ملتان (قوم ریسرچ سیل)میپکومیں بجلی چوری کیسزمیں ’’ ڈیل‘‘سسٹم ،میپکوافسروں واہلکاروں کی’’کمائی‘‘ کابڑاذریعہ، نیچے سے لے کراوپرتک کرپشن ،افسران تودورمتعددمیٹرریڈرزاورلائن مین بھی لگژری گاڑیوں کے مالک، کرپٹ افسروں نے فرنٹ مین پھیلادئیے۔رشوت کے ریٹس مقرر،کھلم کھلاکرپشن، متعددافسروں واہلکاروں نے کروڑوں روپے کے اثاثے،بے نامی جائیدادیں بنالیں۔میٹر ریڈر سے ایس ڈی اواورایکسین تک” مک مکا”میں ملوث، ایف آئی آر سے جرمانہ بل تک ہر مرحلے پر ڈیلنگ کے الگ الگ ریٹس مقرر،بجلی چوروں کوچھوڑنے کامحکمے کاشدیدنقصان عام بے قصورصارفین سے پوراکرنے کاانکشاف،کرپشن کے” حمام میں سب ننگے”ذرائع کا خوفناک انکشاف،بتایاگیاہے کہ ملتان سمیت میپکو ریجن میں بجلی چوری کے کیسز مبینہ طورمختلف افسران و ملازمین کی غیر قانونی آمدن کا بڑا ذریعہ بننے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق بجلی چوری پکڑے جانے کے بعد صارف کو قانونی کارروائی سے بچانے، ایف آئی آر رکوانے اور جرمانہ بل کم کرانے کے لیے مختلف سطحوں پر ’’ڈیل‘‘ کی جاتی ہے، جس کے باعث قومی خزانے اور میپکو کو بھاری مالی نقصان پہنچتا ہے۔مختلف کیسز میں ابتدائی سطح پر متعلقہ میٹر ریڈر مبینہ طور پر موقع پر ہی معاملہ طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جہاں مبینہ طور پر ڈیل 20 ہزار روپے سے شروع ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں چیکنگ کے دوران میٹر انسپکٹر (ایم آئی) کی سطح پر مبینہ ڈیلنگ کا سلسلہ جاری رہنے اور اس کی رقم کم از کم 30 ہزار روپے سے شروع ہونے کی اطلاعات ہیں۔ذرائع کے مطابق جب بجلی چوری کا کیس سب ڈویژن تک پہنچتا ہے تو متعلقہ میٹر انسپکٹر کے ساتھ ایس ڈی او کی سطح پر بھی مبینہ طور پر ڈیلنگ کی کوشش کی جاتی ہے، جس میں بجلی چوری کا کیس ختم یا کارروائی محدود کرنے کے عوض رقم 50 ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے و اس سے زائد تک پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ بجلی چوری کی فیلڈچیکنگ کے دوران ٹریس ہونے والے کیسز جب متعلقہ واٹس ایپ گروپس میں شیئر ہوتے ہیں تو بجلی چورصارفین کے ساتھ مبینہ طور پر ایف آئی آر درج نہ کرانے کی ڈیل کی جاتی ہے، جس کی رقم بھی تقریباً 50 ہزار روپے سے شروع ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ اسی طرح ڈیٹیکشن/جرمانہ بل میں مبینہ کمی کے لیے بجلی چوری کے یونٹس اور کیس کی نوعیت کے مطابق الگ الگ رقم طے کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔بعض بھاری نوعیت کے کیسز میں مبینہ طور پر ایک لاکھ روپے یا اس سے زائد رقم کے عوض صارف کو قانونی کارروائی، ایف آئی آر یا بھاری جرمانے سے بچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مختلف عناصر مبینہ طور پر ٹاؤٹوں کے ذریعے متعلقہ افسران پر اثرانداز ہو کر کیس ختم یا کمزور کرانے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ بیشتر معاملات میں ایف آئی آر رکوانے یا جرمانہ بل کم کرانے کے انکشافات بھی سامنے آئے ہیں۔ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بجلی چوری کیسز میں مبینہ کرپشن کا یہ سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے اور بیشتر میٹر ریڈرز، میٹر انسپکٹرز سمیت دیگر اہلکاروں کے بارے میں کروڑوں روپے کی مبینہ غیر قانونی کمائی اور اثاثے بنانے کی اطلاعات موجود ہیں۔ تاہم شکایات کی محدود تعداد میپکو اتھارٹی تک پہنچنے اور ان میں سے بعض پر ہی کارروائی ہونے کے باعث مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر ہونے والی کرپشن سامنے نہیں آ پاتی۔ذرائع نے مختلف یونین عہدیداران کے بھی مبینہ طور پر ایسے معاملات میں کردار کا دعویٰ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض ایکسین، ایس ڈی اوز اور دیگر افسران و ملازمین انتہائی دیانت داری سے فرائض انجام دے رہے ہیں اور بجلی چوری و کرپشن کے خلاف کارروائی میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔اہم تکنیکی پہلو یہ ہے کہ بجلی چوری کے کیس میں مبینہ ڈیلنگ کا براہِ راست مالی بوجھ صرف میپکو تک محدود نہیں رہتا بلکہ چوری شدہ یونٹس کی ریکوری متاثر ہونے کی صورت میں لائن لاسز، ڈیٹیکشن بلنگ اور ریونیو شارٹ فال کا بوجھ بالآخر دیگرعام صارفین پر منتقل کردیاجاتا ہوتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف علاقوں میں مبینہ طور پر بجلی چوری سے ہونے والے نقصانات پورے کرنے کے لیے بے قصور صارفین پر بھاری ڈیٹیکشن بل عائد کیے جانے کی شکایات بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔عوامی و صارفین حلقوں نے چیف ایگزیکٹو آفیسر میپکو سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی چوری کیسز میں مبینہ ڈیلنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ کی جائے، ہر چیکنگ کیس کا ڈیجیٹل ٹریل محفوظ کیا جائے، موقع کی تصاویر، میٹر ریڈنگ، میٹر کی حالت، ڈیٹیکشن یونٹس اور ایف آئی آر کی کارروائی کو مرکزی نظام سے منسلک کیا جائے تاکہ کسی بھی مرحلے پر ریکارڈ میں ردوبدل یا غیر قانونی سمجھوتے کی گنجائش نہ رہے۔عوامی حلقوں نے ایف آئی اے، پاور ڈویژن اور دیگر متعلقہ اداروں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ مشتبہ افسران و ملازمین کے اثاثوں، طرزِ زندگی اور آمدن و اخراجات میں ممکنہ تضاد کی آزادانہ چھان بین کی جائے اور شواہد ملنے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے کیونکہ کئی ملازمین کرپشن کی کمائی سے لگژری گاڑیوں کے مالک ہیں اوران کی گاڑیوں کاخرچہ ان کی ماہانہ تنخواہ سے بھی زیادہ ہے۔اس حوالےسےرابطہ کرنے پر میپکو حکام نے بتایا کہ بجلی چور کو چھوڑنے، کرپشن یا کسی صارف کے ساتھ غیر قانونی ڈیلنگ کا کوئی کیس سامنے آئے تو متعلقہ افسر یا ملازم کے خلاف محکمانہ قواعد کے تحت سخت کارروائی کی جاتی ہے۔ حکام کے مطابق مختلف کیسز میں ملازمین کی برطرفیاں بھی کی جا چکی ہیں۔







