکامات ہوا میں اڑا دیے گئے، ذرائع کے مطابق تحصیل کہروڑپکا سب رجسٹرار آفس میں مبینہ مالی بے ضابطگیاں اور سرکاری فیسوں میں ہیرا پھیری روز کا معمول بن چکی ہے، جس کے باعث روزانہ کی بنیاد پر رجسٹری کلرک حیدر اور تحصیلدار عبد الخالق کی مبینہ ملی بھگت سے قومی خزانے کو مبینہ طور پر روزانہ لاکھوں روپے کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ ان کی چشم پوشی کے باعث ریونیو کو شدید دھچکا لگ رہا ہے۔ اس حوالے سے ڈسٹرکٹ کلیکٹر لودھراں کے آرڈر نمبر 2257/PA، جو سابقہ نوٹیفیکیشن نمبر 1000/PA مورخہ 24 ستمبر 2024 کے تسلسل میں 12 دسمبر 2025 کو تاکیداً جاری ہوا، کے تحت 1 سے 20 مرلے تک کی اراضی کا زرعی انتقال ممنوع کر کے اسے سکنی یا کمرشل فیس کے ساتھ رجسٹرڈ کرنے کا حکم دیا گیا تھا، جس کی خلاف ورزی کو امانت میں خیانت تصور کرتے ہوئے متعلقہ افسران کے خلاف پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت سخت تادیبی کارروائی کا حکم اسی نوٹیفیکیشن میں واضح درج ہے۔ مگر ان تمام احکامات کو ردی کی ٹوکری میں پھینکتے ہوئے تحصیلدار اور رجسٹری کلرک نے مبینہ ملی بھگت سے سرکاری فیسوں میں خورد برد کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس کی تازہ ترین مثال 25 ستمبر کو ہونے والے ایک انتقال نمبر 3279 ہے، جسکی رجسٹری دستاویز نمبر 11820260005268 ہے، جس کا کل رقبہ محض 1 کنال تھا اور اسے رہائشی یا تجارتی فیس کے بجائے مبینہ رشوت کے عوض سستی زرعی فیس کے ساتھ منتقل کر کے خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔ عوامی اور سماجی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ملتان ریجن اور اعلیٰ حکام سب رجسٹرار آفس کہروڑپکا کے ریکارڈ کی باریک بینی سے چھان بین اور آڈٹ کروائیں، تو فیسوں میں مزید غبن کے اسکینڈلز بے نقاب ہو سکتے ہیں اور سرکاری فیسوں کی مد میں بھاری ریکوری ممکن ہو سکتی ہے

شیئر کریں

:مزید خبریں