آئی ایم ایف پیٹرول پر عائد لیوی کم کرنے پر راضی نہیں، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک-آئی ایم ایف پیٹرول پر عائد لیوی کم کرنے پر راضی نہیں، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک-امریکی حملے میں پاسدارانِ انقلاب کے 3 اہلکار ہلاک، ایران نے زنجان حملے کی تصدیق کر دی-امریکی حملے میں پاسدارانِ انقلاب کے 3 اہلکار ہلاک، ایران نے زنجان حملے کی تصدیق کر دی-پاکستان کا امریکا اور ایران سے مذاکرات کا مطالبہ، خطے میں کشیدگی پر دفتر خارجہ کا اظہارِ تشویش-پاکستان کا امریکا اور ایران سے مذاکرات کا مطالبہ، خطے میں کشیدگی پر دفتر خارجہ کا اظہارِ تشویش-پی ایس او سمیت بڑی آئل کمپنیوں کا اربوں روپے کا مبینہ فراڈ بے نقاب-پی ایس او سمیت بڑی آئل کمپنیوں کا اربوں روپے کا مبینہ فراڈ بے نقاب-لاہور ہائیکورٹ کا نورین نیازی کو ریلیف، این سی سی آئی اے کیس میں ایک ہفتے کی حفاظتی ضمانت منظور-لاہور ہائیکورٹ کا نورین نیازی کو ریلیف، این سی سی آئی اے کیس میں ایک ہفتے کی حفاظتی ضمانت منظور

تازہ ترین

پی ایس او سمیت بڑی آئل کمپنیوں کا اربوں روپے کا مبینہ فراڈ بے نقاب

لاہور: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) سمیت ملک کی متعدد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پیٹرولیم لیوی، کلائمیٹ لیوی اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں مبینہ طور پر کم رقم جمع کرانے پر نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق ایف بی آر نے درآمد شدہ پیٹرولیم مصنوعات کے ریکارڈ اور کمپنیوں کے فروختی اعدادوشمار کا جائزہ لینے کے بعد نشاندہی کی کہ مختلف کمپنیوں کی جانب سے واجبات کی مکمل ادائیگی نہیں کی گئی۔ ادارے کے مطابق مجموعی طور پر تقریباً 9 ارب 99 کروڑ 95 لاکھ روپے کی رقم کم جمع کرائی گئی ہے۔
نوٹس میں بتایا گیا کہ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) پر سب سے زیادہ 8 ارب 19 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد واجبات ظاہر کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر کمپنیوں میں پوما انرجی، پاک عرب پائپ لائن، ہائی ٹیک لبرکنٹس، بی انرجی لمیٹڈ، تاج گیسولین اور گیس اینڈ آئل پاکستان لمیٹڈ بھی شامل ہیں، جنہیں مختلف مالیت کے واجبات کی ادائیگی کے لیے نوٹس بھیجے گئے ہیں۔
ایف بی آر کے مطابق درآمد شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی آف لوڈنگ اور فروخت کے ریکارڈ کی بنیاد پر یہ فرق سامنے آیا، جس کے باعث متعلقہ کمپنیوں کو وضاحت پیش کرنے اور واجبات کی ادائیگی کی ہدایت کی گئی ہے۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر مقررہ وقت میں نوٹسز کا جواب نہ دیا گیا یا واجبات جمع نہ کرائے گئے تو متعلقہ قوانین کے تحت مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں