پاکستان میں صحت کے شعبے میں تحقیق کی کمی، افغانستان پولیو کے خاتمے میں پاکستان سے آگے
Post Views:174
کراچی: وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں صحت کے شعبے میں بہت تحقیق ہو رہی ہے مگر اس پر عمل درآمد کی کمی ہے، جب کہ افغانستان پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان سے بہتر کوششیں کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کراچی میں ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان سے زیادہ مؤثر اقدامات کر رہا ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان ایک ساتھ پولیو کا خاتمہ کریں۔ وزیر صحت نے مزید کہا کہ پاکستان کے صحت کے مسائل کا حل ٹیکنالوجی اور موبائل فون کے استعمال میں ہے، جبکہ بڑے ہسپتال 70 فیصد مریضوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں اور پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کیئر کی کمی ہے۔ مصطفی کمال نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ہر شہری کا قومی شناختی کارڈ نمبر اب اس کا میڈیکل ریکارڈ نمبر بننے جا رہا ہے اور اسلام آباد جا کر ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈز کی رپورٹس منگوا کر اس پر عمل درآمد کرائیں گے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزارت صحت اور تعلیم کے ادارے عوام کا درد کم کرنے کی بجائے بڑھا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ فارماسوٹیکل انڈسٹری اب محفوظ ہاتھوں میں ہے، کیونکہ سی ای او ڈریپ ڈاکٹر عبید اللہ کی قیادت میں اس کا انتظام ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ چھٹی انٹرنیشنل میڈیکل ریسرچ کانفرنس کراچی کے اڈیٹوریم میں منعقد ہو رہی ہے، جس میں ڈریپ، قومی ادارہ صحت اسلام آباد اور دیگر سرکاری و غیر سرکاری اسپتالوں کے حکام شریک ہیں۔
تازہ ترین
بہاولپور ریلوے سیکشن میں میٹریل چوری معمول، مقدمات درج، کاروائی صفر
تونسہ میں گھریلو جھگڑے پر خاوند کی مبینہ فائرنگ، 34 سالہ خاتون جاں بحق
دنیاپور:تفتیشی افسرکی ’’خدمت‘‘،مدعیہ کے بیٹے سے ٹانگیں دبوانے کی ویڈیو وائرل
خانیوال : ٹریفک قوانین کا دوہرا معیار؟ شہری کا چالان، پولیس گاڑی سڑک پر پارک
چیمبرالیکشن، فرینڈزگروپ کی شاندار کامیابی، چوہدری ذوالفقار انجم کو مبارکبادیں
زکریا یونیورسٹی ، طلبہ تنظیموں کا تصادم، فائرنگ سے سٹوڈنٹ شدید زخمی، تین گرفتار
انٹر امتحان، ملتان میں علی بن عبداللہ کی پہلی پوزیشن، بہاولپور، ڈیرہ میں طالبات بازی لے گئے
میپکو ملازمین کی مبینہ انتقامی کاروائیاں، میٹر خود ٹیمپرڈ، صارفین پر چوری کے مقدمے
پاکستان میں صحت کے شعبے میں تحقیق کی کمی، افغانستان پولیو کے خاتمے میں پاکستان سے آگے
کراچی: وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں صحت کے شعبے میں بہت تحقیق ہو رہی ہے مگر اس پر عمل درآمد کی کمی ہے، جب کہ افغانستان پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان سے بہتر کوششیں کر رہا ہے۔
ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کراچی میں ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان سے زیادہ مؤثر اقدامات کر رہا ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان ایک ساتھ پولیو کا خاتمہ کریں۔
وزیر صحت نے مزید کہا کہ پاکستان کے صحت کے مسائل کا حل ٹیکنالوجی اور موبائل فون کے استعمال میں ہے، جبکہ بڑے ہسپتال 70 فیصد مریضوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں اور پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کیئر کی کمی ہے۔
مصطفی کمال نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ہر شہری کا قومی شناختی کارڈ نمبر اب اس کا میڈیکل ریکارڈ نمبر بننے جا رہا ہے اور اسلام آباد جا کر ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈز کی رپورٹس منگوا کر اس پر عمل درآمد کرائیں گے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزارت صحت اور تعلیم کے ادارے عوام کا درد کم کرنے کی بجائے بڑھا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ فارماسوٹیکل انڈسٹری اب محفوظ ہاتھوں میں ہے، کیونکہ سی ای او ڈریپ ڈاکٹر عبید اللہ کی قیادت میں اس کا انتظام ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ چھٹی انٹرنیشنل میڈیکل ریسرچ کانفرنس کراچی کے اڈیٹوریم میں منعقد ہو رہی ہے، جس میں ڈریپ، قومی ادارہ صحت اسلام آباد اور دیگر سرکاری و غیر سرکاری اسپتالوں کے حکام شریک ہیں۔
شیئر کریں
:مزید خبریں
بہاولپور ریلوے سیکشن میں میٹریل چوری معمول، مقدمات درج، کاروائی صفر
تونسہ میں گھریلو جھگڑے پر خاوند کی مبینہ فائرنگ، 34 سالہ خاتون جاں بحق
دنیاپور:تفتیشی افسرکی ’’خدمت‘‘،مدعیہ کے بیٹے سے ٹانگیں دبوانے کی ویڈیو وائرل
خانیوال : ٹریفک قوانین کا دوہرا معیار؟ شہری کا چالان، پولیس گاڑی سڑک پر پارک
چیمبرالیکشن، فرینڈزگروپ کی شاندار کامیابی، چوہدری ذوالفقار انجم کو مبارکبادیں
زکریا یونیورسٹی ، طلبہ تنظیموں کا تصادم، فائرنگ سے سٹوڈنٹ شدید زخمی، تین گرفتار