اسلام آباد: آڈیٹر جنرل پاکستان کی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کے اکاؤنٹس کا گزشتہ 15 برس سے آڈٹ نہیں کیا گیا، جبکہ ادارے کے مالی معاملات میں کئی اہم بے ضابطگیوں کی نشاندہی بھی سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان اسپورٹس بورڈ نے مالی سال 2009-10 سے 2024-25 تک اپنے مالیاتی گوشوارے تیار نہیں کیے، جس کے باعث ادارے کے مالی ریکارڈ اور حسابات پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
آڈٹ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پی ایس بی نے ٹریژری سنگل اکاؤنٹ سے متعلق قوانین پر بھی عمل نہیں کیا۔ پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کے تحت تمام سرکاری فنڈز کو ٹریژری سنگل اکاؤنٹ میں رکھنا ضروری ہے، تاہم بورڈ نے اس کے برعکس اپنا الگ بینک اکاؤنٹ برقرار رکھا۔
رپورٹ کے مطابق 30 جون 2025 تک پاکستان اسپورٹس بورڈ کے بینک اکاؤنٹ میں 3 کروڑ 20 لاکھ 90 ہزار 591 روپے موجود تھے۔







