کراچی: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کے مجوزہ نظام کے خلاف پٹرول پمپ مالکان کی ہڑتال کے باعث کراچی، لاہور اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں متعدد پٹرول پمپ بند ہوگئے، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق لاہور اور اس کے گردونواح میں 150 سے زائد پٹرول پمپ بند ہیں، جس کے باعث گاڑی مالکان کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی طرح کراچی کے مختلف علاقوں سے بھی متعدد پٹرول پمپ بند ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ادھر خیبرپختونخوا میں پٹرولیم ایسوسی ایشن نے اپنے مطالبات کے حق میں غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کر دی ہے، جس کے نتیجے میں صوبے کے کئی اضلاع میں متعدد پٹرول پمپ مکمل یا جزوی طور پر بند ہیں۔
مالاکنڈ ڈویژن کے اضلاع لوئر دیر، اپر دیر، چترال، باجوڑ، سوات، مالاکنڈ، شانگلہ اور بونیر میں بھی ہڑتال کے باعث چھوٹے اور بڑے تمام پٹرول پمپ گزشتہ رات سے بند ہیں، جس سے ایندھن کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔
پٹرول پمپوں کی بندش کے باعث نہ صرف شہری بلکہ ٹرانسپورٹ سیکٹر بھی مشکلات کا شکار ہے، جبکہ کئی علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ کی دستیابی بھی انتہائی محدود ہو گئی ہے۔
پٹرول پمپ مالکان کی ایسوسی ایشن کا مطالبہ ہے کہ وفاقی حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ تعین کرنے کا مجوزہ فارمولا واپس لے۔ ایسوسی ایشن نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ گزشتہ آٹھ برس سے پٹرول پمپ مالکان کے منافع کے مارجن میں اضافہ نہیں کیا گیا، جس پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔
پیٹرولیم ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کے جنرل سیکریٹری بہزاد الرحمن نے کہا کہ جب تک مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، احتجاج اور ہڑتال جاری رہے گی۔ انہوں نے حکومت سے فوری مذاکرات اور مسئلے کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔







