انتظامی خلا ختم، ایمرسن کو مستقل وی سی مل گیا، ڈاکٹر حسن خالق قریشی تعینات، کارکردگی کا امتحان

ملتان ( سٹاف رپورٹر) طو یل عرصے سے جاری انتظامی خلا کے بعد بالآخر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ گورنمنٹ آف پنجاب نے 30 اپریل 2026 کو اہم نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر حسن خالق قریشی کو ایمرسن یونیورسٹی ملتان کا وائس چانسلر مقرر کر دیا ہےجس کے ساتھ ہی تقریباً آٹھ ماہ سے خالی اس اہم عہدے پر مستقل تقرری عمل میں آ گئی ہے۔ یہ نشست 21 اگست 2025 کو خالی ہوئی تھی جس کے بعد جامعہ میں انتظامی امور عارضی بنیادوں پر چلائے جا رہے تھے اور تعلیمی و پالیسی سطح پر کئی فیصلے تاخیر کا شکار تھے۔ ذرائع کے مطابق اس دوران اساتذہ اور طلبہ حلقوں کی جانب سے مستقل وائس چانسلر کی تقرری کے لیے بارہا مطالبات بھی سامنے آئے۔سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ تقرری سرچ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کی گئی جو 28 نومبر 2025 کے نوٹیفکیشن کے تحت قائم کی گئی تھی۔ گورنر/چانسلر نے ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے ایکٹ 2021 کے سیکشن 14(6) اور 10(6) کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر حسن خالق قریشی کو چار سال کی مدت کے لیے فوری طور پر ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔ تعلیمی و پیشہ ورانہ اعتبار سے نئے وائس چانسلر کا پروفائل خاصا مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سٹیج یونیورسٹی لندن سے وائرلیس ٹیلی کمیونیکیشن اور نیٹ ورکس میں پی ایچ ڈی مکمل کی،بلیکنگ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی تحقیق جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں جیسے D2D کمیونیکیشن، انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) اور سائبر فزیکل سسٹمز پر مرکوز رہی ہے۔ انہوں نے اپنے تدریسی کیریئر کا آغاز بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے بطور لیکچرر کیا جبکہ گزشتہ تقریباً پندرہ برس سے وہ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے وابستہ ہیں۔ یہاں وہ اسسٹنٹ پروفیسر سے ترقی کرتے ہوئے ٹینیورڈ پروفیسر کے عہدے تک پہنچے اور حالیہ عرصے میں آئی سی ٹی کنسلٹنٹ کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بھی ان کی خدمات کو سراہا گیا ہے۔ انہیں یورپین کمیشن کے ایراسمس منڈس پروگرام کے تحت پوسٹ ڈاک فیلوشپ اور اسٹاف موبیلیٹی جیسے اعزازات حاصل ہو چکے ہیں جبکہ انہوں نے انجینئرنگ میں اپنی بیچلرز ڈگری کے دوران نمایاں کارکردگی پر میرٹ سرٹیفکیٹ بھی حاصل کیا۔ تعلیمی حلقوں کا ماننا ہے کہ ایمرسن یونیورسٹی ملتان کو درپیش انتظامی چیلنجز، تحقیقی جمود اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے مسائل کے حل کے لیے ایک مضبوط اور وژنری قیادت کی ضرورت تھی جو اب کسی حد تک پوری ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ تاہم اصل امتحان اب نئے وائس چانسلر کے لیے یہ ہوگا کہ وہ کس حد تک ادارے میں شفافیت، تعلیمی معیار اور تحقیق کے فروغ کو یقینی بناتے ہیں اور یونیورسٹی کو ایک مستحکم اور ترقی یافتہ سمت میں لے کر جاتے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں