ڈیرہ کالج کی میر چاکر ٹیکنالوجی یونیورسٹی میں اپ گریڈیشن، طلبہ صرف 300، تقریاں متنازع

ملتان (سٹاف رپورٹر) گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ڈیرہ غازی خان کو میر چاکر خان رند یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں اپ گریڈ کیے جانے کے بعد ادارے کے انتظامی ڈھانچے، اہم عہدوں پر تقرریوں، بھرتیوں کے طریقہ کار اور مجموعی تعلیمی کارکردگی کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق عبوری مرحلے میں کالج کے موجودہ ملازمین کو نئی یونیورسٹی میں شمولیت یا اپنے اصل محکمہ ٹیوٹا میں واپسی کا اختیار دیا گیا، تاہم اسی دوران انتظامی معاملات اور اہم ذمہ داریوں کی تقسیم کے حوالے سے بعض اعتراضات سامنے آئے۔ عارف خان مستوئی جو اس سے قبل بی پی ایس۔17 لیکچرار کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، کو انتظامی ذمہ داریاں سونپی گئیں اور بعد ازاں ان کی جانب سے یونیورسٹی کی اعلیٰ انتظامی ذمہ داریوں سے متعلق فرائض انجام دیئے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ان کے تدریسی منصب سے انتظامیہ میں آنے اور بعد ازاں رجسٹرار کے عہدے تک پہنچنے کے پورے عمل پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیںجس کے باعث معاملے کی آزادانہ جانچ کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ بعد ازاں رجسٹرار، خزانچی اور کنٹرولر امتحانات سمیت اہم قانونی عہدوں کے لیے اشتہارات جاری کرکے بھرتی کا عمل مکمل کیا گیا، تاہم ان بھرتیوں کی شفافیت اور غیر جانب داری کے حوالے سے بھی اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ امیدواروں کی اہلیت، سکروٹنی، شارٹ لسٹنگ، انٹرویوز، تقابلی جائزے اور سلیکشن کمیٹی کی کارروائی کس حد تک میرٹ اور شفافیت کے اصولوں کے مطابق تھی۔ متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ بھرتیوں کا مکمل ریکارڈ طلب کرکے غیر جانب دارانہ طور پر اس کا جائزہ لیا جائے۔ یونیورسٹی میں بعد ازاں ہونے والی بعض تقرریوں کے حوالے سے بھی یہ الزامات سامنے آئے ہیں کہ مخصوص علاقوں، سماجی حلقوں یا مبینہ خاندانی روابط رکھنے والے افراد کو غیر معمولی طور پر فائدہ پہنچایا گیا۔ تاہم ان الزامات کی حقیقت کا تعین اشتہارات، امیدواروں کی فہرستوں، شارٹ لسٹنگ کے معیار، سلیکشن کمیٹی کی کارروائی اور حتمی تقرریوں کے ریکارڈ کی جانچ سے ہی ممکن ہے۔ دوسری جانب ملازمین کی جانب سے یونیورسٹی کے انتظامی ماحول پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ بعض ملازمین کا کہنا ہے کہ معمولی تاخیر یا چند منٹ پہلے یا بعد میں دفتر سے روانگی جیسے معاملات پر وضاحتیں طلب کرکے وارننگز اور دیگر انتظامی کارروائیاں کی جاتی ہیں، جبکہ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا حاضری اور نظم و ضبط کے یکساں اصول تمام افسران اور ملازمین پر یکساں طور پر لاگو ہو رہے ہیں یا نہیں۔ اگر قواعد کے اطلاق میں امتیاز ثابت ہوتا ہے تو یہ معاملہ انتظامی انصاف کے حوالے سے انتہائی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ ادھر میر چاکر خان رند یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے قیام کے بعد اس کی مجموعی تعلیمی و ادارہ جاتی کارکردگی بھی سوالات کی زد میں ہے۔ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کا درجہ حاصل کرنے کے باوجود طلبہ کے داخلوں، فیکلٹی کی مضبوطی، نئے تعلیمی پروگرامز، انفراسٹرکچر، تحقیق، ایکریڈیٹیشن اور ادارہ جاتی ترقی کے حوالے سے مطلوبہ پیش رفت نہ ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی میں موجودہ طلبہ کی تعداد تقریباً 300 تک محدود رہ گئی ہے، جو متعلقہ حکام کے لیے سنجیدہ تشویش کا باعث ہونی چاہیے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر داخلوں میں واقعی اتنی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے تو اس کی وجوہات کا غیر جانب دارانہ تعین ضروری ہے۔ یہ معلوم کیا جانا چاہیے کہ آیا طلبہ کی کمی کی وجہ تعلیمی پروگرامز، فیکلٹی، انفراسٹرکچر، ایکریڈیٹیشن، انتظامی ماحول یا یونیورسٹی کے بارے میں عوامی تاثر ہے۔ ماہرین کے مطابق محض ادارے کو یونیورسٹی کا درجہ دے دینا کافی نہیں بلکہ اسے معیاری تعلیم، تحقیق، مضبوط فیکلٹی اور شفاف انتظامی نظام کے ذریعے فعال ٹیکنالوجی یونیورسٹی بنانا اصل امتحان ہے۔ذرائع اور ملازمین کی جانب سے سامنے آنے والے اعتراضات کی روشنی میں متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ یونیورسٹی میں ہونے والی اہم تقرریوں اور تمام بھرتیوں، سلیکشن کمیٹیوں کی کارروائی، امیدواروں کی سکروٹنی، حاضری و تادیبی ریکارڈ اور تعلیمی کارکردگی کا مکمل اور آزادانہ آڈٹ کرایا جائے تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور اگر کسی مرحلے پر قانون، میرٹ یا شفافیت کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ داروں کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں