ملتان(وقائع نگار)نشتر ہسپتال ملتان میں تبادلوں کا قانون دفن کلرکوں کا راج قائم چہیتے کلرک کئی سالوں سے پرکشش سیٹوں پر قابض افسران کی ناک کے نیچے پیسے لیکر کام کروانے کا دھندا جاری زرائع کا کہنا ہے کہ نشتر ہسپتال ملتان میں کلرکوں کی اجارہ داری قائم ہے۔ کلرک محسن خان ،نرسنگ آفس ،منور حسین اکاؤنٹس آفس،پیشنٹ کلرک شاہد ،شعبہ پرچیز میں راؤ کامران سکیل ایک کا ملازم ہے سپرنٹینڈنٹ پرچیز کی سیٹ پر تعینات ہے یہ ملازمین کئی کئی سالوں سے پرکشش سیٹوں پر براجمان ہیں اور کوئی بھی افسر انہیں تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں ذرائع کے مطابق سرکاری رولز کے مطابق ہر تین سال بعد ملازمین کی سیٹ تبدیل کی جاتی ہے لیکن نشتر ہسپتال میں یہ قانون صرف کاغذوں تک محدود ہے جسکی وجہ سے یہ سوال اٹھنے لگے ہیں کہ اہم اور آمدن والی سیٹوں پر مخصوص کلرک ہی برسوں سے قابض کیوں ہیں ہسپتال کے دیگر محکموں میں بھی یہی صورتحال ہے افسران کی ملی بھگت یا بے بسی کے باعث تبادلوں کا نظام مکمل طور پر فلاپ ہو چکا ہے ملازمین اور مریضوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ایک ہی جگہ پر سالوں تک تعیناتی کے باعث کرپشن اور سفارش کلچر کو فروغ ملا ہے۔ اس بارے میں ایم ایس نشتر ہسپتال ڈاکٹر راؤ امجد علی خان نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کو ضرور دیکھیں گے اور اگر کسی بھی ساحل سے کوئی بھی دفتری اہلکار ان کے کام کے سلسلہ میں پیسے مانگتا ہے یا ان کے کام بلاوجہ روکتا ہے تو میرے دروازے ہمہ وقت کھلے ہیں وہ مجھے آکر اپنی شکایت درج کروائیں تاہم جلد ہی وہ ایسے ملازمین کے تبادلے بھی شروع کریں گے جو کئی کئی سال سے ایک کی سیٹ پر کام کر رہے ہیں۔







