پنجاب حکومت کا بورڈ چیئرمین تقرریوں میں یوٹرن، 3 سال کا لالی پاپ، 18 ماہ کا نوٹیفکیشن

ملتان (سٹاف رپورٹر)حکومت پنجاب کی جانب سے صوبے کے مختلف بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (BISEs) کے چیئرمینوں کی حالیہ تقرریوں میں حکومت نے امیدواروں سے ایک وعدہ کیامگر تقرری کسی اور شرط پر کر دی۔ اس صورتحال نے بھرتی کے پورے عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ دستیاب سرکاری اشتہار کے مطابق حکومت پنجاب کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نےملتان، بہاولپور، ڈی جی خان، فیصل آباد، گوجرانوالہ، لاہور، راولپنڈی، ساہیوال اور سرگودھا کے تعلیمی بورڈز کے چیئرمینوں کی اسامیوں کے لیے درخواستیں طلب کی تھیں۔ اشتہار میں Tenure and Pay کے عنوان کے تحت واضح اور غیر مبہم الفاظ میں درج کیا گیا تھا کہ منتخب ہونے والے امیدوار کی تقرری تین سال کے لیے ہوگی یا پھر کنٹرولنگ اتھارٹی کی خوشنودی تک برقرار رہے گی۔ اس شرط کی بنیاد پر متعدد سینئر افسران اور پروفیسرز نے اپنی موجودہ ملازمتوں سے ڈیپوٹیشن پر جانے کے لیے درخواستیں جمع کروائیں اور پورا انتخابی عمل اسی بنیاد پر مکمل کیا گیا۔ حیران کن طور پر جب حکومت پنجاب کے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے تین جولائی 2026 کو کامیاب امیدواروں کی تقرری کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا تو اس میں تمام چیئرمینوں کی مدتِ تعیناتی صرف 18 ماہ مقرر کر دی گئی جو یکم جولائی 2026 سے 31 دسمبر 2027 تک بنتی ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمتوں میں اشتہار صرف ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ امیدوار اور حکومت کے درمیان ایک قانونی وعدہ تصور کیا جاتا ہے۔ اگر حکومت تقرری سے قبل اشتہار میں درج شرائط میں تبدیلی کرنا چاہتی تھی تو اس کے لیے باقاعدہ قانونی طریقہ اختیار کرنا ضروری تھا جس میں مجاز اتھارٹی کی منظوری، شرائط میں ترمیم اور ضرورت پڑنے پر نیا یا ترمیم شدہ اشتہار جاری کرنا شامل ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو تقرری کا نوٹیفکیشن اشتہار میں درج بنیادی شرائط سے متصادم قرار دیا جا سکتا ہےجسے کسی بھی متاثرہ فریق کی جانب سے عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ یہ معاملہ اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ مدتِ ملازمت کسی بھی اعلیٰ انتظامی عہدے کی بنیادی شرط ہوتی ہے۔ کوئی بھی امیدوار تین سالہ مدت کو مدنظر رکھتے ہوئے درخواست دینے یا اپنی سابقہ ملازمت چھوڑنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اگر بعد ازاں اسی مدت کو بغیر کسی واضح قانونی جواز کے نصف کے قریب کم کر دیا جائے تو یہ نہ صرف امیدواروں کی جائز توقعات (Legitimate Expectations) کو متاثر کرتا ہے بلکہ پورے بھرتی کے عمل کی قانونی حیثیت پر بھی سوالات اٹھاتا ہے۔ انتظامی حلقوں میں بھی یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ آخر ایسی کون سی غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی کہ اشتہار میں تین سال کی مدت رکھی گئی لیکن تقرری کے وقت اسے اچانک صرف ڈیڑھ سال تک محدود کر دیا گیا۔ اگر حکومت کے پاس اس تبدیلی کا اختیار موجود تھا تو کیا اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے کوئی باقاعدہ نوٹیفکیشن، کابینہ کی منظوری یا ترمیم شدہ بھرتی پالیسی جاری کی گئی؟ اگر ایسا کوئی فیصلہ موجود ہے تو اسے عوام کے سامنے کیوں نہیں لایا گیا اور اگر ایسا کوئی فیصلہ موجود نہیں تو پھر تقرریاں اشتہار کے برعکس کس قانونی بنیاد پر کی گئیں؟سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق انجینئر ڈاکٹر بدر الاسلام پروفیسر (BS-21) خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی رحیم یار خان کو بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے جبکہ پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف پروفیسر (BS-21)، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کو چیئرمین بورڈ ڈی جی خان تعینات کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر اقصیٰ شبیر، ایسوسی ایٹ (BS-20)، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کو چیئرمین بورڈ گوجرانوالہ، ڈاکٹر رانا بنیامین، چیئرمین و ایسوسی ایٹ پروفیسر (BS-20)، محمد نواز شریف یونیورسٹی آف ایگریکلچر ملتان کو چیئرمین بورڈ فیصل آباد،پروفیسر اقبال محمود، پرنسپل (BS-20)، گورنمنٹ گریجویٹ کالج عبداللہ پور فیصل آباد کو چیئرمین بورڈ راولپنڈی اور ڈاکٹر اعجاز احمد، ایسوسی ایٹ پروفیسر (BS-20)، یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور کو چیئرمین بورڈ ملتان مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح عباس حیدر، ڈائریکٹر (BS-19)، انٹیلی جنس بیورو اسلام آباد کو چیئرمین بورڈ سرگودھا، اشتیاق احمد، ڈائریکٹر آئی ٹی (BS-19)، یونیورسٹی آف سرگودھا کو چیئرمین بورڈ بہاولپور جبکہ فیصل اعجاز، ایڈیشنل کنٹرولر امتحانات (BS-19)، یونیورسٹی آف گجرات، جو اس وقت انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی لاہور میں بطور کنٹرولر امتحانات خدمات انجام دے رہے ہیں، انہیں چیئرمین بورڈ ساہیوال تعینات کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں واضح طور پر درج ہے کہ تمام تقرریاں ڈیپوٹیشن کی بنیاد پر یکم جولائی 2026 سے 31 دسمبر 2027 تک یعنی صرف 18 ماہ کے لیے کی گئی ہیںجبکہ تمام چیئرمین صوبائی کابینہ کی منظوری کے مطابق چیئرمین BISE الاؤنس کے بھی حقدار ہوں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں