تہران،واشنگٹن،انقرہ(نیوزایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک)ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کر دیا۔ایرانی وزیرخارجہ نےکہاکہ آبنائےہرمزسے تجارتی جہاز مقررہ راستے اور پاسدارانِ انقلاب نیوی کی اجازت سے گزر سکتے ہیں، فوجی جہازوں کو اجازت نہیں۔فیصلہ سامنےآتی ہی تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی ہوگئی۔عالمی مارکیٹ میں ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت 83.52 ڈالر، برینٹ خام تیل کی قیمت 88.07 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے ایران اورپاکستان کاشکریہ اداکیاہے۔امریکی صدرنےسوشل میڈیاپرپیغام میں کہاکہ پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ، دونوں زبردست شخصیات ہیں۔ ترکیہ کے صدررجب طیب اردوان نے وزیراعظم شہبازشریف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ خطے میں امن کیلئے پاکستان کی کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔وزیراعظم شہبازشریف نےکہاہےکہ لبنان کی خودمختاری کی حمایت جاری رکھیں گے۔ایرانی صدر مسعودپزشکیان نےفیلڈمارشل سیدعاصم منیرسے ملاقات کے دوران پاکستان کی سفارتکاری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئےعلاقائی ممالک کے اتحاد پر زوردیاہے۔تفصیل کےمطابق ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کر دیا۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی کے تناظر میں آبنائے ہرمز سے تمام تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت جنگ بندی کی باقی مدت کے لیے مکمل طور پر کھول رہے ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ آمد و رفت اُس مربوط (کوآرڈینیٹڈ) راستے کے مطابق ہوگی جس کا اعلان پہلے ہی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن آف ایران کی جانب سے کیا جا چکا ہے، جو اسلامی جمہوریہ ایران کے تحت کام کرتی ہے۔دوسری جانب ایرانی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ فوجی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنےکی اجازت نہیں۔ایرانی فوجی حکام نے کہا ہے کہ تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے مقررہ راستے اور پاسدارانِ انقلاب نیوی کی اجازت سے گزر سکتے ہیں۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے پر ایران کا شکریہ ادا کردیا لیکن ساتھ ہی بحری ناکا بندی جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز مکمل کھولنے کا اعلان کردیا ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کھولنے پر ایران کا شکریہ۔امریکی صدر نے ایک اور پوسٹ میں اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی ہے اور کاروبار اور مکمل آمد و رفت کے لیے تیار ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ لیکن ایران کے حوالے سے بحری ناکہ بندی پوری طاقت اور مؤثر انداز میں برقرار رہے گی اور یہ اسی وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران کے ساتھ ہمارا 100 فیصد معاہدہ نہیں ہوتا۔ٹرمپ نے کہا کہ یہ عمل بہت تیزی سے مکمل ہونا چاہیے کیونکہ زیادہ تر نکات پہلے ہی طے پا چکے ہیں۔اس معاملے پر آپ کی توجہ کا شکریہ!امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا بھی شکریہ ادا کیا۔صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ پاکستانی وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر زبردست شخصیات ہیں۔ایک اور ٹروتھ سوشل کی پوسٹ میں ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا B-2 بمبار طیاروں کے ذریعے پیدا ہونے والی تمام (نیوکلیئر ڈسٹ) حاصل کرے گا۔ اس معاہدے میں کسی بھی صورت، شکل یا طریقے سے کوئی رقم کا لین دین نہیں ہوگا۔ٹرمپ نے کہا کہ یہ معاہدہ کسی بھی طور پر لبنان سے مشروط نہیں ہے، تاہم امریکا علیحدہ طور پر لبنان کے ساتھ کام کرے گا اور حزب اللہ کے معاملے کو مناسب انداز میں نمٹائے گا۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اب لبنان پر مزید بمباری نہیں کرے گا۔ امریکا نے اسے ایسا کرنے سے سختی سے روک دیا ہے۔اب بہت ہو چکا!اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ اب جبکہ آبنائے ہرمز کا معاملہ ختم ہو چکا ہے، مجھے نیٹو کی طرف سے فون آیا اور پوچھا گیا کہ امریکا کو کسی مدد کی ضرورت ہے؟ میں نے اُن سے کہہ دیا کہ اب دور ہی رہیں جب واقعی ضرورت تھی تو کسی کام کے نہیں تھے، محض ایک کاغذی شیر (Paper Tiger) ثابت ہوئے!صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران نے امریکا کی مدد سے تمام سمندری بارودی سرنگیں ہٹا دی ہیں یا ہٹا رہا ہے۔بعد ازاں مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کا ان کی عظیم بہادری اور مدد پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ادھرعرب میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی کہ ایران آئندہ آبنائے ہرمز بند نہیں کرے گا اور اپنا انتہائی افزودہ یورینیم ترک کر دے گا۔عرب میڈیا نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک نئے مذاکراتی دور کی تیاری جاری ہے جس میں 45 سے 60 روز پر مشتمل ایک عبوری فریم ورک زیر غور ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت کوئی حتمی اور قابلِ اعتماد معلومات دستیاب نہیں جبکہ ماضی میں بھی متضاد رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں، اس لیے صورتحال واضح ہونے کے لیے مزید انتظار کرنا ہوگا۔دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے جنگ بندی کی بقیہ مدت کے لیے آبنائے ہرمز تمام بحری جہازوں کے لیے کھلنے کی خبر پر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی دیکھی گئی۔عالمی مارکیٹ میں ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت 11.17 فیصد کی کمی کے بعد 83.52 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔دوسری جانب برینٹ خام تیل کی قیمت 11.32 فیصد کی کمی کے بعد 88.07 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ادھرترکیے کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں سے خطے میں جنگ رک گئی، اس جنگ بندی کو امن کے ایک موقع کے طورپر دیکھنا چاہیے۔انطالیہ ڈپلومیسی فورم سے خطاب میں ترک صدر نے کہا کہ ہم خطے میں امن کی کوششیں جاری رکھیں گے، آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کو لیےمکمل کھول دینا چاہیے۔ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ سفارت کاری کے ذریعے کسی بھی مسئلے کا حل ممکن ہے، ترکیےعالمی رہنماؤں کے سربراہی اجلاس سمیت مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے مذاکرات کی میزبانی کے لیےتیار ہے۔رجب طیب اردوان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے، غزہ میں نسل کشی ظاہرکرتی ہے کہ عالمی نظام کس کو بچانے کےلیے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کےخلاف کھڑا ہونا چاہیے، اسرائیلی توسیع پسندانہ پالیسیوں کےباعث پوری دنیا عدم استحکام کاشکار ہے۔قبل ازیںوزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں سفارتی کوششوں نے یہ جنگ بندی ممکن بنائی ہے، یہ امن کی جانب مثبت پیشرفت ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ امید ہے یہ جنگ بندی خطے میں دیرپا اور پائیدار امن کی راہ ہموار کرے گی۔ادھرایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جنگ بندی کے قیام میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے مؤثر اور ذمہ دار قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران خطے میں پائیدار امن کا خواہاں ہے اور اسلامی ممالک کو اتحاد کے ذریعے مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کے دوران ایرانی صدر نے جنگ بندی کے لیے سہولت کاری میں جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایرانی وفد کی پرتپاک میزبانی پر بھی شکریہ ادا کیا۔ایرانی پریس ٹی وی کے مطابق صدر پزشکیان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران خطے میں پائیدار امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے ایرانی عوام کے حقوق کے حصول پر زور دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران تمام اسلامی ممالک کو برادر سمجھتا ہے، جو پیغمبر اسلام ﷺ کے اعلیٰ اخلاق سے ماخوذ ایک بنیادی اصول ہے۔ایرانی صدر نے واضح کیا کہ خلیجی عرب ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا ایران کا اقدام مکمل طور پر دفاعِ خودی کے تحت تھا جو ملک پر مسلط کردہ جارحیت کے جواب میں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ صہیونی ریاست ہے، جو اسلامی ممالک کے درمیان تقسیم اور تنازعات کو ہوا دیتی رہی ہے۔صدر پزشکیان نے زور دیا کہ اسلامی دنیا کو باہمی تعاون اور اتحاد کے ذریعے ایسے عناصر کو اسلامی سرزمین کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنے سے روکنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر اسلامی ممالک متحد ہو جائیں تو خطے کو جنگ کی طرف دھکیلنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے جنرل عاصم منیر سے کہا کہ وہ ایرانی قیادت اور عوام کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی قوم کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچائیں۔







