پالیسی نظرانداز، پابندی کے باوجود جامعات میں مستقبل بھرتیاں، اشتہار جاری

ملتان (سٹاف رپورٹر) پنجاب حکومت کے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (S&GAD) اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (HED) کی جانب سے جاری کیے گئے واضح اور تحریری احکامات کے باوجود پنجاب کی متعدد سرکاری جامعات میں مستقل (Regular) بھرتیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جو کہ حکومتی رٹ، قانونی تقاضوں اور مالیاتی نظم و ضبط کی کھلے عام خلاف ورزی ہے۔ روزنامہ قوم کو موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق 26 فروری 2026 کو S&GAD نے تمام محکموں کو ہدایت جاری کی کہ Contract Appointment Policy 2004 کے تحت نئی آسامیوں پر تقرریوں کا بنیادی طریقہ کار کنٹریکٹ ہوگا، جبکہ مستقل تقرری صرف غیر معمولی حالات میں، مقررہ قانونی طریقہ کار اور متعلقہ منظوری کے بعد ہی ممکن ہو گی۔ بعد ازاں 20 اپریل 2026 کو ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے بھی یہی ہدایات پنجاب کی تمام سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کو ارسال کرتے ہوئے ان پر “true letter and spirit کے مطابق عمل درآمد کی ہدایات جاری کیں مگر اس کے باوجود مصدقہ اطلاعات ہیں کہ بعض جامعات نہ صرف مستقل تقرریوں کے اشتہارات جاری کر رہی ہیں بلکہ ریگولر بھرتیوں کا عمل بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر یہ اقدامات مذکورہ حکومتی پالیسی اور متعلقہ قوانین کے برعکس کیے جا رہے ہیں تو اس سے نہ صرف حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کا تاثر پیدا ہوتا ہے بلکہ پہلے سے مالی مشکلات کا شکار قومی خزانے پر بھی طویل المدتی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر کسی ادارے نے متعلقہ حکومتی منظوری اور مقررہ طریقہ کار کے بغیر مستقل تقرریاں کی ہیں تو ایسے اقدامات کی قانونی حیثیت بھی سوالات کی زد میں آ سکتی ہے، اور مستقبل میں ان پر عدالتی یا انتظامی جانچ پڑتال کا امکان موجود ہے۔ تعلیمی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب حکومت، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ نگران ادارے فوری طور پر اس معاملے کی شفاف تحقیقات کرائیں، یہ واضح کریں کہ کن جامعات نے ریگولر بھرتیوں کی منظوری کس قانونی اختیار کے تحت دی، اور اگر کسی ادارے نے حکومتی ہدایات سے انحراف کیا ہے تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ سرکاری پالیسی کی یکساں عملداری یقینی بنائی جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں