گزشتہ رات 12 بج کر پانچ منٹ پر میرے بیٹے، داماد اور دونوں بیٹیوں نے’’ہیپی فادرز ڈے‘‘ کا میسج بھیجا تو مجھے یاد آیا کہ آج تو’’یوم والد‘‘ ہے۔ اللہ تبارک و تعالی میرے والد صاحب کو غریق رحمت فرمائے۔ میرے بہن بھائی اور والدہ تو لاہور میں رہتے تھے مگر میں زیادہ تر اپنے والد صاحب کے ساتھ اسی شہر میں رہتا تھا جہاں ان کی دوران ملازمت پوسٹنگ ہوا کرتی تھی۔ میں ان کے ساتھ ساہیوال، میاں والی، ملتان اور سرگودھا رہتا رہا تھا۔ گزشتہ ماہ مجھے اسلام آباد جانا تھا تو میں نے اپنے ڈرائیور سے کہا کہ اس مرتبہ براستہ بھکر ،میاں والی اور تلہ گنگ اسلام آباد چلتے ہیں۔ دراصل مجھے پرانی یادوں کو تازہ کرنے میانوالی میں اپنے اسی گھر جانا تھا جہاں میں اپنے والد صاحب کے ساتھ رہا کرتا تھا۔ اسی گھر میں محمود اسلم للہ بھی رہا کرتے تھے جو ان دنوں میانوالی میں سوشل ویلفیئر آفیسر تھے مگر بعد میں محکمہ انکم ٹیکس جوائن کرکے ممبر انکم ٹیکس ریٹائر ہوئے۔
میں نے اسی گھر میں زندگی میں پہلی مرتبہ اپنی شیو بنائی اور والد صاحب کو بتایا کہ میں نے آج شیو کی ہے اس سے پہلے میں مشین کے ذریعے شیو کے بال صاف کروایا کرتا تھا۔ میرے والد چونکہ اکلوتے تھے اور ان کا کوئی بہن بھائی نہیں تھا لہٰذا وہ ہمیں اپنے بہن بھائیوں کی طرح ہی ٹریٹ کیا کرتے تھے اور ہماری چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو بھی بہت زیادہ انجوائے کرتے تھے۔ میں نے تو انہیں روٹین میں بتایا مگر وہ بہت خوش ہوئے۔ اگلے روز انہیں کسی سرکاری میٹنگ کے لیے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر سرگودھا جانا تھا، شام کو واپسی پر وہ میرے لیے اس وقت کے معروف برانڈ ’’اولڈ سپائس‘‘کا ایک بہت ہی خوبصورت شیونگ سیٹ جو سیفٹی پرفیوم برش اور دیگر لوازمات پر مشتمل تھا، ایک گفٹ پیک میں ربن کے ساتھ بندھا ہوا تھا۔ ابو نے ربن کھولا اور وہ شیونگ کٹ مجھے گفٹ کی۔ میں اپنے بچپن سے ہی بہت سادہ مزاج اور تکلفات سے کوسوں دور رہنے والا بندہ ہوں۔ وہ خاصا مہنگا سیٹ تھا میں نے ابو سے کہا کہ اسے آپ اپنے پاس رکھ لیں، آپ کو میٹنگز میں جانا ہوتا ہے لوگوں سے ملنا ہوتا ہے آپ اسے اپنے سفری بیگ میں رکھ لیں میں نے کیا کرنا ہے میرے لیے ایک سیفٹی ہی کافی ہے۔ ابو نے ناراضگی ظاہر کی اور کہا کہ اسے رکھو گوشے بیٹے، میں تمہارے لئے بڑی محبت سے لے کے آیا ہوں، تو میں نے ضد کی کہ نہیں ابو آپ رکھیں، اتنا قیمتی تحفہ میں نے کیا کرنا ہے۔ گوشہ میرا نک نیم تھا جو صرف میرے والد صاحب میرے لیے بولا کرتے تھے۔ ابو غصے میں کہنے لگے، گوشے تم نے میرا دل توڑ دیا، انہوں نے اس سیٹ کو ایک شیلف پر رکھا جہاں اور بھی بہت سی چیزیں پڑی تھیں اور اپنے بیڈ روم میں عصر کے بعد کمبل اوڑھ کر سو گئے تو میں سونے کے لیے اپنے کمرے میں چلا گیا۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی، نہ اندھی آئی نہ زلزلہ آیا نہ کسی قسم کی کوئی حرکت ہوئی اور نہ گھر میں ہم دونوں باپ بیٹے کے علاوہ کوئی تیسرا موجود تھا کہ اچانک سے کسی چیز کے دھڑم سے گرنے کی آواز آئی اور سارے گھر میں خوشبو پھیل گئی۔ اس آواز سے ابو بھی اٹھ گئے اور میں بھی بھاگ کر ان کے کمرے میں آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ہر چیز تو اپنی اپنی جگہ ایک موٹی اور چوڑی شیلف پر موجود ہے اگر وہ اولڈ سپائس کی سفید کرسٹل کی شیونگ کٹ سینکڑوں ٹکڑوں کی شکل میں زمین پر بکھری پڑی ہے اور پرفیوم کی خوشبو سارے گھر میں پھیل چکی ہے۔
سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ ہر چیز شیلف پر موجود ہے، گھر میں بھی کوئی نہیں، ابو بھی سو رہے تھے اور میں بھی سو رہا تھا پھر یہ یہی سیٹ کیسے گر کر ٹوٹ گیا. ابو نے اتنا کہا، بیٹے تم نے میرا دل توڑا، دیکھ لو یہ سب کچھ ٹوٹ گیا جسے میں بڑی محبت سے لے کر آیا تھا۔
خوف کے مارے میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تو مجھے دلاسہ دے کر ابو منہ دوسری طرف کرکے کمبل اوڑھ کر سو گئے۔ اس واقعے کو 42 سال گزر چکے ہیں مگر مجھے وہ کسک آج بھی بے چین کرتی ہے اور میں نے اس کے بعد کبھی بھی اپنے والد صاحب کی کسی بھی بات کو رد نہیں کیا انہوں نے جو بھی کہا میں مان لیتا تھا بس ایک بات نہیں مانی اور اس کا مجھے افسوس ہے۔ میری اہلیہ کے انتقال کے وقت تینوں بچے بہت چھوٹے تھے تو ابو کہا کرتے تھے کہ بیٹا میری ماں مجھے چار سال کی عمر میں چھوڑ کر اللہ کے پاس چلی گئی تھی میں آج بھی اسے یاد کرتا ہوں۔ ہم باپ بیٹے نے بہت مشکلات دیکھیں اور میں نہیں چاہتا کہ تم انہی حالات سے گزرو لہذا تم شادی کر لو مگر میں نے ان کی یہ بات نہیں مانی جس کا تب مجھے افسوس نہ تھا مگر اب ڈھلتی عمر میں شدت سے احساس ہے کہ جو سوچ ان کی تھی وہ میرے اندازوں، اندیشوں اور خیالات سے کئی گنا بہتر تھی۔
میں نے 40 سال قبل میانوالی والے گھر میں محکمہ جنگلات سے لے کر تین درجن کے قریب شیشم اور جامن کے درخت لگوائے تھے لیکن گزشتہ ماہ جب میں اس گھر کو دیکھنے کے لیے گیا تو وہ باغیچے اجڑ چکے تھے، جامن کے درخت کٹ چکے تھے شیشم کے ایک بھی درخت کا نشان تک باقی نہ تھا۔ سڑک ٹوٹ چکی تھی باڑ کی چار دیواری کا نام و نشان نہ تھا اور اس رہائش گاہ کے سامنے جس تھڑے پر میں کھڑا ہوں اس کے چاروں کونوں میں گملے پڑے ہوتے تھے۔ وہ تھڑا بھی ٹوٹ چکا تھا اور تھڑے کے سامنے جہاں لش گرین گھاس ہوتا تھا وہاں گٹروں کا پانی جمع ہو کر جوھڑ کی شکل اختیار کر گیا تھا۔ حیران کن بات یہ تھی کہ وہاں اب بھی کوئی آفیسر رہ رہا تھا مگر اس گھر کو دیکھ کر میں اتنا افسردہ ہوا کہ وہاں رہائش پذیر آفیسر کو ملنے کا مجھے کوئی اشتیاق باقی نہ رہا۔ میں کافی دیر وہاں اداس کھڑا رہا اور میرا ڈرائیور محمود اس گھر کی یادوں کو کیمرے میں محفوظ کرتا رہا۔ گھر کے سامنے سڑک پر گھومتے ہوئے مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میرے والد اپنے ہاتھ میں سگریٹ پکڑے میرے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں جو 40 سال پہلے وہیں میرے ساتھ ہلکی پھلکی واک کرتے ہوئے سگریٹ نوشی کیا کرتے تھے اور دنیا جہاں کی باتیں کیا کرتے تھے۔ چار دہائیوں بعد اس روز میرے والد تو میرے ساتھ نہیں تھے مگر ان کی باتوں کی ریکارڈنگ میرے دماغ اور دل پر چھائی رہی۔ محمود جس وقت ویڈیو بنا رہا تھا میں نے بے اختیار اس گھر کی دیوار کو بوسہ دیا اور نمدار آنکھوں سے وہاں سے روانہ ہو گیا۔
ان کا معمول تھا کہ وہ کثرت سے درود ابراہیمی کا ورد کیا کرتے تھے اور وفات پا جانے کے بعد ایک مرتبہ میری ڈاکٹر بہن کے خواب میں آئے کیونکہ وہ بھی درود شریف کا ورد کرتی ہے۔ والد صاحب نے خواب میں آ کر اسے ہدایت کی کہ بیٹا کم از کم 70 مرتبہ روزانہ درود ابراہیمی کو اپنا معمول بنا لو اس کی بڑی برکت ہے۔
پنجاب اسمبلی کا نیا ہاسٹل اور لارنس روڈ لاہور پر واقعہ چلڈرن لائبریری کے پروجیکٹس انہی کی اور زیر نگرانی بنے۔ وہ بہت محنت کیا کرتے تھے شاید انہی کی محنت کی عادت مجھے انہی کی طرف سے عطیہ ہوئی ہے۔ فادرز ڈے کے موقع پر یادوں کا انبار ہے اور واقعات کا ڈھیر مگر تحریر طویل ہونے کے ڈر سے محض باپ بیٹے کا ایک انکاؤنٹر تحریر میں لا کر اجازت چاہوں گا۔ لاہور کی شادمان مارکیٹ غیر ملکی کپڑے کا مرکز ہوا کرتی تھی اور وہاں پینٹ کوٹ کا بہت عالیشان کپڑا ملتا تھا۔ میری شادی کے لیے سوٹ خریدنے کے لئے والد صاحب مجھے اپنے ساتھ لے کر گئے۔ انہوں نے جو سوٹ کا کپڑا پسند کیا وہ ساڑھے 12 ہزار روپے کا تھا اور آج سے 34 سال پہلے ساڑھے 12 ہزار روپیہ بہت بڑی رقم تھی مگر میں نے جو سوٹ کا کپڑا پسند کیا وہ ڈھائی ہزار روپے کا تھا جسے ابو نے مسترد کر دیا اور کہنے لگے کہ اس سے سلی پینٹ کی فال نہیں بنے گی اور اس کپڑے کی پینٹ کی فال جوتے کی نوک کے اوپر سیدھی نہیں رہے گی بلکہ ادھر ادھر ہلتی رہے گی اور بری لگے گی۔ ان کا سوٹنگ کا تجربہ کمال کا تھا اور ٹائی کی ناٹ لگانے میں بھی انہیں بڑی مہارت حاصل تھی۔ میں نے ضد کرکے ڈھائی ہزار والا لے لیا اور ابو کا 10 ہزار روپیہ بچا لیا۔ دکان کے مالک نے ابو سے پوچھا کہ آپ کیا کام کرتے ہیں، بڑے ہی خوش قسمت باپ ہیں یہاں میری دکان پر اولاد والدین سے لڑ رہی ہوتی ہے اور مہنگے سوٹ پسند کرتی ہے اور آپ کے بیٹے نے آپ کے ساتھ باقاعدہ ضد کرکے سستا سوٹ خریدا ہے۔ میری 18 سالہ دکانداری کا یہ پہلا واقعہ ہے۔
42 سال کی لگاتار سموکنگ سے ان کے پھیپھڑے متاثر ہو چکے تھے اور ایک دن مجھے کہنے لگے کہ بس بیٹا میرے پاس ڈیڑھ سال ہی باقی بچا ہے حالانکہ اس وقت اچھی خاصی صحت تھی اور کافی پیدل چلتے تھے، سمارٹ تھے اور بڑھاپے میں بھی انہوں نے کبھی بیٹھ کر نماز نہیں پڑھی تھی۔ پھر ان کی بات سچ ثابت ہوئی اور وہ ڈیڑھ سال بعد اللہ کے حضور پیش ہو گئے۔
ان سے ملاقات تو اب بھی ہوتی ہے مگر یا تو خواب میں یا پھر میانی صاحب کے قبرستان میں اور جب میں وہاں با اواز بلند سورت یاسین کی تلاوت کرتا ہوں تو چند ہی دن کے اندر انہیں خواب میں دیکھ لیتا ہوں۔ ہمیشہ سفید شلوار قمیض میں ہی نظر اتے ہیں مگر کوئی بات نہیں ہوتی بس ایک مطمئن چہرے کی جھلک ہی نظر آتی ہے۔ اللہ تعالی انہیں جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے۔







