کپاس کے کاشتکار آلودگی سے پاک کپاس کی صاف چنائی یقینی بنائیں: مس صباحت حسین

ملتان (ڈیلی قوم) سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کی ڈائریکٹر مس صباحت حسین نے کاشتکاروں کے نام ایک اہم پیغام جاری کرتے ہوئے آلودگی سے پاک اور معیاری کپاس کی صاف چنائی پر خصوصی زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کپاس کے اعلیٰ معیار اور بہتر قیمت کا حصول براہ راست اس کی محتاط اور صاف ستھری چنائی پر منحصر ہے اور موجودہ موسمی حالات میں جہاں بارشوں کے بعد نمی اور حبس کا تسلسل دیکھا جا رہا ہے وہاں کاشتکاروں کو چاہیے کہ وہ متوقع بارشوں سے قبل کھلے ہوئے ٹینڈوں سے کپاس کی چنائی مکمل کر لیں تاکہ پھٹی نمی اور آلودگی سے محفوظ رہ سکے۔ ڈائریکٹر سی سی آر آئی ملتان نے واضح کیا کہ چنائی ہمیشہ صبح اس وقت شروع کی جائے جب رات بھر کی نمی اور حبس قدرے کم ہو چکی ہو کیونکہ زیادہ نمی والی کپاس سٹور میں رکھنے کے بعد گرم ہو جاتی ہے جس سے روئی کا رنگ متاثر ہوتا ہے اور بیج کی اگاو صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ چنائی کرتے وقت صرف مکمل کھلے ہوئے ٹینڈوں سے کپاس نکالی جائے اور آدھے کھلے یا نامکمل ٹینڈوں کو بالکل نہ چھوا جائے جبکہ چنی ہوئی پھٹی میں پتے، سانگلی، رسیاں، بال یا کوئی بھی غیر ضروری چیز شامل نہ ہونے دی جائے۔ چنائی کرنے والی خواتین سوتی کپڑے کی جھولیاں استعمال کریں تاکہ مصنوعی ریشے یا پلاسٹک کی آلودگی سے بچا جا سکے۔ بارش سے متاثرہ پھٹی کو پہلے سے خشک کی ہوئی پھٹی کے ساتھ ہرگز نہ ملایا جائے بلکہ اسے الگ رکھ کر دھوپ میں اچھی طرح خشک کیا جائے اور جب نمی دس فیصد سے کم ہو جائے تو ہی جننگ کے لیے بھیجا جائے۔ بیج کے مقاصد کے لیے صرف صحت مند اور خشک پھٹی محفوظ کی جائے جبکہ نمی کی سطح ذخیرہ کرتے وقت آٹھ سے دس فیصد کے درمیان رکھی جائے۔ ڈائریکٹر سی سی آر آئی ملتان نے کہا کہ اگر کاشتکار ان ہدایات پر سختی سے عمل کریں تو نہ صرف مقامی اور عالمی منڈی میں بہتر نرخ حاصل ہو سکتے ہیں بلکہ پاکستانی کپاس کی مجموعی ساکھ بھی بہتر ہو گی۔ انہوں نے کاشتکاروں سے اپیل کی کہ وہ موجودہ سیزن میں ان احتیاطی تدابیر کو اپنا کر آلودگی سے پاک معیاری کپاس کی پیداوار یقینی بنائیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں