کوٹ چھٹہ میں گندگی کے ڈھیر، ٹھیکیدار پر لاکھوں روپے ہضم کرنے کے الزامات

کوٹ چھٹہ (تحصیل رپورٹر )حکومت پنجاب کے صفائی ستھرائی کے دعووں کے برعکس ستھرا پنجاب پروگرام عملے کی نااہلی ٹھیکیدار حکومت پنجاب کو ہر ماہ لاکھوں روپے کا ٹیکہ لگانے لگا۔ زرائع تحصیل کوٹ چھٹہ کے متعدد شہروں میں اندرون شہر اور ملحقہ کالونیوں میں خاطر خواہ نتائج دینے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے شہروں کے بیشتر رہائشی آبادیوں گلی محلوں اور اندرونی علاقوں میں گندگی کے انبار نالیاں صاف نہ ہونے سے غلیظ بدبو دار پانی گلیوں میں گھومنے لگا مچھروں کی افزائش میں اضافہ ہو رہا ہے رات کو شہریوں کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں جبکہ عملہ صرف مخصوص سڑکوں من پسند علاقوں اور بااثر شخصیات کے ڈیروں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ متعدد محلوں میں کئی کئی ہفتوں تک کوڑا کرکٹ نہیں اٹھایا جاتا جس کے باعث تعفض پھیل رہا ہے نالیوں کی صفائی نہ ہونے سے گٹروں کے غلیظ اور بدبودار پانی سے بھر جانے سے گلیوں میں گھومنے لگا ہے نالیوں میں غلیظ اور بدبودار پانی جمع ہونے سے مچھروں کی افزائش نسل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مچھروں نے رات کو خواتین معصوم بچوں اور بزرگوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔مختلف بیماریاں جنم لینے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ صفائی عملہ اکثر شاہراہوں پختہ روڈوں اور چند نمایاں مقامات تک محدود رہتا ہے جبکہ گنجان آباد محلوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ملازمین کو ہر ماہ تنخواہ بھی کم ملتی ہے اگر کوئی اہلکار تنخواہ کم ملنے کی آواز اٹھاتا ہے تو اسکو نوکری سے فارغ اور گھر بھیج دینے کا انکشاف ہوا ہےاور یہ بھی متعدد شہریوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ستھرا پنجاب پروگرام کا فایدہ صرف پنجاب حکومت کے چہیتے ٹھیکیداروں کو ہو رہا ہے ہمیں کوئی مفاد نہ ملا ہم اپنے محلے کی صفائی باہر سے آنے والے خاکروب سے کرواتے ہیں اور انکو اپنی جیب سے محلے دار فی گھر سے رقم اکٹھی کر کے خاکروب کو ادا کر رہے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں