بہاولپور (کرائم رپورٹر) چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی آفس میں پٹواری و گرداور کرپشن میں ملوث ہونے کے انکشافات، کروڑوں روپے کی لوٹ مار، عوام کا استحصال جاری ہے اور جعلی الاٹمنٹ کا دھندا عروج پر پہنچ گیا ہے۔ عوام کا استحصال روز کا معمول بن چکا ہے۔ چولستان کے سرکاری رقبوں کی جعلی الاٹمنٹ کا کاروبار بھی زور و شور سے جاری ہے۔ سی ڈی اے اسٹیٹ آفس کے بااثر عملے کی شہ پر چولستانیوں کو بے دخل کر کے بااثر افراد کو الاٹمنٹ دینے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق چولستان میں اس وقت بااثر اور مضبوط گروہ سرگرم عمل ہیں جن میں کئی بڑے بڑے سیاسی خاندانوں کے لوگ بھی شامل ہیں۔ یہ لوگ چولستانیوں کو دھمکا کر، ان سے زبردستی ان کی آبادیاں چھڑوا کران کے رقبوں پر قبضہ کروا رہے ہیں۔ مقامی پولیس کے کچھ اہلکار بھی مبینہ طور پر اس دھندے میں سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ چولستان میں جاری مختلف سکیمیں، جن میں شاہی مزارع سکیم، اوکاڑہ متاثرین سکیم اور چراگاہوں کے رقبے شامل ہیں، ان سب کے معاملات پر عدالت عالیہ اور سپریم کورٹ کے احکامات موجود ہیں کہ فیصلے تک کوئی نئی الاٹمنٹ نہ کی جائے۔ لیکن اس کے باوجود مبینہ طور پر اسٹیٹ آفس کے متعلقہ اہلکار مبینہ رشوت لے کر جعلی کاغذات تیار کر کے بااثر افراد کو رقبے الاٹ کر رہے ہیں۔چولستان کے عوام نے الزام لگایا ہے کہ درخواستیں جمع کروانے کے باوجود کارروائی نہیں ہوتی کیونکہ مبینہ طور پر افسران اپنا حصہ وصول کر کے سب کچھ نظر انداز کر دیتے ہیں۔ متاثرین نے کہا ہے کہ پٹواری اور گرداور اپنے مخصوص ایجنٹوں کے ذریعے لاکھوں روپے لے کر جعلی الاٹمنٹ کر رہے ہیں اور اصل آبادکاروں کو زبردستی بے دخل کیا جا رہا ہے۔چولستان کے مختلف علاقوں میں قبضہ گروپ سرگرم ہو چکے ہیں جن میں ڈیرہ غازی خان کا بزدار گروپ، سندھ کے بااثر گروہ اور پنجاب کے کئی طاقتور عناصر شامل ہیں جنہوں نے ہزاروں ایکڑ سرکاری رقبے پر قبضہ جما رکھا ہے۔عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز و کمشنر بہاولپور سے اپیل کی ہے کہ فوری نوٹس لے کر اس کرپٹ نیٹ ورک کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ غریب چولستانیوں کو انصاف مل سکے۔







