وکٹوریہ ہسپتال میں ادویات بحران، مریض مہنگی دوائیں باہر سے خریدنے پر مجبور

بہاولپور ( ڈپٹی بیورو چیف )بہاولپور کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال بہاول وکٹوریہ ہسپتال میں ادویات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ نواحی علاقوں اور دور دراز سے آنے والے مریض چارٹ پر لکھی گئی ادویات اور ہزاروں روپے مالیت کے اینٹی بائیوٹکس انجکشن باہر سے خرید کر علاج کروانے پر مجبور ہیں جبکہ ہسپتال انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔روزانہ ہزاروں کی تعداد میں مریض BVH میں علاج کے لیے آتے ہیں۔ لیکن فارمیسی کاؤنٹرز پر لائف سیونگ اور عام استعمال کی ادویات ناپید ہیں۔ ڈاکٹر مریضوں کو نسخہ تھما کر کہہ دیتے ہیں “یہ دوائی باہر سے ملے گی”۔ مریضوں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی کرائے اور ٹیسٹوں پر ہزاروں خرچ کر چکے ہیں۔ اب مہنگی دوائیاں خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔اخر غریب عوام کدھر جائیں۔میڈیکل 4میں داخل مریضہ کو اینٹی بائیوٹکس باہر سے خرید کر لگائے جا رہے ہیں جو کہ سی ایم پنجاب کے آرڈرز کی دھجیاں اڈا دی ہیں۔سرکاری ہسپتالوں میں سختی سے پنجاب حکومت کے آرڈر ہیں کہ کوئی بھی ادویات باہر سے نہیں لگے گی۔غریب عوام Meropenem انجکشن 3000 سے 6000 روپے تک خرید کر لگوانے پر مجبور لیکن ہسپتال میں موجود انجکشن غریب کی پہنچ سے بہت دور۔کیا پنجاب حکومت کی سپلائی اور فنڈذنہیں مل رہے؟ اگر مل رہے ہیں تو غریب کی پہنچ سے بہت دور۔عام مریض کا مطالبہ ہے کروڑوں کا بجٹ کہاں جاتا ہے۔شہریوں اور سماجی تنظیموں نے کمشنر بہاولپور، وزیر صحت پنجاب اور وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ BVH ادویات کی سپلائی بحال کی جائے ذخیرہ اندوزوں اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے غریب مریضوں کے لیے فری میڈیسن پالیسی پر عمل درآمد کروایا جائےشہریوں کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری ہسپتال میں ہی علاج مہنگا ہو گیا تو غریب جائے تو کہاں جائے؟جو انجیکشن اور میڈیسن سرکاری چارٹ پر لکھی گئی ہیں ڈاکٹروں نے وہی انجیکشنز اور میڈیسن پرائیویٹ میڈیکل سٹور سے منگوائی ہیں سلپیں موجود ہیں۔

وکٹوریہ ہسپتال میں مریضوں کوتجویزکی گئی باہرکی ادویات کے نسخوں کاعکس

شیئر کریں

:مزید خبریں