اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں پیش آنے والے آتشزدگی کے افسوسناک واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، انکوائری کمیٹی نے واقعے سے متعلق پمز کے 4 اعلیٰ افسران سے تحریری وضاحت طلب کرلی۔
چیئرمین انکوائری کمیٹی کی جانب سے پمز کے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت چار افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ واقعے کی مکمل تفصیلات تحریری طور پر فراہم کی جائیں۔ افسران سے بالخصوص آگ لگنے کی اصل وجہ، واقعے کے حالات اور ذمہ دار عوامل سے متعلق جواب مانگا گیا ہے۔
انکوائری کمیٹی نے افسران سے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق بھی تفصیلات طلب کی ہیں۔ پمز انتظامیہ کے متعلقہ افسران کو اپنے بیانات مقررہ وقت، صبح 8 بجے تک جمع کروانے کی ہدایت کی گئی تھی۔
دوسری جانب نئے وفاقی سیکریٹری صحت کیپٹن محمود رائے نے رات گئے پمز اسپتال کے باہر شہریوں کے لیے ٹینٹ قائم کروا دیا۔ ٹینٹ میں روشنی اور پنکھوں کا انتظام کرنے کے ساتھ کرسیاں بھی رکھی گئی ہیں تاکہ شہری وہاں بیٹھ سکیں اور اپنی شکایات حکام تک پہنچا سکیں۔
وفاقی سیکریٹری صحت محمود رائے روزانہ کی بنیاد پر کیمپ میں بیٹھ کر پمز اسپتال کے انتظامی معاملات اور دستیاب سہولیات کا جائزہ لیں گے، جبکہ شہریوں کی شکایات بھی براہ راست سنیں گے۔
واضح رہے کہ 27 اگست، 12 ربیع الاول کی صبح تقریباً 6 بجے پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کے نتیجے میں 14 نومولود جاں بحق ہوگئے تھے۔







