بہاولپور(کرائم رپورٹر) بہاولپور کے محکمہ چولستان میں مبینہ کرپشن، جعلسازی اور پرائیوٹ ٹاؤٹ مافیا کے راج کے سنگین الزامات نے شہریوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن کی کاروائی کے دوران سی او ون کے ریڈر تفسیر حیدر اور کالونی برانچ کے کلرک سید ناظم شاہ کو گرفتار کیا جا چکا ہے تاہم ان سے منسلک مبینہ فرنٹ مین اور دیگر افراد بدستور محکمہ میں سرگرم ہیں اور شہریوں سے مبینہ طور پر لاکھوں روپے لوٹ رہے ہیں زرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ چولستان میں عرصہ دراز سے تعینات صادق نامی اہلکار جو سرکاری ریکارڈ میں بطور اہلمد درج ہے، مگر عرصہ دراز سے صادق اہلمد سی او ون کا مبینہ طور پر ڈرائیور تعینات ہے حیران کن بات یہ سامنے آئی ہے کہ ایک معمولی اہلمد کروڑوں روپے کے اثاثوں کا مالک بن چکا ہے الزام ہے کہ وہ سی او ون سید عثمان بخاری کی مبینہ سرپرستی میں اہم معاملات چلاتا ہے پارٹیوں سے مبینہ ڈیلنگ کرتا ہے اور سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل کروانے میں کردار ادا کرتا ہے ذرائع کے مطابق محکمہ چولستان میں پرائیویٹ ٹاوٹ مافیا بھی پوری طرح متحرک ہے جن میں زین نامی شخص جو مبینہ طور پر کمپیوٹر آپریٹر کے طور کام کر رہا ہے جبکہ آصف نامی شخص سی او ون کا مبینہ پرسنل فرنٹ مین بن کر افسران کے نام پر شہریوں سے لاکھوں روپے وصول کر رہا ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ مبینہ گینگ نہایت منظم انداز میں لاٹوں کی فائلوں میں ردوبدل جعلی الاٹمنٹس اور دیگر سرکاری ریکارڈ کے نام پر سادہ لوح افراد کو مبینہ طور پر لوٹ رہا ہے جسکی وجہ سے روزانہ لاکھوں روپے کی کرپشن کی جا رہی ہے زرائع کے مطابق عوامی شکایات پر اینٹی کرپشن نے کالونی برانچ کے کلرک سید ناظم شاہ اور سی او ون کے ریڈر تفسیر حیدر کے خلاف کاروائی کی تاہم شہری سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر مبینہ نیٹ ورک وسیع تھا تو اسکے دیگر مبینہ کرداروں کے خلاف کاروائی کیوں عمل میں نہیں لائی گئی بہاولپور کے عوامی وسماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور کمشنر بہاولپور سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ چولستان میں مبینہ کرپشن، پرائیویٹ ٹاوٹس اور غیر قانونی سرگرمیوں کی شفاف تحقیقات کروا کر ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے تاکہ شہریوں کا اعتماد بحال ہو سکے۔







