ملتان(قوم ریسرچ سیل)”سانپ کے منہ میں چھچھوندر، نہ نگلے نہ اگلے۔ملتان میں ہیوی نیٹ میٹرنگ کیس میں شدید کرپشن و سنگین بے ضابطگی، ایم اینڈ ٹی افسران کی نیپرا اور میپکوحکام کیساتھ مبینہ غلط بیانی، گمراہ کرنے کا انکشاف، نیپر اہیڈکوارٹرزکو ہیوی لوڈ نیٹ میٹرنگ کیس بھجواکرمنظوری ولائسنس جاری کرایااورصارف سے مبینہ طور پر دوبارہ بھاری رشوت کی ڈیمانڈ کردی۔ ڈیمانڈ پوری نہ ہونے پر اپنی ہی انسپکشن رپورٹ وکیس کوبوگس قراردے کرکنکشن رکوادیا۔اپنی ہی جاری کردہ انسپکشن رپورٹس و تیارکردہ کیس کوخود ہی بوگس قراردےدیا۔ نیپرالائسنس جاری ہونے کے باوجود8 ماہ سے کنکشن روک رکھاہے۔ ایم اینڈ ٹی کی مبینہ بوگس سائٹ چیکنگ و انسپکشن رپورٹس کے ذریعے 90 سے 180 کلوواٹ لوڈ کی منظوری کیسے لی گئی؟ ،ذرائع کے مطابق ملتان میں بہاولپورروڈپرفاسٹ سی این جی کے نام پر ہیوی نیٹ میٹرنگ کا عجیب وغریب کیس سامنے آیاہے جس میں ایم اینڈ ٹی کی سائٹ چیکنگ و انسپکشن رپورٹس پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کیس ریفرنس نمبر 27151210082606 میں مبینہ طور پر موقع پر سائٹ چیکنگ وانسپکشن کے نام پرایسی رپورٹس تیار کی گئیں جن کی بنیاد پر 90 سے 180 کلوواٹ تک لوڈ کی منظوری کا عمل آگے بڑھایا گیا، جبکہ ایم اینڈ ٹی کی رہورٹس پرمیپکو کے متعلقہ آپریشنل افسران کی جانب سے بھی کیس کی سفارشات مکمل کرکے اسے نیپرا ہیڈ کوارٹرز بھجوایا گیا۔ نیٹ میٹرنگ کیس میں سائٹ کی حقیقی صورتحال کی تصدیق اور انسپکشن رپورٹ بنیادی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اسی رپورٹ اور متعلقہ دستاویزات کی بنیاد پر کیس منظوری کے مراحل سے گزرتا ہے۔ مبینہ طور پر ایم اینڈ ٹی کی رپورٹ پر ٹیسٹ انسپکٹر ایم اینڈ ٹی اور ایکسین ایم اینڈ ٹی کے دستخط موجود ہیں، جبکہ بعدازاں متعلقہ ایس ڈی او ، ایکسین اور ایس ای آپریشن ملتان سرکل کے دستخط و سفارشات کے ساتھ کیس نیپرا کو بھجوایا گیا۔ نیپرا ہیڈ کوارٹرز نے میپکو کی جانب سے بھجوائے گئے کیس کی منظوری دے دی اور نیٹ میٹرنگ کا لائسنس جاری ہوگیا، جبکہ میٹر اور دیگر متعلقہ سامان بھی میپکو کو موصول ہوگیا۔ تاہم الزام ہے کہ صارف سے مزید رشوت بٹورنے کیلئے اس مرحلے پر اچانک یہ مؤقف اختیار کرلیا گیا کہ سائٹ ہی بوگس ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر سائٹ واقعی بوگس، غلط یا غیرموجود تھی تو پھر اسی سائٹ کی بنیاد پر ایم اینڈ ٹی کی انسپکشن رپورٹ کیسے تیار ہوئی، میپکو کے آپریشنل افسران نے کیس کی سفارش کیسے کی اور اسے نیپرا ہیڈ کوارٹرز منظوری کے لیے کیسے بھجوایا گیا؟مزید سنگین الزام یہ ہے کہ نیپرا سے منظوری ملنے کے باوجود کیس کو مبینہ طور پر کئی ماہ لٹکایا گیا اور میٹر کی تنصیب کے لیے مبینہ طور پر مزید تین لاکھ روپے رشوت طلب کی گئی۔ ذرائع کے مطابق میپکوایم اینڈ ٹی کے ایک آفیسر نے مبینہ طور پر اپنے ایک فرنٹ مین کے ذریعے رقم کی ڈیل طے کی اور یقین دہانی کرائی کہ رقم ملنے پرایک دن میں ہی میٹر میٹر نصب کردیا جائے گا۔پھنسے مجبورصارف سےڈیڑھ لاکھ روپے ایڈوانس لئے گئے لیکن کرپشن کایہ معاملہ سی ای او میپکواورچیف انجینئر سی ایس ڈی کے نوٹس میں آنے پر گھبراکررشوت کی رقم واپس کردی گئی اوررپورٹ کردی گئی جس میں سائٹ پراعتراض اٹھایاگیا۔ اس صورتحال نے ایم اینڈ ٹی کی مبینہ سائٹ چیکنگ اور انسپکشن رپورٹس کی ساکھ پر بھی سوال اٹھا دیے ہیں۔نیپرا کے ساتھ کرپشن و بے ضابطگی کا یہ سنگین مذاق ہے ؟ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر میپکو نے کسی کیس کو مکمل دستاویزات، سائٹ چیکنگ اور ایم اینڈ ٹی کی انسپکشن رپورٹ کے ساتھ نیپرا کو بھجوایا، نیپرا نے اس کی منظوری دے دی اور بعدازاں میپکو کے اندر ہی یہ مؤقف سامنے آیا کہ سائٹ بوگس ہے، تو یہ محض ایک صارف کے کیس کا معاملہ نہیں بلکہ ریگولیٹری عمل اور نیپرا کو فراہم کیا جانے والا بوگس کیس ہے۔اس صورتحال میں اگر تحقیقات سے یہ ثابت ہوجائے کہ میپکو کی طرف سے نیپرا کو غلط، جعلی یا حقائق کے منافی انسپکشن رپورٹ فراہم کی گئی تھی تو معاملہ صرف میٹر لگانے یا نہ لگانے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ نیپرا متعلقہ ریکارڈ طلب کرکے یہ جانچ کرسکتا ہے کہ درخواست میں کیا معلومات دی گئیں، کس افسر نے سائٹ کی تصدیق کی، ایم اینڈ ٹی نے کیا رپورٹ دی، آپریشنل افسران نے کس بنیاد پر سفارش کی اور نیپرا کو بھجوائی گئی معلومات اصل زمینی صورتحال سے مطابقت رکھتی تھیں یا نہیں۔اگر تحقیقات میں جعلسازی، غلط بیانی یا ضابطے کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ داران کے خلاف متعلقہ قانونی و محکمانہ کارروائی، معاملے کی دوبارہ جانچ اور جاری منظوری/لائسنس کے بارے میں ضابطے کے مطابق فیصلہ ہوسکتاہے۔ اسی طرح اگر یہ ثابت ہو کہ کسی اہلکار نے پہلے خود کیس کو درست قرار دے کر ریگولیٹر کو بھجوایا اور منظوری کے بعد رشوت کے حصول کے لیے اسی کیس کو بوگس قرار دے کر روک دیا تو اس پہلو کی بھی الگ سے تحقیقات ضروری ہیں۔میپکو کے اندرونی کنٹرول پر بھی سوال اس معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر سائٹ واقعی بوگس تھی تو ایم اینڈ ٹی کی انسپکشن رپورٹ کس بنیاد پر تیار ہوئی؟ اگر رپورٹ درست تھی تو بعد میں سائٹ کو بوگس قرار دینے کی وجہ کیا بنی؟ اور اگر میپکو کے افسران کو سائٹ کے جعلی ہونے کا علم تھا تو کیس نیپرا کو منظوری کے لیے کیوں بھجوایا گیا؟عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ دونوں کیسز کی غیرجانبدارانہ تھرڈ پارٹی فزیکل انسپکشن کرائی جائے، ایم اینڈ ٹی کی اصل سائٹ چیکنگ رپورٹ، تصاویر، معائنہ ریکارڈ، دستخط شدہ دستاویزات، میپکو کی سفارشات اور نیپرا کو بھجوائی گئی مکمل فائل کا تقابلی جائزہ لیا جائے۔ اس کے علاوہ مبینہ طور پر اڑھائی لاکھ روپے کی ڈیل کے الزام کی بھی تحقیقات کی جائیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ایک ہی کیس کو پہلے مکمل قرار دے کر نیپرا سے منظوری حاصل کی جائے اور سامان آنے کے بعد اسے بوگس قرار دے کر مزید رقم طلب کی جائے تو یہ معاملہ نیٹ میٹرنگ کے نظام کی شفافیت کے ساتھ ساتھ نیپرا اور میپکو دونوں کے ریگولیٹری و انتظامی نظام پر اعتماد کا بھی سوال بن جاتا ہے۔ مذکورہ الزامات کی آزادانہ سرکاری تحقیقات ہونا ابھی باقی ہے، تاہم متعلقہ ریکارڈ اور سائٹ کے موقع پر معائنے سے اصل صورتحال واضح ہوسکتی ہے بہرحال یہ صورتحال پیداہوچکی ہے کہ ایم اینڈ ٹی میپکوافسران نے ایسا فیصلہ کر لیا کہ اب وہ سانپ کے منہ میں چھچھوندر بن گئے ہیںنہ فیصلہ واپس لے سکتے ہیں اورنہ ہی اسے درست ثابت کر سکتے ہیں۔اس حوالے سے موقف کیلئے میپکوکے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنزسے فون پر رابطہ کی کوشش کی گئی مگر وہ رابطے میں نہ آسکے۔فون اٹینڈ نہ ہوسکا۔
MEPCO, MEPCO Corruption, Net Metering Scam,







