ملتان ( سپیشل رپورٹر )پٹرولیم قیمتوں میں اضافے پرملتان شہرمیںپٹرول پمپس پربھاری رش لگارہا۔لمبی لمبی لائنیں لگ گئیں ،مہنگائی کانیاطوفان تیارہوگیا، شہری حکومت پرپھٹ پڑے۔ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے ایک بار پھر عوام میں بے چینی اور اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ اگرچہ حکومتِ پنجاب یا وفاقی سطح پر اس حوالے سے باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا مگر محض افواہوں نے ہی نظام کی کمزوری اور عوامی اعتماد کے فقدان کو بے نقاب کر دیا ہے۔یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر کیوں ہر بار قیمتوں میں اضافے کی خبر آتے ہی عوام پٹرول پمپس کا رخ کرتے ہیں؟ اس کی بنیادی وجہ حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کی کمی اور واضح حکمت عملی کا فقدان ہے۔ عوام کو نہ تو بروقت اور شفاف معلومات فراہم کی جاتی ہیں اور نہ ہی مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے کوئی مؤثر لائحہ عمل دیا جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین بین الاقوامی مارکیٹ، روپے کی قدر میں کمی اور ٹیکسز کی بلند شرح سے جڑا ہوا ہےمگر سوال یہ ہے کہ اس بوجھ کا زیادہ تر حصہ ہمیشہ عام آدمی پر ہی کیوں ڈالا جاتا ہے؟ حکومت کی جانب سے ٹیکسوں میں کمی یا متبادل ریلیف کے اقدامات نہ ہونے کے برابر نظر آتے ہیں۔شہریوں محمدعالم قریشی،رفیق احمدسہو،ارسلان ڈوگر،چوہدری محمدعامر،طلحہ ایوب ودیگرنے ’’قوم‘‘سےگفتگوکرتےہوئےکہاہےکہ عالمی منڈی میں جب تیل کی قیمتیں کم ہوئیں توحکومت نے پٹرول کی قیمت کم نہیں کی۔اب ہرجمعےرات کی تاریکی میں پٹرول وڈیزل کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کردیاجاتاہے۔گھریلوبجٹ درہم برہم ہوکررہ گیاہے۔مہنگائی نے جینامحال کردیاہے۔سمارٹ لاک ڈائون کی وجہ سے کاروبارتباہ ہوکررہ گیاہے۔ضروری کام کیلئے بھی گھرسے بائیک پرجاتےہوئے کئی بارسوچناپڑتاہے۔پٹرول کی قیمتوں میں بھاری اضافےنےکمرتوڑکررکھ دی ہے۔حکومت کا2ہزارروپے ریلیف کااعلان صرف اعلان ہی ثابت ہواہے۔کسی کوبھی 2ہزارروپے کی پٹرول سبسڈی نہیں ملی۔آپ سروے کرکے دیکھ لیں۔دوسری جانب معاشی ماہرین کے مطابق مہنگائی کی موجودہ لہر میں سب سے زیادہ متاثر نچلا اور متوسط طبقہ ہو رہا ہے۔ ایک طرف آمدنی جمود کا شکار ہے، دوسری طرف اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو بھی براہِ راست متاثر کرتا ہےجس سے مہنگائی کا ایک نیا طوفان جنم لیتا ہے۔پٹرول پمپس پر لگنے والی طویل قطاریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام کو حکومتی بیانات پر مکمل اعتماد نہیں رہا۔ ایک کم عمر بچے کا صرف 60 روپے کا پٹرول حاصل کرنے کے لیے گھنٹوں لائن میں کھڑا رہنا اس نظام کی ناکامی کی واضح علامت ہے، جہاں بنیادی ضروریات بھی عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔تنقیدی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو حکومت کی ترجیحات پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں اور دیگر اخراجات کے مقابلے میں عوامی ریلیف کو کم اہمیت دینا ایک ایسا رجحان بنتا جا رہا ہے جو معاشرتی بے چینی کو جنم دے رہا ہے۔ اگر بروقت اور مؤثر فیصلے نہ کیے گئے تو یہ معاشی دباؤ سماجی مسائل میں بھی اضافہ کر سکتا ہے۔عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت نہ صرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو روکے بلکہ ایک جامع اور دیرپا پالیسی ترتیب دے جس میں عام شہری کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ بصورت دیگر مہنگائی کا یہ طوفان نہ صرف معیشت بلکہ معاشرتی استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔







