رحیم یارخان(بیورو رپورٹ)کچہ سے لیٹروں کا خاتمہ،پکے کے لیٹروں کا راج، گندم سیزن شروع ہوتے فلور ملز گارڈ فادرز میدان میں آگئے،مڈل مینوں،خریداروں کی ٹیمیں تشکیل،کچہ اور مضافاتی علاقے آسان ٹارگٹ،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جواز،ٹرانسپورٹ کے مسائل پیدا کرکے کسانوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا پلان مرتب کرلیا گیا،سرکاری ریٹ 3500 جبکہ مافیا کسانوں کا استحصال کرکے گندم 3000 من کھیتوں سے اٹھانے لگی،سستے داموں خرید کی جانے والی گندم خفیہ گوداموں میں سٹور کئے جانے کا انکشاف،محکمہ خوراک اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے بھی ریکارڈ مرتب کرنے کی بجائے خاموشی اختیار کرکے بیٹھ گئے،بلوچستان،سندھ اور کے پی کے بڑے فلور ڈیلر کی رحیم یارخان آمد،سینکڑوں ٹن گندم کی خریداری کرکے بین الصوبائی اسمگلنگ شروع کردی۔تفصیل کے مطابق ضلع رحیم یارخان سمیت پورے جنوبی پنجاب میں ان دنوں گندم کی کٹائی زور و شور سے جاری ہے،حکومت کی جانب سے گندم کا سرکاری سطح پر ریٹ 3500 روپے فی من مقرر کیا گیا ہے اور حکومتی پالیسی کے مطابق گندم کی خریداری کیلئے ضلع رحیم یارخان میں تقریباً7 سے زائد مقامات پر خریداری مراکز قائم کئے گئے ہیں،ذرائع کے مطابق گندم کا سیزن ہوتے ہیں پکے کے لٹیرے فلور ملز گارڈ فادرز جو بیرون ممالک کے نجی دوروں پر تھے پاکستان لوٹنا شروع ہوگئے ہیں اور کسانوں کا استحصال کرنے کیلئے باقاعدہ مڈل مینوں،خریداروں پر مشتمل ٹیمیں تشکیل دیدی ہیں جنہوں نے کچہ سمیت پکا کے مضافاتی علاقوں میں ڈیرے ڈال لئے ہیں،ذرائع نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ مڈل مین اور خریدار مافیا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو جواز بنا کر ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ کو ایشو بنا کر کسانوں سے سرکاری ریٹ 3500 روپے کی بجائے 3000 روپے کے حساب سے گندم کی خریداری کرنا شروع کررکھی ہے اور کسانوں کے کھیت کھلیانوں سے گندم کی خریداری کرکے خفیہ گوداموں،غلہ منڈی اور سٹوریج سینٹروں کا منتقلی کا کام شروع کر رکھا ہے،ذرائع نے بتایا کہ ضلع رحیم یارخان میں صرف پنجاب،جنوبی پنجاب کے ہی نہیں بلکہ بلوچستان،سندھ اور کے پی کے بڑے فلور ملرز گارڈ فادرز کی انٹری ہو چکی ہے اور مقامی سطح پر خریداری کرکے بین الصوبائی اسمگلنگ کا مکروہ دھندہ بھی ان دنوں عروج پر پہنچ چکا ہے،ضلع رحیم یارخان سے گڈو کشمور کے راستے بلوچستان،سندھ پنجاب باڈرز ایریا کوٹ سبزل کے راستے سے سندھ،ظاہر پیر اسٹیل پل کے راستے کوٹ مٹھن،فاضل پور کے راستے سے سخی سرور اور ڈی جی خان اور پھر بلوچستان،اسی طرح اوچ شریف اور احمد پور شرقیہ کے خفیہ راستوں کے ذریعے سی پیک سے براستہ پشاور کے پی کے گندم کی اسمگلنگ کی جارہی ہے،ذرائع نے بتایا کہ رحیم یارخان میں انڈسٹریل اسٹیٹ،فلور ملوں،کاٹن جننگ فیکٹریوں،رائس ملوں،خالی گوداموں،آئل ملوں میں گندم کی غیر قانونی اسٹاکنگ کی جارہی ہے،محکمہ فوڈ جس کی ذمہ داری ریکارڈ کو مین ٹین کرنا ہے وہ صرف کاغذی کاروائیاں کرنے میں مصروف ہے،کاشتکار تنظیموں نے وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم کی سرکاری سطح پر خریداری کو یقینی بنانے کیلئے محکمہ خوراک کو متحرک کیا جائے اور گندم کی ریٹس میں اضافہ کرکے کسانوں کو ریلیف فراہم کیا جائے۔







