ویمن یونیورسٹی، کلثوم پراچہ کی سروس بک نے راز کھول دیئے، ریٹائرمنٹ تنازع نیا رخ اختیار کرگیا

ملتان (سٹاف رپورٹر) روزنامہ قوم کی مسلسل تحقیقی خبروں کے بعد سابق پرو وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی ملتان ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اپنے مؤقف کے دفاع میں میڈیا کے ذریعے یہ دعویٰ کیا کہ وہ سال 2028 میں ریٹائر ہوں گی، اور 2026 میں ریٹائرمنٹ کی باتیں کرنے والی یونیورسٹی ٹیچرز اور آفیسر کی سویٹ ڈش قرار دے دیا۔ تاہم سرکاری ریکارڈ اور سروس بک سے سامنے آنے والے حقائق اس دعوے پر کئی نئے سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی سروس بک میں تاریخ پیدائش خود ان کے اپنے اندراج، دستخط اور دائیں ہاتھ کے پانچوں انگلیوں کے نشانات اس وقت کی وائس چانسلر کے دستخط کے ساتھ موجود ہے اور اسی مصدقہ سروس ریکارڈ کی بنیاد پر 14 نومبر 2026 کو ان کی ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق جب مجاز اتھارٹی مستند سروس ریکارڈ کی بنیاد پر ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن جاری کر دے تو اس میں تبدیلی ناممکن ہوتی ہے۔ اس پورے معاملے نے ایک مرتبہ پھر وہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ آخر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو اچانک ایسا کیا یاد آ گیا کہ وہ 2028 میں ریٹائرمنٹ کا دعویٰ کرنے لگیں، جبکہ سرکاری ریکارڈ اس کے برعکس ہے؟ اگر واقعی ماضی میں تاریخ پیدائش غلط درج ہوئی تھی تو یہ اعتراض سرکاری ملازمت شروع کرنے سے پہلے دور کروانا چاہیے تھے چاہے وہ کنٹریکٹ کی ملازمت ہو یا مستقل۔ 1982 میں میٹرک کرنے والی شخصیت کو 2014 میں 32 سال بعد اچانک اپنی تاریخ پیدائش غلط ہونے کا احساس کیوں ہوا؟ مزید حیران کن امر یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ تاریخ پیدائش میں مختلف اوقات میں 1964، 1966 اور 1968 جیسے اندراجات سامنے آئے۔ اگر مفروضے کے طور پر 1968 کی تاریخ پیدائش درست مانی جائے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ 1982 میں میٹرک کرنے کے وقت عمر صرف 14 سال بنتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ستر اور اسی کی دہائی میں، جب تعلیمی سہولیات آج کی نسبت بہت محدود تھیں، کیا واقعی اتنی کم عمر میں میٹرک مکمل کرنا ممکن تھا؟ اس معاملے میں اصل فیصلہ صرف جذبات یا بیانات سے نہیں بلکہ سروس بک جس پر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے خود دستخط اور پانچوں انگلیوں کے نشانات بھی ثبت کئے۔ اگر تمام ریکارڈ درست ہے تو پھر 2026 کی ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن اپنی قانونی حیثیت برقرار رکھتا ہے، معاملہ اب محض ایک فرد کی ریٹائرمنٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ سرکاری اداروں میں ریکارڈ کی شفافیت، قانون کی بالادستی اور احتساب کے نظام کی ساکھ کا امتحان بن چکا ہے۔ مزید برآں ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اپنی ریٹائرمنٹ کے سرکاری نوٹیفکیشن کو تسلیم کرنے کے بجائے اس تمام معاملے کا ملبہ اپنے ہی ماتحت ملازمین پر ڈالنا شروع کر دیا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے مختلف ملازمین پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں اس تنازع کا ذمہ دار قرار دینے کی کوشش کی، حالانکہ ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن کسی فرد کی ذاتی خواہش پر نہیں بلکہ سروس بک اور سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر جاری کیا جاتا ہے۔اگر سروس بک میں تاریخ پیدائش خود ملازم کے اندراج، دستخط اور انگوٹھوں یا انگلیوں کے نشانات کے ساتھ موجود ہو تو اس کی ذمہ داری ماتحت عملے پر ڈالنا نہ صرف حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا بلکہ یہ طرزِ عمل خود متعلقہ افسر کے لیے سوالات اور سبکی کا باعث بن سکتا ہے نہ کہ بغیر ثبوت ساتھی ٹیچرز اور ملازمین پر الزامات عائد کیے جائیں۔ اس حوالے سے یونیورسٹی ٹیچرز اور افسران کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو اب یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ وہ اب ان کی باس نہ ہیں بلکہ کولیگ ہیں اور نومبر میں ریٹائر ہو جائیں گی چنانچہ ان کو میڈیا میں بیان بازی اور الزامات سے گریز کرنا چاہیے۔ جبکہ دوسری جانب ان کے سیرت کانفرنس کے حوالے سے اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں پیسے منگوانے کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ جس سے یونیورسٹی کو بہت زیادہ نقصان ہوا۔ چنانچہ ٹیچرز اور افسران نے روزنامہ قوم کے توسط سے قانون اور قوائد و ضوابط پر سختی سے عمل کرنے والی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سیدہ شاہدہ بتول سے درخواست کی ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ سے سیلاب فنڈز، گرینڈ گالا اور سیرت کانفرنس میں اکٹھی کی گئی رقم واپس لی جائے جس سے یونیورسٹی کو کروڑوں کا نقصان ہوا۔ اور ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے پرائیویٹ تجربے کے سرٹیفیکیٹ کی بھی انکوائری کروائی جائے جس میں 11 سالہ تجربہ غلط لکھا تھا اور پھر جب ان کے سیلیکشن بورڈ میں پرائیویٹ تجربے کی بنیاد پر ان کو ابتدا میں نااہل کیا گیا تھا تو وہ کونسے عوامل تھے جو بعد ازاں اثر انداز ہوئے۔ اسی طرح ملازمین نے وائس چانسلر ڈاکٹر شاہدہ بتول پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو میڈیا میں انتظامیہ اور ملازمین کے خلاف بیان بازی سے روکا جائے جس سے ان کی ذاتی زندگیاں متاثر ہو رہی ہیں اور یہ بیانات علمی حلقوں میں شرمندگی کا باعث بن رہے ہیں۔یاد رہے کہ ماضی میں بھی ڈاکٹر کلثوم پراچہ اس طرح کے بیانات جاری کرتی رہی ہیں مگر اب ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ اب وہ قائم مقام وائس چانسلر نہیں بلکہ محض ایک ٹیچر ہیں۔ اور ان کا یہ عمل مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے جس میں ان پر پیڈا انکوائری بن سکتی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں